زرد صحافت کا عروج و زوال
مشتاق احمد یوسفی صاحب لکھتے ہیں پرانے زمانے میں کسے کو بدنام کروانا ہوتا تھا تو اس کے نام کی پرچی کسی طوائف کو پکڑوا دیتے تھے، پھر کیا تھا گلی کوچوں میں اس کی بدنامی کے چرچے ہونے لگے۔ لیکن جب سے میڈیا آیا ہے تو طوائفوں والا کام صحافیوں سے لیا جاتا ہے۔ لفافہ پکڑوائیں اور دیکھیں کیسے پرائیم ٹائم میں جھوٹی فائلیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اچھے اچھوں کو راتوں رات ولن بنا دیتے ہیں۔
اگر یہ طوائفیں چاہیں تو ملک ریاض کو مسیحا اور عبدالستار ایدھی کو انسانی اعضاء کا تاجر منٹوں میں بنا سکتی ہیں۔ ان پر کوئی روک ٹوک، قدغن نہیں تھا۔ میٹرک فیل جوان بھی خود کو اینکر پرسن سمجھنے لگے۔
کارساز سانحہ کے وقت پرائیویٹ چینل کے ایک نیوز کاسٹر نے جنرل حمید گل کو کہا آپ اپنی صفائی میں کیا کہیں گے؟ نیوز کاسٹر سانگھڑ میں ایک کیبن پر چھالیا اور سگریٹ بیچتے تھے۔ کوئی پروفیشنل ڈگری نہیں تھی، پہلے اخبارات بیچنے والا ہاکر بنا پھر ایک جھرلو اخبار کا رپورٹر بنا پھر جرنلسٹ کہلانے لگا، نیوز اسٹوڈیو میں داخل کیا ہوا کہ بندہ ہواؤں میں اڑنے لگا تھا۔ اور بغیر کسی مروت و اخلاق کے، چالیس سال سروس کرنے عالمی شہرت یافتہ جرنیل کو کہنے لگا تم اپنی صفائی میں کیا کہتے ہو؟ سامنے بھی شیر کا بچہ تھا حمید گل صاحب نے کہا منے تم کیا جج ہو؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس انداز میں بات کرنے کی اور پھر ہمارے کاغذی شیر نے مزید رسوائی سے بچنے کے لیے کال کاٹنے میں عافیت جانی۔
آپ کو یاد ہوگا شہید محترمہ بینیظر بھٹو صاحبہ کا انٹرویو لینے والے ایک صحافی نے مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے واقعہ پر انہیں اتنا تنگ کیا کہ وہ آنسو پونچھتی ہوئی انٹرویو چھوڑ کر چلی گئیں۔
یہ طبقہ اتنا تو رعب بٹھا چکا تھا کہ عدلیہ ان کے اشاروں پر فیصلے کرنے لگی تھی اور پارلیمنٹ ان کی اجازت سے قانون سازی کرنے لگی۔
ملک میں حقیقی مقدس گائے یہ طبقہ تھا۔ ان کی عیاشیوں اور کرپشن پر بات کرنا موت کو دعوت دینے کے برابر تھی۔
مشرف کے ناظمی دور میں ایک صاحب کے 18 اضلاع میں ٹھیکے ہوتے تھے، ناظمین، وزراء سب ان کو پاپاء روم سمجھتے ہوئے ان کی ہر خواہش کی تکمیل میں ہی سعادت و عافیت سمجھتے تھے۔ سندھ کے چیف منسٹر کو بھی ان کے سامنے کانپتے دیکھتے تھے۔
ڈاکٹر قیامت ہو یا ماما قدیر کا بھانجا زرد صحافت کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ سب نے اپنے قلم کا ریٹ مقرر کر رکھا تھا۔ باقی کچھ صحافیوں نے، طوائف کے بجائے کسی ادارے کی رکھیل بننے کو ترجیح دی۔
شرفاء کو بے عزت کرنے کا یہ سلسلہ مشرفی میڈیا کی آزادی سے شروع ہوا اور 2018 تک جاری رہا۔ میں پی ٹی آئی کی حکومت کا سخت مخالف ہوں لیکن خان صاحب کو سلام کروں گا اس نے سب سے بڑی مافیا میں ہاتھ ڈالا اور ان کو ان کی اوقات پر لا کھڑا کیا۔ میڈیا کے ڈان کو ہتھکڑیاں لگا کر ایک واضح پیغام بھیجا No more black mailing
لوگوں کو گمراہ کرنے اور عزتیں اچھالنے کے پچاس پچاس لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والوں کو اب بیل کا بٹن دبانے اور چینل سبسکرائب کرنے کی اپیلیں کرتے ہوئے دیکھیں گے۔
(محمد صالح مسعود صاحب، آپ کو مدیر جواب دے سکتا تھا۔ جا چھوڑ دیا حافظ قران سمجھ کے۔ کبھی رو در رو مکالمے کی سعادت ملی تو آپ سے حساب پاک کر لیا جائے گا۔ و – مسعود)


