نائیکی کا انسانی خون والے ‘شیطانی جوتے‘ بنانے والوں کے خلاف مقدمہ
معروف امریکی کمپنی نائیکی نے فنون لطیفہ کے حوالے سے ایک فلاحی تنظیم بروکلین آرٹ کولیکٹو ایم ایس سی ایچ ایف کے خلاف ایک متنازع ‘شیطانی جوتا‘ بنانے پر مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں نائیکی کا کہنا ہے کہ کمپنی کے جملہ حقوق چوری کیے گئے ہیں۔
ان جوتوں کے تلووں میں لال سیاہی ڈالی گئی ہے جس میں انسانی خون کا ایک اصل قطرہ شامل کیا گیا ہے۔
آرٹ کولیکٹر نے نائیکی کمپنی کے تیار کردہ ائیر میکس 97s میں تبدیلی لا کر ایک ایسا جوتا تیار کیا ہے جس پر الٹی صلیب اور پینٹا گرام (یعنی پانچ کونوں والا ستارہ) بنائے گئے ہیں اور جوتوں پر مسیحی مقدس کتاب بائیبل کے الفاظ لیوک 10:18 واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں۔
پیر کو ایم ایس سی ایچ ایف نے موسیکار ریپر لِل ناس ایکس کے ساتھ مل کر ایسے 666 جوڑے ریلیز کیے جو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں فروخت بھی ہو گئے۔
نائیکی نے اپنے ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی اور جملۂ حقوق چوری کرنے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ایسے کاروباری ’لوگو‘ جو متنازع بن گئے
شیطان کے مسکراتے ہوئے مجسمے پر عوام ناراض
کراکس: ’اتنے بدصورت کہ اچھے لگنے لگتے ہیں‘
کالے اور سرخ رنگ کے یہ جوتے ایم ایس سی ایچ ایف نے پیر کو متعارف کروائے ہیں جب لِل ناس ایکس کا تازہ گانا مونٹیرو۔۔۔ کال میں بائی یور نیم۔۔۔ جمعے کو یوٹیوب پر ریلیز ہوا۔
میوزک ویڈیو میں ریپر نے یہی متنازع جوتے پہن رکھے ہیں اور وہ ایک کھمبے سے نیچے اترتے دیکھائی دیتے ہیں جو کہ علامتی طور پر ان کے جنت سے دوزخ میں گرنے کا عمل ہے۔
شیطانی خاکے کے ساتھ ان جوتوں پر بائبل کی آیت لیوک 10:18 کا حوالہ درج ہے کہ ’اس نے لوگوں کو بتایا کہ میں نے شیطان کو جنت سے بجلی کی طرح گرتے دیکھا ہے۔‘
ہر جوتا نائیکی کے خاص انداز پر تیار کیا گیا ہے، جن کے تلوے کافی نرم ہوتے ہیں۔ اس میں 60 کیوبک سینٹی میٹر سرخ سیاہی استعمال ہوئی ہے اور ایک قطرہ انسانی خون کا شامل ہے جو آرٹ کولیکٹو کے ممبران نے عطیہ کیا ہے۔
نائیکی نے نیو یارک میں امریکہ کی ایک عدالت کو بتایا کہ اس نے اس طرح کے شیطانی جوتے بنانے کی نہ منظوری دی نہ ہی ان کو بنانے کے اختیارات دیے ہیں۔
نائیکی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایم ایس سی ایچ ایف کو جوتے فروخت کرنے سے روکا جائے اور اسے کمپنی کا مشہور ڈیزائن مارک بھی استعمال نہ کرنے دیا جائے۔
نائیکی نے اپنے دعوے میں کہا ہے کہ ایم ایس سی ایچ ایف اور اس کے غیر مجاز شیطانی جوتے ممکنہ طور پر ایم ایس سی ایچ ایف اور نائیکی کی مصنوعات میں غلط فہمی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے سے ہی یہ غلط فہمی مارکیٹ میں پائی جاتی ہے کہ نائیکی نے ان جوتوں کو بنانے کے اختیارات اور منظوری دی ہے۔ اب لوگ ایم ایس سی ایچ ایف کے شیطانی جوتوں کے بدلے نائیکی کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘
https://twitter.com/govkristinoem/status/1376239196709478400
نائیکی نے اپنے دعوے میں ایک ٹویٹ کا حوالہ دیا ہے جو گذشتہ جمعے کو کی گئی تھی۔ اس ٹویٹ میں ان جوتوں کو متعارف کرنے سے متعلق مذاق کیا گیا اور پھر ہفتے کے اختتام پر سوشل میڈیا پر اور امریکی میڈیا پر اس کا خوب چرچا ہوا۔
ریاست جنوبی ڈکوٹا کی گورنر کرسٹی نوئم سمیت کچھ قدامت پسندوں اور کچھ مذہبی پیروکاروں نے جوتے کے متنازع ڈیزائن پر ٹوئٹر پر لِل ناس ایکس اور ایم ایس سی ایچ ایف پرر شدید تنقید کی ہے۔
تاہم لل ناس ایکس نے ٹوئٹر پر ناقدین کو جواباً اپنی پروفائل سے متعدد میمز ٹویٹ کیں ہیں۔
