ایجوکیٹرز مستقلی تحریک، دھرنا اور کامیابی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ولیم ڈراگن آئرلینڈ کا ایک عظیم مصلح (Reformer) گزرا ہے اس نے کامیابی کے دو سنہری اصول اپنی قوم کو دیے۔ اس کے مطابق ”استقلال اور محنت“ ایسے اصول ہیں جن پر اگر عمل پیرا ہوا جائے تو کامیابی قدم چومتی ہے۔ اس اصول پرفرد عمل کرے خواہ قوم۔ نتیجہ کامیابی ہی نکلتا ہے۔

بحیثیت مسلمان میں ان دو اصول کے ساتھ ایک اور چیز کا بھی اضافہ کروں گا۔ وہ ہے نصرت خداوندی۔ نصرت خداوندی اسی صورت حاصل ہوتی ہے جب ہم پہلے دو اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ بقول شاعر

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

غزوہ بدر کے ان گنت پہلوؤں میں سے دو پہلو قابل ذکر بھی ہیں اور قابل عمل بھی۔ پہلا یہ کہ جب بھی کوئی معرکہ یا مشکل درپیش ہو تو دستیاب دنیاوی اسباب کو بہترین طریقے سے استعمال کرتے ہوئے نصرت خداوندی کا طلبگار ہونا۔ اور جب کامیابی مل جائے تو پھر خدائے لم یزل کی بارگاہ میں سربسجود ہو جانا۔ اقبال نے بھی انسان کو دنیاوی کامیابی کے لیے ایسے ہی ہتھیاروں سے مسلح ہونے کا درس دیا ہے۔

یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

پنجاب کے کنٹریکٹ ایس ایس ایز اور اے ای اوز نے بھی اقبال اور ولیم ڈراگن کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ڈیوس روڈ پر وزیر اعلیٰ کے دفتر کے سامنے ”استقلال اور محنت“ کی اک داستان رقم کی۔ مسلسل گیارہ دن تک موسم کی سختیوں اور وقت کے حکمرانوں کے جبر و استبداد، دھونس، استہزا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اپنے دستیاب وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اپنے حق کے لیے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ ان کا مطالبہ حق اور سچ پر مبنی تھا۔

وہ حکومت وقت سے ناجائز مطالبہ نہیں کر رہے تھے۔ وہ پاکستان سے اپنی محبت کو نبھاتے ہوئے یہاں انصاف کا بول بالا چاہتے تھے۔ اس لیے ان کے نعروں میں سب سے خوبصورت، دل آ ویز اور متاثرکن نعرہ ”ایک ریاست، دو قانون۔ نا منظور، نا منظور“ ہی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ اور اس کے محبوب کے نام پر حاصل کی گئی ریاست میں امیر و غریب، شاہ و گدا پر ایک ہی قانون کا اطلاق ہو۔ انھوں نے اپنے اخلاق، کردار، شرافت، دیانت اور صداقت سے ہر خاص و عام کو متاثر کیا۔

بے حسی طاری رہی تو صرف حکمران پر۔ لیکن ”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“ کے مصداق گیارہویں روز ان کا استقلال، محنت اور صبرسے پتھر دل صاحبان اقتدار کے دلوں کو نرم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حکمران جو خود تو اپنے آ پ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں مگر نچلے طبقات پر قانون کو نافذ کرنے کو آئین اور قانون کی بالادستی تصور کرتے ہیں۔

ایس ایس ایز اور اے ای اوز پر مسلط کیا گیا ایکٹ 2018 ء قانون سازی کی روح سے بھی متصادم ہے۔ اسلامی نقطہ نظر میں بھی قانون بننے کے بعد سے نافذ العمل ہوتا ہے نا کہ پچھلے برسوں سے۔ شراب کی ممانعت ہو، سود کی حرمت، پردہ کے شرعی احکامات ہوں یا دیگر شرعی سزائیں۔ ان کا اطلاق نافذ ہونے کے بعد ہوا۔ پچھلے اعمال اس کے دائرہ کار سے باہر متصور ہوئے۔ اسی طرح جدید قانون سازی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی لیکن پاکستان میں ”سب چلتا ہے“ کے مصداق ایسی قانون سازی ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔

2014 سے 2018 تک اساتذہ کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ سروس کو بھرتی کے لیے ٹیسٹ منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ شفاف عمل کے ذریعے بھرتی کے تمام مراحل طے کیے جاتے ہیں۔ ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد ایس ایس ایز اور اے ای اوز اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔ آ خر میں ایک ایکٹ پاس کر کے اسے 2014 سے ہی نافذ العمل کر دیا جاتا ہے اور اس دوران بھرتی ہونے والے تمام ایس ایس ایز اور اے ای اوز کو مستقل ہونے کے لیے دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویو دینے کا پابند کر دیا جاتا ہے۔ جب وہ اس پر احتجاج کرتے ہیں تو ان کے مطالبے کے حق سچ ہونے کے باوجود انھیں دھتکارا جاتا ہے اور احتجاج کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ انھیں سٹرکوں پہ آ نے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ قانون حرف آ خر نہیں ہوتے۔ چوری کی شرعی سزا بھی اس وقت موقوف ہو جاتی ہے جب علاقے میں قحط سالی اپنے پنجے گاڑتی ہے۔ قانون انسانوں کے لیے ہی بنتے ہیں اور اس میں لچک ناگزیر ہوتی ہے۔

اب حکومت اور ایس ایس ایز اور اے ای اوز مستقلی تحریک کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کرے۔ ماضی کی طرح لیت و لعل سے کام نہ لے۔ دوسری طرف ایس ایس ایز اور اے ای اوز بھی اس کامیابی پر نازاں نہ ہوں۔ اس کو نصرت خداوندی تصور کرتے ہوئے اللہ کے حضور سر بسجود ہو جائیں کیونکہ رب کائنات نے خود قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ ”لىٔن شکرتم لازیدنکم: (اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا) ۔ بقول شاعر

کیجیے ہر بات پر صبر و شکر
بہت حسیں ہے خدا پر یقین کا سفر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply