EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جزوقتی استاد کی فارن کوالیفکیشن بلال گنج کیسے پہنچی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’کومک ریلیف‘کا  لفظی ترجمہ ہوگا ’المیہ ڈرامے میں مسخرے پن کا وقفہ‘ جس کا مقصد ناظرین کو چند گھڑیوں کے لئے ماحول کی سنگینی سے نجات دلانا ہوتا ہے۔ مَیں بھی کووڈ کی یلغار کا اثر کم کرنے کی خاطر آپ کی انٹرٹینمنٹ کا سامان چاہتا ہوں۔ وہ یوں کہ جن لوگوں نے 1970 ء کی دہائی میں تعلیم مکمل کی اُن میں سے کئی ایک نے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ انگریزی ادب میں ایم بی بی ایس کیا تھا۔ دو برس کا ایم اے پانچ سالہ منصوبے میں کیسے بدل گیا؟ اِس انقلابی تبدیلی کو ممکن بنانے میں میری کام چوری کی عادت کو بس واجبی سا دخل ہے۔ وگرنہ تازہ کورونا لہر کی طرح اِسی مارچ کے مہینے میں سقوط ِ ڈھاکہ کی شروعات ہوئیں اور کھُلتے، بند ہوتے کالجوں یونیورسٹیوں کے طویل دورانیہ میں جب آخر کار ’شو‘ کا پردہ گرا تو پردے کی آڑ میں ایک شارٹ بریک کے بہانے امتحانوں کی بساط سمیت بہت کچھ لپیٹا جا چکا تھا۔

معرفت کے رنگ میں رنگے ہوئے اِس ابتدائیہ کے ساتھ ایک حکیمانہ نکتہ اور بھی سُن لیں۔ نکتہ یہ کہ اُس دَورِ زوال میں باضابطہ فیل ہوئے بغیر اِس کالم نویس نے نصف درجن اداروں میں جو اعلی تعلیم پائی اُسے بارہ، چودہ اور سولہ جماعتوں والے ’پینڈو‘ پیمانے پہ نہیں ناپا جا سکتا۔ اِس ریاضیاتی معمہ کی پیچیدگی کا اندازہ یوں لگائیں کہ اُنہی دنوں میرے ایک ہم عمر دوست کی والدہ سے کسی نے پوچھا:”آپ کا بڑا بیٹا خیر سے انجنئیرنگ کے کون سے سال میں ہے۔“ جواب ملا: ”پڑھائی کے لحاظ سے دوسرے سال میں اور خرچہ کے اعتبار سے چوتھے برس میں۔“ خود مَیں ایم اے کے داخلہ سے لے کر فائنل رزلٹ تک ساری تاخیر کا حساب چُکا بھی دوں تو نیب والے یہ پوچھ کر پھر لاجواب کر دیں گے کہ تمہارے دو سالہ ایل ایل بی سیشن کا باضابطہ آغاز 1973 ء سے ہے تو تکمیل کا سال 1979 ء کیونکر ٹھہرا۔

ڈگریوں کی اِس گھپلے بازی نے ولایت میں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔ چنانچہ اگر یہ دعوی کیا جائے کہ لندن کے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف لنگوسٹس سے ایم سی آئی ایل کی سند پاکستانیوں میں سب سے پہلے مجھے ملی تو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سوا سبھی کے کان کھڑے ہو جائیں گے۔ کمیشن کے کان صرف تعلیمی ڈگریوں پہ کھڑے ہوتے ہیں، پیشہ ورانہ اسناد کا سُن کر نہیں۔ پھر بھی کانوں کی بے رغبتی سے کوئی ’بریکنگ نیوز‘ اس لئے نہیں نکلتی کہ مَیں بجائے خود ہائر ایجوکیشن کمیشن، پیمرا اور انٹیلی جنس بیورو جیسے احتسابی اداروں کے ہر اعتراض سے پیشگی متفق ہوں۔ وجہ یہ کہ میرے اِس رویہ سے آئی ایم ایف کے پنجے میں جکڑی ہوئی اسلامی جمہوریہ کو مالی آسودگی مِل سکتی ہے۔ دیکھیے نا، استغاثہ اور صفائی دونوں وکالت نامے ایک ہی ہاتھ میں ہوں تو عدالت کے لئے انصاف دہلیز تک پہنچانے کا خرچہ تو کم ہو گا ہی۔

 بہرحال، جس طرح کئی سول افسر ریٹائر منٹ ہو جانے پر لوگوں کو اپنا سابق رتبہ ایک رینک بڑھا کر بتاتے ہیں، بالکل اُسی جذبہ سے ایک ’پاٹے پرانے‘ اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر چالیس سال سے ایک عجیب حرکت کر تا آ رہا ہوں۔ وہ یہ کہ جہاں کہیں دو، چار پڑھے لکھے بندے دیکھے، اپنی غیر ملکی ’پوسٹ گریجویٹ کوالیفکیشن‘ کا شوشہ چھوڑ دیا۔ اب ایک تو مَیں (جب تک بولنے سے اجتناب کروں) دیکھنے میں قابل آدمی لگتا ہوں۔ دوسرے جزوقتی استاد سے یونیورسٹی میں کسی کی ’ڈِین توپ‘ کو خطرہ بھی نہیں ہوتا (یہ لفظ ’ڈین‘ کا پشتو حاصل مصدر ہے)۔ سو، کسی نے کبھی نہیں پوچھا کہ کوالیفکیشن کے نام پر یہ کیا تھیٹر لگا رکھا ہے۔ ریکارڈ کی درستی کی خاطر بلال گنج کی زبان میں یہ جسارت کی جا سکتی ہے کہ شروع میں تو یہ فارن کوالیفکیشن سو فیصد ’جینئین‘ تھی، اب بار بار استعمال سے گھِس ِ گئی ہے۔

 یہاں یہ راز افشا کرنے کی بھی اپنی لذت ہے کہ نارتھ ویلز میں جہاں مجھے پوسٹ گریجویشن کرنے کا اعزاز ملا وہ ادارہ خود یونیورسٹی بن جانے کے سبب برطانوی منظر نامہ سے اب بطور کالج ’قیں‘ ہو چکا ہے۔ نئی یونیورسٹی کا طالب علم میں تھا ہی نہیں، پرانی یونیورسٹی آف ویلز سے اب اِس کا الحاق رہا نہیں۔ لہذا سند کی تصدیق کرانی پڑے تو کس سے رجوع کروں؟ ایک ہینڈ انٹر میڈیٹ میں ہوا جب ثانوی تعلیمی بورڈ لاہور کی کوکھ سے پنجاب کے پہلے غیر لاہوری بورڈ نے شاہینوں کے شہر سرگودھا میں جنم لیا تھا۔ اُن دنوں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ بورڈ کے برآمدوں میں رکھے ہوئے حل شدہ پرچے بارش میں دُھل گئے ہیں اور اندازے سے نمبر لگائے جا رہے ہیں۔ کوئی تیس سال گزر جانے پر سرگودھا بورڈ کے اولین سیکرٹری راجہ غالب سے سرسری ذکر ہوا تو مسکرا کر کہنے لگے:”ہو سکتا ہے آپ کی اطلاع درست ہو۔“

 سچ پوچھیں تو امتحانوں کے رَولے سے جانبر ہو کر تعلیم و تدریس کے اُس ’خانقاہی‘ نظام نے مجھے حفاظتی حصار میں رکھا ہوا ہے جس کی ترغیب سیالکوٹ میں میرے بی اے کے استاد اور منفرد پنجابی شاعر زمرد ملک نے اپنی چائے ٹیکنالوجی کے زور پہ دی تھی۔ پہلے ہی دن فرمایا: ”آپ دس سال بھی فیل ہوتے رہیں تو میں مائینڈ نہیں کروں گا، مگر مجھے یہ ہرگز پسند نہیں کہ میرا شاگرد نالائق ہو“۔ اسی لیے جب میرے ایک بڑے کزن، جو یہ پتا چلانا چاہتے تھے کہ لڑکا کیسا چل رہا ہے، میری غیر حاضریوں کے بارے میں ایک اور پروفیسر کی شکایت لے کر زمرد ملک کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ میاں صاحب، مَیں شاہد کو ایک دن میں سیدھا کر دوں گا۔ البتہ مجھے علیحدگی میں یہ کہہ کر تسلی دے دی کہ کلاسوں میں جا کر بور ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی، کینٹین میں میری باتیں سُنتے رہو اور خود ہی پڑھ لیا کرو۔“

 وہ دن اور آج کا دن، مجھے استادوں میں وہی اہلِ طریقت اچھے لگے جو تبلیغ سے زیادہ تواضع کے مسلک پہ چلتے آئے ہیں۔ اگر ماضی میں انہی اساتذہ کی اکثریت ہوتی تو حکیم الامت لاہور میں ایف ای ایل کا امتحان دیتے ہوئے ’اسلامک جورسپروڈنس‘ میں فیل نہ ہوتے، نہ بانیء پاکستان کو بیرسٹری سے پہلے کراچی اور بمبئی میں اسکول بدلنے پڑتے۔ تو کیا آج بھی ممکن نہیں کہ تدریسی جغادری اپنی تخلیقی طاقت کا مظاہرہ کلاس روم میں زیادہ کریں اور ایگزامینیشن ہال میں کم؟ ٹھیک ہے اقبال نے ’بر تر از اندیشہء سود و زیاں‘ والی نظم میں ’قلزمِ ہستی‘ کو ’زیاں خانے‘ اور زندگی کو ’امتحاں‘ سے تشبیہ دی تھی۔ لیکن یہ بھی سوچیں کہ کووڈ کی تعلیمی رخنہ اندازیوں کے ہوتے ہوئے غیر شاعرانہ مڈ ٹرم ٹیسٹ، روح فرسا کوئز اور خونخوار فائنل پراجیکٹ انسانی آزمائشوں کے عظیم تر تماشے میں کہیں محض ’کومک ریلیف‘ کا وقفہ تو نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے