لکیر کھنچنا کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حالیہ سینیٹ انتخابات سے جمہوری اقدار بُری طرح پامال ہوئی ہیں۔مقامِ افسوس ہے کہ جمہوریت کی عزت پر وار خود کو جمہوری و سیاسی کہنے والوں کی جانب سے کیے گئے ہیں ۔یوسف رضا گیلانی کا سینیٹر بننا،صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ بننا اور پھر یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننا ،سب کا سب غیر جمہوری انداز سے ہوا۔

ہر طرف سے اپنی اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے جو حربے استعمال کیے گئے ،وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری سیاسی پارٹیوں کا محض ایک ہی بیانیہ ہے ،جس کو ’’جیت کا بیانیہ‘‘کہا جاسکتا ہے۔جیت ضروری ہے چاہے اُس کے لیے جو بھی انداز اور طریقہ کار استعمال کیا جائے۔ہماری سیاسی پارٹیاں تاحال یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سیاسی عمل میں ’’جیت‘‘ہی ضروری نہیں ہوتی ،بلکہ جمہوری عمل میں استحکام اور جمہوری اقدار کا پروان چڑھنا ضروری ہوتا ہے۔لیکن ہماری سیاسی پارٹیاں ہر موقع پر جیت کو یقینی بناتی ہیں ،چاہے جمہوری عمل کمزور اور اقدار پامال ہوجائیں ۔

یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننا ،پیپلزپارٹی کے لیے کتنی بڑی جیت ہوسکتی ہے؟اب جب اِن کا اپوزیشن لیڈر بن گیا ہے تو اس سے پیپلزپارٹی کی سیاست اور جمہوری عمل کو کتنا بڑا فائدہ پہنچے گا؟یہ جیت ایسی نہیں تھی کہ جس کے لیے حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے سینیٹرز کی مدد لینا پڑگئی۔اس عمل سے جہاں پیپلزپارٹی کا امیج خراب ہوا ہے وہاں حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔

آصف علی زرداری جنھیں سیاست کا اِمام سمجھا جاتا ہے ،اس فیصلے سے پیپلزپارٹی کو اُس مقام پر لے آئے،جہاں محض رُسوائی کے اور کچھ نہیں نیزاِمامِ سیاست نے اپنی اگلی نسل کو اشتعال انگیزسیاست کے حوالے کردیا ہے۔یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ اپوزیشن لیڈر بنانے کے فیصلے کے ساتھ ہی مریم نوا زاور بلاول بھٹو زرداری کے مابین تعلقات بگڑنا شروع ہوگئے تھے،جو مزید بگڑتے چلے جائیں گے۔اگر دونوں بڑی پارٹیاں نوے کی دہائی کی سیاست پر اُتر آتی ہیں تو اس بار ’’اعزاز‘‘پیپلزپارٹی کوجائے گا۔آصف علی زرداری ایک غلطی پے درپے یہ کررہے ہیں کہ بلاول کو فیصلوں کے اختیار سے دُور کرتے چلے جارہے ہیں ،جبکہ بلاول کے مقابلے میں مریم نواز فیصلوں میں بڑی حد تک آزاد دکھائی دیتی ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ دِنوں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک موقع پر کہا کہ ’’کسی موقع پر میاں صاحب یا فضل الرحمن نے میرے والد کو نہیں کہا کہ ہم اس اُمیدوار کے لیے سیٹ چاہتے ہیں‘‘یہاں بلاول خود تسلیم کررہے ہیں کہ ہر فیصلہ اُن کے والد کرتے ہیں ،یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ اُن کا اپنا نہیں ہے۔جبکہ دوسری طرف مریم نواز کے آزادانہ فیصلوں کا معاملہ یہ ہے کہ پی پی پی ہی کے رہنما اعتزاز احسن کے مطابق’’مریم نواز کو جلد بڑے اختیارات اور شہرت مل گئی ہے۔

پی ڈی ایم پر مریم نواز کا بیانیہ حاوی ہے‘‘اعتزااحسن کا یہ اعتراف کہ پی ڈی ایم پر مریم کا بیانیہ حاوی ہے ،مریم کو بااختیار ثابت کرتا ہے۔یہ طے ہوچکا ہے کہ اس ملک کی قسمت کے فیصلے اب نئی نسل کے سیاسی رہنمائوں نے کرنے ہیں،نئی نسل کو اپنے سینئر ز کی رہنمائی ضرور درکار ہوتی ہے لیکن اگر سینئرز اِن کے ہاتھ باندھ لیں تو مناسب نہیں۔

پی ایم ایل این کی سینئرقیادت کو یہ بات سمجھ آگئی ہے ،جبکہ پیپلزپارٹی کا محور آج بھی آصف علی زرداری ہیں۔ سینیٹ انتخابات نے جہاں پی ڈیم ایم اتحاد کو کمزور کیا ہے وہاں اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے اہم میٹنگز میں ہونے والی باتیں ٹی وی ٹاک شوز کے ذریعے باہر آرہی ہیں ،ٹی وی اینکرز بغیر مہارت کے دونوں جماعتوں کے رہنمائوں سے باتیں ’’اُگلوانے‘‘میں کامیاب ہورہے ہیں ،ایک ہی ٹی وی شو میں کچھ باتیں چودھری منظور بتادیتے دیتے ہیں تو کچھ رانا ثنا ء اللہ سامنے لے آتے ہیں۔

اِ ن رہنمائوں کی جانب سے کی جانے والی باتوں سے پی ڈی ایم تحریک کی غیر سنجیدگی کھل کر سامنے آرہی ہے۔پی ڈی ایم تحریک جو ستمبر دوہزار بیس میں شروع کی گئی تھی ،ایسی کھوکھلی بنیادوں پر اُستوار کی گئی کہ جس کا ایجنڈا لانگ ٹرم تھا ہی نہیںنیز یہ کہ اتحاد میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کے مابین اہم نکات پر اتفاق ہی نہیں تھا۔پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی حکومت کو برقراررکھنے کی پالیسی پرگامزن دکھائی دی،تاکہ اس حکومت کے قیام کے اندرسے فوائد اُٹھائے جائیں جبکہ پی ایم ایل این ہر صورت حکومت کوچَلتا کرنا چاہتی تھی۔

پیپلزپارٹی پنجاب میں بزدار حکومت کی تبدیلی کی خواہاں تھی جبکہ پی ایم ایل این ایسا نہیں چاہتی تھی۔ اس سارے عمل میں مثبت پہلو مریم نواز کے ایک بیان کی صورت سامنے آیا۔مریم کے مطابق’’ مجھے خوشی ہے کہ لکیر کھنچ گئی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ صف بندی ہوگئی ہے‘‘یہ صف بندی ضروری ہے۔سیاسی جماعتوں کا بیانیہ غیر مبہم اور واضح ہونا ازحد ضروری ہے۔جب تک لکیر نہیں کھنچے گئی ،جب تک صف بندی نہیں ہوگی کہ کون کیا ہے اور کس طرف ہے؟

جمہوری اقدار پنپ نہیں سکیں گی۔علاوہ ازیں جب تک لکیر نہیں کھنچے گئی ،عوام کا اعتماد سیاسی جماعتوں پر بحال نہیں ہوگا۔سیاسی جماعتوں نے اپنے مبہم اور غیر واضح بیانیوں سے عوام کے اعتماد کو ہمیشہ متزلزل کیا ہے۔اگر سیاسی جماعتیں کوئی بڑا نعرہ لگائیں یا مروجہ حالات وواقعات سے انحراف کا راستہ اختیار کریں تو عوام کی اکثریت یہ کہتی پائی جاتی ہے کہ جب مقصد پورا ہوجائے گاتو یہ اپنی پہلی حالت میں واپس آجائیںگی۔

اگر سیاسی جماعتوں کے رہنما کوئی بڑی قربانی دے بھی ڈالیں تو عوام اس قربانی کو کسی ایجنڈے اور مقصد کا حصہ گردانتے ہیں۔عوام کی بداعتمادی کے خاتمے کے ساتھ جمہوری کلچر کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ لکیر کھنچ جائے۔ لکیر کھنچے گی تو ووٹ کو عزت بھی ملے گی۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments