بھارتی فلموں میں مسلمانوں کی کردار کشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بھارت میں 2014 کے بعد جب سے بی جے پی کے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں تب سے بھارت کا مین سٹریم میڈیا عمومی طور پر جبکہ بالی وڈ خاص طور پر بی جے پی کے ایجنڈے پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ ایک وقت تھا جب بالی وڈ کی پہچان انڈیا کے سیکولر چہرے کے طور پرتھی جس کی توجہ رومانوی کرداروں، سماجی اقدار، لڑائی جھگڑوں، معاشرتی برائیوں، طنزومزاح اور تجسس سے بھرپور فلموں جیسی انٹرٹینمنٹ پر مرکوز ہوتی تھی۔ لیکن پچھلے سات سالوں میں جب سے نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں تب سے بالی وڈ کی پہچان تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان مخالف بیانیے پر پراپیگنڈہ فلمیں تو اس دور سے پہلے بھی بنتی تھیں لیکن ان فلموں میں پاکستان کا ذکر کھلے الفاظ کے بجائے ڈھکے چھپے اور دبے الفاظ میں کیا جاتا تھا لیکن نریندر مودی کے دور میں پاکستان مخالف بیانیے کوایک خاص اور اہم ایجنڈے کے طور پر بطور خاص بالی وڈپراپیگنڈہ مشینری کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سے قبل عمومی طور پر مسلمانو ں کے خلاف فلمیں بنائی جاتی تھیں لیکن بی جے پی کے اس دور اقتدار میں نہ صرف بھارتی مسلمانوں کو دہشتگرد یا دہشتگردوں کے معاون کے طور پر دکھا کر خاص نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ عالمی طور پر بھی مسلمانوں کو دہشت گرد، شدت پسند اور دہشت گردوں کے سہولت کار جیسے منفی کرداروں میں دکھایا جاتا ہے جو کہ اسلاموفوبیا کے عالمی ایجنڈے کو مزید تقویت دینے کا باعث بن رہا ہے۔

اسی طرح سے بھارتی مسلمانوں کو بھارت کے بڑے شہروں میں ہونے والی منشیات فروشی، ماضی میں ہونے والی گینگ وار اور انڈر ورلڈ کے اہم کردارو ں کے طور پر اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے گویا کہ بھارت میں تمام معاشرتی برائیوں کی ذمہ دار صرف مسلمان کمیونٹی ہے جبکہ اس طرح کے موضو عات پر بننے والی فلموں میں بھارت میں ہونے والے بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں بھی مسلمانوں کو ہی ملوث دکھایا جاتا ہے۔

اس تمام تر عرصے میں بالی وڈ پر ہندو انتہاء پسندانہ سوچ کا گہرا عکس دکھائی دیتا ہے جس کا واضح ثبوت ہندوستان کی تاریخ میں نمایاں اور تاریخی مسلمانوں کردارو ں کو متناز عہ بنا کر پیش کیا جانا ہے۔ ایسی فلموں میں جہاں تاریخی مسلمان کرداروں کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو وہیں ہندو مہاراجاؤں اور حکمرانوں کو بہادر، دلیر اور غیرت مند کرداروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان فلموں میں پچھلے ایک ہزار سال میں ہندوستان میں حکومت کر نے والے مسلمان کردارو ں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے کبھی تو علا الدین خلجی کی کردار کشی کی جاتی ہے تو کبھی احمد شاہ ابدالی کو سفاک اور جابر جبکہ نظام دکن کو بزدل کردار میں دکھایا جاتا ہے غرض کہ مسلم اکابرین کو جس کردار میں بھی پیش کیا جاتا ہے وہ ہر لحاظ سے منفی ہی ہوتا ہے۔

جب سے بی جے پی 2014 کے بعد سے اقتدار میں آئی ہے تب سے بالی وڈ میں ایک نئے ٹرینڈ نے جنم لیا ہے جس کے تحت بدنام زمانہ ہندو انتہاء پسند لیڈروں کو رول ماڈل، بہترین، آئیڈیل اور ہیرو کے کردار میں پیش کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں کچھ سال قبل بالی وڈ میں ایک ایسی فلم منظر عام پر آئی جو کہ بد نام زمانہ ہندو انتہا ء پسند لیڈر اور شیو سینا کے بانی بال کیشیو ٹھاکر ے کی بائیوگرافی پر مبنی تھی جبکہ یہ فلم بال ٹھاکرے کے نام سے ہی منسوب کی گئی ہے۔

اس فلم میں بال ٹھاکرے کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس میں اس کی مسلمانو ں سے نفرت کی وجوہات کو خوب صورت لبادے اوڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ اس فلم میں بال ٹھاکرے کی مسلمانوں سے دشمنی کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ اس کو ہر حال میں درست ثابت کیا جا سکے اور ہندوستان سے باہر بال ٹھاکرے کے منفی کردار کے تاثر کو زائل کیا جا سکے۔ اس طرح کی فلموں میں انڈیا کو ایسے معاشرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس میں اس طرح کے ہندو شدت پسند اور انتہاء پسند کرداروں کو نجات دہندہ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

اسی طرح سے حال میں ہی بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر دامودرداس مود ی کی زندگی پر مبنی فلم کا ٹریلر جاری کیا گیا ہے جو کہ نریندر مودی کی سیاسی جدوجہد اور بائیو گرافی پر مبنی ہے اور یہ فلم بھی نریندر مودی کے نام سے ہی منسوب کی گئی ہے۔ ایسی فلموں کے بنانے کا مقصد ان شخصیات جیسی انتہاء پسندانہ سوچ کو انڈین معاشرے میں نہ صرف فروغ دینا ہے بلکہ رول ماڈل کے طور پر پیش کر کے ان افراد جیسی سوچ کو پروان چڑھانا ہے جس کو بنیاد بنا کر وہ اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہوتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر بھارت میں ہندو انتہاء پسندی اور شدت پسندی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں ایک بڑا اور واضح اضافہ ہو رہا ہے۔

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بھارت بہت تیزی سے اپنی سیکولر شناخت کو کھو رہا ہے۔ بی جے پی اور بالی وڈ غیر سرکاری اور غیر علانیہ طور پر دنیا بھر میں بھارت کی ایک ہندو ریاست کے طور پر پہچان بنا رہے ہیں اور بھارت کو دوبارہ سے اکھنڈ بھارت بنانے کی کاوشوں میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت کو سیکولر ریاست سے ہندو ریاست کی شناخت دلوانے کی کوششوں میں بھارتی میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، جبکہ اس میں بھی بالی وڈ کلیدی کردار ادا کر رہی ہے جو نہ صرف بھارت میں بلکہ بیرونی دنیا میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہے اور آر ایس ایس، شیو سینا، ویشوا ہندو پریشد اور ان جیسی دیگر ہندو شدت پسند تنظیموں کو خوب صورت لبادے میں لپیٹ کر پیش کر رہی ہے۔ ہندو انتہاء پسندی اور شدت پسندی کے فروغ کے ساتھ نہ صرف بھارت کا سیکولر چہرہ مسخ ہور ہا ہے بلکہ بھارت میں موجود مسلمانو ں سمیت دیگر اقلیتوں کے لیے بھی زمین ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ سے تنگ تر ہوتی جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply