پی ڈی ایم کا منتخب حکومت کے خلاف اتحاد
پاکستان کے قیام کو بہتر سال ہو گے ہے۔ اگر پاکستان کی بہتر سالہ سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے۔ تو پاکستان میں سیاسی حکومتوں کی بجائے زیادہ تر فوجی حکومتیں اقتدار پر برا جمان رہی ہے۔ اس کی وجہ سیاست دانوں کی ناعاقبت اندیشی تھی یا پھر مسلح افواج کی مورچوں کی بجائے اقتدار اور سیاست میں دل جسپی تھی۔ اس کے بارے میں حتمی رائے قایم نہیں کی جا سکتی ہے۔ مختلف مکا تب فکر اس بارے میں مختلف نظریات پیش کرتے ہے۔ پاکستان میں اقتدار فوج اور سیاست دانوں میں نورا کشتی کا باعث بنا رہا ہے۔
دونوں میں اقتدار کے حصول کے لئے ہمیشہ ایک جنگ کی سی کفیت برقرار رہتی ہے۔ اقتدار کی اس جنگ میں ملک تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے۔ لیکن اقتدار کی ہواس نہ صرف اپنی جگہ پر موجود ہے بلکہ یہ نیے چور دروازے دریافت کر چکی ہے۔ ایوب خان تاریخ میں پہلے آمر کی طور پر جانے جاتے ہے۔ جن کو لانے میں کافی حد تک سکندر مرزا کا ہاتھ تھا جن کو ڈر تھا کہ اگر الیکشن ہوئے تو ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا لہٰذا سکندر مرزا نے اپنی شکست سے بچنے کے لئے اسسمبلیاں توڑ کر مارشل لا کی رہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزمات پر ضیاء حق نے 5 جولائی کو ملک میں مارشل لا لگا کر بھٹو کی حکومت پر شب خون مرا تھا۔ 90 دن میں ملک میں انتخابات کرانے والے ضیاء حق نے 11 سال تک بطور آمر حکومت کے مزے لوٹتے رہے تھے۔ نواز شریف کی مشرف کے ساتھ چلنے والی اندرونی چپقلش اب تک کے آخری مارشل لا کا سبب بنی تھی۔ مشرف کے مارشل لا کے بعد سے اب تک پاکستان میں کسی نہ کسی طرح لولی لگڑی جمہوریت قایم و دائم ہے۔
پاکستان میں فوجی آمریت کے خلاف ہمیشہ سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنتا رہا ہے۔ حال ہی میں بننے والا پی ڈی ایم 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد کسی فوجی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ایک منتخب حکومت کے خلاف تشکیل پایا گیا ہے۔ یہ اتحاد اقتدار سے باہر رہ جانے والی جماعتوں کی اپنے اوپر قایم مقدمات کو ختم کرانے کے تشکیل پایا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون نے ڈھائی سال تک بیک ڈور چنیلز کے ذریعے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کر کے ڈیل کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔
جس میں خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر باقی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر بظاہر حکومت لیکن حقیقت میں اسٹبلشمنٹ کے خلاف تحریک کا آغاز کیا گیا۔ اس تحریک کا مقصد جلسے جلوسوں کے ذریعے عوامی طاقت کا مظاہرہ کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا تھا۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ عوامی مسائل مہنگائی بیروزگاری صحت تعلیم پر بات کرنا لیڈران کی اولین ترجیح نہیں تھی۔ عوامی مسائل کو صرف تڑکا لگانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ایک مخصوص جماعت کے لیڈران نے اپنی ذاتی مفادات کے لئے قومی سلامتی کے اداروں پر اور ان سے منسلک شخصیات پر الزامات لگا کر ملکی سلامتی کو داو پر لگانے کی کوشش کی۔ جو عوام میں تشویش اور بے چنی کا بھی سبب بنی تھی۔
پی ڈی ایم میں شامل باقی جماعتوں نے ملکی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی سے لا تعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ جلسے جلوسوں کے باوجود یہ اتحاد اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ سینیٹ انتخاب میں اپوزیشن کے اس غیر فطری اتحاد میں اختلافات کھل کر سامنے آ گے۔ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خلاف سیاست کرنے والوں اور سڑکوں پر گھسٹنے والوں کا وقتی رومانس بھی سینیٹ انتخاب کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔
وہ اتحاد جو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ناکوں چنے چبانے کے لئے بنایا گیا تھا وہ اپنے آپس کے اختلافات اور دھینگا مشتی سے پاش پاش ہو گیا ہے۔ دوبارہ سے روایتی سیاسی حلیفوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی تیز کر دی ہے اور ٹھنڈا پانی پینے اور لمبے لمبے سانس لینے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ حکومت کو گھر بھیجنے والے خود اپنے گھر میں قرآنطینہ ہو چکے ہے۔ لیکن سین ابھی ختم نہیں ہوا ہے بس اگلی بساط بچھانے کے لئے بریک کا آغاز ہوا ہے۔ آخر اتنی بڑی سیاسی شرمندگی کے بعد بریک تو بنتی ہے نا۔
