سندھ کی ایک غیر معمولی نوجوان آرٹسٹ سحر شاہ: آرٹ سے انقلاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھو کی تہذیب کے ان گنت رنگ ہمیں سندھو دریا کے وشال کناروں پہ ہر سو بکھرے نظر آتے ہیں اور یہی ہریالی کے رنگ ہماری آنکھوں کی کائنات کی بی پناہ وسعتوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ سورج جب ان لہلاتے کھیتوں پر اپنے سرخ لبوں کی پہلی کرنیں پھلاتا ہے تو پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر چیں چیں کی مدہر اور دلفریب آوازوں کے ساتھ، کھلے آسمان کی وسعتوں میں بکھر کر اپنا دانا، پانی تلاش کرنے میں جٹ جاتے ہیں۔ قدرت نے ان کے لیے زندہ رہنے کا یہی سرشتہ ترتیب دیا ہے۔

مال مویشی اپنے گلے میں بندہی ہوئی گھنٹیوں سے سرمئی صبح کی آمد کے سر چھیڑتے، سوز و ساز پروتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سارے رنگ، کائنات کے رنگ ہیں جو وطن کی مہکتی ہوئی مٹی کے رنگ اور فطرت کی کہکشاں بن کر نکھر جاتے ہیں۔ انھیں رنگوں کو آرٹسٹ اپنے خوبصورت ذہن میں سجا کے، اس کو کبھی شاعری میں پرو دیتے ہیں، کبھی ناولوں کے کرداروں میں انڈیل دیتے ہیں، کبھی کھانیوں کے کرداروں میں سجا دیتے ہیں اور کبھی اپنی نرم، گداز انگلیوں سے رنگوں اور برش کے ساتھ ایسے تراش دیتے ہیں کہ، ”رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے“ کے مصداق ایسی سچی کھانیاں بن جاتی ہیں جس سے تاریخ کے ورق پلٹ جاتے ہیں۔

سندھ کے دور استادہ گاؤں جھڈو سے تعلق رکھتی، نوجوان آرٹسٹ سحر شاہ رضوی کے ہاتھوں کی نرم، نازک اور گداز انگلیاں بھی ایسی ہی رنگ تراش ہیں کہ ان کے کینواس کے میکدہ سے تراشی ہوئی پینٹنگس دیکھ کر یوں گماں ہوتا ہے کہ یہ پینٹنگس نہیں بلکہ وہ زندہ و جاوید کردار ہیں جو رنگوں میں مہمل ہو کر ابھی ابھی آپ سے مہو سخن ہوئے ہیں۔ سحر شاہ رضوی کا کام اپنے نام کی طرح ہی سحر انگیز ہے۔

سحر شاہ رضوی نے فائن آرٹس میں سینٹر آف ایکسیلنس، آرٹس اینڈ ڈیزائن مہران یونیویرسٹی جامشورو سے امتیازی پوزیشن کے ساتھ گریجوئیشن مکمل کی اور بعد میں وہ وہیں پڑھانے کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں۔ انہیں منئیچر میں مھارت ہے اس لیے انہوں نے آرٹ میں اپنا کام منئیچر سے شروع کیا اور کافی وقت تک منئیچر (مغل پینٹنگ) پہ ہی طبع آزمائی کرتی رہیں بعد میں انہوں نے آئل پینٹنگ پر بھی طبع آزمائی شروع کی۔ سحر شاہ نے آج تک اسی سے زائد، قومی اور عالمی مصوری کی نمائشوں میں اپنے کام کو پیش کیا ہے اس کے علاوہ وہ میڈی کی فیلڈ سے بھی وابستہ رہی ہیں انہوں نے مختلف چینلز پر مارننگ شوز بھی کیے ہیں۔

اسی دوران جب کرونا وبا کی وجہ سے لوگ گھروں تک محصور ہو گئے اور، خاص طور بچے، نوجوان، انتہائی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے تو سحر کے ذہن میں خیال ابھرا کے کیوں نہ فیس بک پہ لائیو پینٹنگ کے سیشنس کیے جائیں جس سے نوجواں گھر پہ رہتے ہوئے کچھ نہ کچھ سیکھ سکیں گے۔ پھر ان کو خیال آیا کہ ایسی کون سی پینٹنگس کی جائیں تا کہ نوجوان صرف پینٹنگ کے فن کے بارے میں فنی آگاہی حاصل کریں بلکہ اس کے ساتھ ان کی اپنی دھرتی کی معلومات میں بھی اضافہ ہو۔

سحر بتاتی ہیں کہ ”اس دوران اس کو یہ سوجھا کہ کیوں نہ آج کے نوجوان کو اپنی تاریخ کے اور عہد حاضر کے ہیروز کے بارے میں آگاہی دی جائے، اور ان کے ساتھ ان کا تعارف کرایا جائے تاکہ وہ کچھ سیکھ سکیں“ ۔ وہ کہتی ہیں جب پورے پاکستان میں مقامی ہیروز ہر شعبے میں بکھرے ہوئے ہیں، تو پھر ارطغرل غازی ہمارا ہیرو کیوں ہو؟ یا پڑوسی ملک کے ہیروز کیوں ہمارے ہیرو ہیں۔ یہی سوچ تھی جس نے سحر کو اس بات پہ آمادہ کیا کہ وہ لائیو پینٹنگ کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو پینٹنگ کے فن کے بارے میں سکھانے کے ساتھ ان کو اپنے ملک کے قومی ہیروز کے ساتھ روشناس کرائیں گی۔

دوسرا مقصد یہ تھا کہ آرٹ کو آرٹ گیلریز سے نکال کر پبلک میں لانا اور عوام کی دلچسپی کا محور بنانا ہے۔ آرٹ گیلریز میں تو صرف آرٹ کو سمجھنے والے یا آرٹ سے محبت کرنے والے لوگ آتے ہیں، لیکن عوامی آرٹ کے ذریعہ، عوام کو عوام کے ہیروز کے ساتھ روشناس کرایا جائے اور یہ کام پہلے کسی نوجوان نے نہیں کیا تھا۔ اسے وہ آرٹ سے انقلاب لانے کا نام دیتی ہیں۔ ان کے خیال سے آرٹ سے انقلاب لانا ممکن ہے اور مرتی تہذیبوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح سحر شاہ کے سامنے یہ سوال آیا کہ وہ ہیرو کیسے منتخب کریں، اسی دوران سحر کے والد ماکن شاہ رضوی جو پاکستان کے کہنہ مشک لکھاری، شہرہ آفاق ڈرامہ نویس، شاعر اور ادیب ہیں اور جن کا ریڈیو پاکستان سے طویل اور گہرا تعلق بھی رہا ہے کے ساتھ وہ یہ خیال زیر بحث لائیں۔ ان کے والد جو پہلے ہی مقامی ہیروز کے پروفائل لکھنے میں مصروف تھے، سحر کو کچھ قومی ہیروز کے ساتھ متعارف کرایا۔ اس طرح سحر نے جب لائیو پورٹریٹ بنانے شروع کیے تو وہ حیران کر دینے والے پورٹریٹ بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔

ان کے پورٹریٹ کی دہوم مچ گئی اور سوشل میڈیا پر ان کی پینٹنگز لاکھوں کی تعداد میں شیئر ہونے لگیں، اب تک وہ پاکستان کی مشہور شخصیت، انگریزوں کو ہندستان سے نکالنے کے لیے گوریلا جدوجہد کی علامت، جسے انگریزوں نے گرفتار کر کے پھانسی پہ لٹکایا اور اس کی لاش بھی واپس نہیں کی، جی ہاں سید سبغت اللہ شاہ المعروف پیر پگارا کا شاندار پورٹریٹ بنایا۔ اس کے ساتھ جس نے اسمبلی نے پاکستان کی قرارداد پاس کی اور پاکستان بننے کے لئے ایک قانونی راہ ہموار کی، اس وقت سندھ مسلم لیگ کے صدر سید غلام مرتضیٰ شاہ عرف جی ایم سید جنہوں نے اپنی آخری عمر نظر بندی میں کاٹی اور اسی کے دوران ان کا انتقال ہوا۔

مائی بختاور لاشاری جو کہ برطانوی سلطنت کے زمانے کی کسان لیڈر تھی، جس نے کسانوں کے حقوق کے حوالے سے جدوجہد کی اور شہید ہوئی۔ ان کا جنم 1880 میں ہوا اور جون 1947 میں شہید ہوئی۔ انہی کی جدوجہد نے سندھ میں کسانوں کی جدوجہد کو پروان چڑھایا اور سندھ کے مشہور بیوروکریٹ حیدر بخش جتوئی سندھ ہاری کمیٹی کے پلیٹفارم سے اس جدوجہد کو آگے لے گئے۔

روپلو کولھی جو کہ ایک سندھی فریڈم فائیٹر تھے اور انگریزوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑی، ان کا تعلق، ننگر پارکر تحصیل، ضلع تھرپاکر سندھ سے تھا اور انگریز نے پکڑ کر اسے پھانسی پہ لٹکا دیا۔

مائی جندو سندھی سماج کا ایک ایسا کردار ہے جس کے پورے گھرانا کو زمین کے تنازعے کے جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا اور مائی جندو کے دو بیٹوں، بہادر اور منٹھار اور داماد حاجی اکرم کو قتل کر کے ان پر را کے ایجنٹ کا الزام لگایا گیا تھا لیکن مائی جندو نے یہ الزام قبول کرنے سے انکار کیا اور انصاف کے لئے سالوں تک لڑتی رہیں۔ آخرکار دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے واقعہ کے مجرم میجر ارشد کو پھانسی کی سزا اور ان کے 14 ساتھیوں کو عمر قید کی سزا دی۔ اس کیس کے بعد مائی جندو سندھ میں مزاحمت کی علامت کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں۔

یہ ایسے گمنام کردار تھے جن کو کم ہی لوگ جانتے تھے جو سحر شاہ کی لائیو پینٹنگس کی بدولت تاریخ کے اوراق سے نکل کر پبلک میں آئے اور لا تعداد ٹی وی چینلز نے سحر شاہ کے کام پر جب پیکیجز بنائے تو یہ کردار بھی مین اسٹریم میڈیا پر نمودار ہوئے اور نوجوان ان ہیروز سے روشناس ہوئے۔

اس کے علاوہ سحر نے بانی پاکستان محمد علی جناح جنہوں نے ایک الگ ملک قائم کر کے دیا، سندھ کے مشہور دانشور محمد ابراہیم جویو، مشہور سیاستدان، دانشور اور لکھاری رسول بخش پلیجو، انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر، سماجی خدمت کے شعبے میں کام کرنے والی سسٹر رتھ فاؤ، مشہور سندھی فنکار سرمد سندھی، مشہور شاعر اور سندھ یونیورسٹی کے سابق وائیس چانسلر مایاناز شائر شیخ ایاز، اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم شہید محترمہ بی نظیر بھٹو، فاطمہ جناح، بابا بلھے شاہ، حضرت سچل سرمست، شہید اللہ بخش سومرو، بھگت کنور رام، شہید ذاولفقار علی بھٹو، مرتضیٰ بھٹو، عابدہ پروین، پروین شاکر، عطا محمد بھنبھرو، ماکن شاہ رضوی، سمیت درجنوں شخصیات کے لائیو پورٹریٹ بنائے جو کہ لاکھوں لوگوں نے فیس بک پہ لائیو دیکھے۔

سحر شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک سوسے زائد قومی ہیروز کے پورٹریٹ بنائیں گی اور ان کے ساتھ ان کے پروفائیلس بھی لکھیں گی تاکہ ان ہیروز کو بہتر طور پہ محفوظ کیا جا سکے۔ سحر نے اپنے ہیروز کے جو پورٹریٹ بنائے، ان کو انہوں نے اجرک، جو کہ وادی سندھ یا سندھو سبھیتا کی ایک علامت ہے، پہنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دراصل اجرک کا حسین تحفہ ان کی خدمات کے صلے میں ایک پیار بھرا ٹربیوٹ ہے۔

سحر شاہ کا کام اس وقت تک امریکا، اٹلی، ایران، دبئی، انڈونیشیا، میکیسیکو، کوسووو، چائنا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ ان کو انٹرنیشنل آرٹسٹ سوسائٹی، گورنمینٹ آف پنجاب، آرٹ گیلریز آف پاکستان کی طرف سے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اور امریکہ کے فنکاورں کے لئے کام کرنے والی تنظیم ای وائے این کی طرف سے کم عمر آرٹسٹ کا ایوارڈ بھی ملا ہے۔ اس کے علاوہ ویزیوئل آرٹ میں نمایاں کارکردگی کی بنا پر ان کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی گلوبل ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔

سحر اس سماج میں پیدا ہوئی ہیں جہاں آرٹ کو کوئی سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے، نہ آرٹ کو اتنا اہم سمجھا جاتا ہے، نہ آرٹسٹ کے کام کو اجاگر کرنے کے لئے ایسے سرکاری ادارے، آرٹ گیلیرز ہیں جہاں پہ ان کے کام کو پبلک کے لیے پیش کیا جاتا ہو، جہاں بچے سرکاری سرپرستی میں یہ کام سیکھیں اور تو اور یہ مہنگا شوق ہے، اس کے سارے اخراجات وہ خود برداشت کرتی ہیں۔ اتنا خوبصورت کام کرنے والے، ٹیلنٹیڈ فنکار کے لئے اس ملک کی کسی ادارہ میں کوئی ملازمت نہیں ہے جہاں اس سے فن کی ترویج کے لئے کام لیا جا سکے۔

سحر بیروزگاری کو جواز بنا کر، خاموش نہیں بیٹھیں، ان کو پتہ ہے کہ وہ یورپ جیسے کسی مہذہب سماج کے شہروں مثال کے طور پے پیرس، ایمسٹرڈیم، برسلز، برلن، فرنکفرٹ، زیورخ، ویانا، وینس، روم، بدھاپیسٹ، پراگ، دی ہیگ، ویٹکن میں نہیں رہتیں جہاں آرٹسٹس کو آرٹ گیلیرز کے ذریعے سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور ان کا کام وہاں صدیوں تک محفوظ رہتا ہے۔

سحر شاہ کی خواہش ہے کہ وہ پوری دنیا گھومیں، قدرت کے روح پرور طلسمی مناظر اپنی آنکھ کی کیمیرا میں محفوظ کریں اور ان کو پینٹ کر کے محفوظ کر سکیں، یہ مشکل کام ہے، لیکن سحر کو امید ہے کہ وہ ایک دن ضرور کامیاب ہوں گی اور قدرت کے ان حسین منظروں کو رنگوں میں تراش کے کینوس پہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر کے ان کو اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کردیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *