پی ڈی ایم کے نوحہ سے آگے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کیا کلام کہ پی ڈی ایم میں شامل دو بڑی جماعتوں کی باہمی سیاسی قربت غیر فطری تھی۔ ان جماعتوں کی تشکیل، ساخت اور نظریات میں قطبین کا فاصلہ ہے۔ پی ڈی ایم کے احتجاجی سلسلے میں اسمبلیوں میں استعفے دینے کے مرحلے پر پیپلز پارٹی نے اپنا موقف اگرچہ دلائل سے پیش کیا لیکن پی ڈی ایم کے قیام کے اول دن سے یہ معلوم تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ حکومت سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی کو جب یہ کہا گیا کہ وہ صرف قومی اسمبلی سے مستعفی ہو تو اس نے سندھ میں وفاق کی جانب سے گورنر راج کے امکان کو سامنے رکھ دیا۔

یعنی پیپلز پارٹی سندھ کی بد حالی اور پس ماندگی کے باوجود ہر حال میں سندھ حکومت کو کھونا نہیں چاہتی ہے۔ ایسی صورت میں پی ڈی ایم جسے یہ زعم تھا کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کو جلد گھر بھیج دے گی آج اپنی بقاء اور اتحاد کے لیے کوشاں ہے۔ اتحاد کا بھرم تو اسی وقت ٹوٹ گیا تھا جب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور جے یو آئی نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں انفرادی حیثیت میں حصہ لیا تھا۔ امید تو یہ تھی کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو ماضی کی تلخ روایات کو ختم کریں گے اورایک حقیقی سیاسی کلچر کو فروغ دیں گے۔

ایک احتجاجی جلسے میں تو مریم نواز نے بلاول کو بطور خاص یہ کہہ کر مخاطب کیا تھا کہ ”بلاول آج عہد کرتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کو مستبقل میں ذاتی اختلافات میں تبدیل نہیں کریں گے“ آج پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون جس طرح کے الزامات ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں تو یہ یقین پختہ ہوچلا کہ سیاسی اقدار پر مفادات کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اہل فکر نے اگرچہ اپنے کالموں میں مسلم لیگ نون کو مختلف تجاویز پیش کی ہیں کہ کسی طرح پی ڈی ایم کے تن مردہ میں دوبارہ جان پڑ جائے یا پھر مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمٰن پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک کو آگے بڑھائیں۔ لیکن اخلاص ان کا اپنی جگہ اور ہماری سیاسی جماعتوں کی مصلحتیں اور مجبوریاں اپنی جگہ۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے عہدیداران نے ایک دوسرے کو دل سے تسلیم کیا ہی نہیں ہے۔ کیوں کہ جن طبقات کی یہ نمائندہ جماعتیں ہیں وہاں اس عمل کی گنجائش ممکن نہیں ہے۔

موجودہ سیاسی صورتحال نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کی سیاست، معیشت اور سماج پر جن طبقات کی اجارہ داری ہے ان کے لیے اقتدار کا حصول ہی سیاست ہے۔ سماج کو ارتقائی عمل میں شریک کرنا ان کی ترجیحات ہی نہیں ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک عجیب قسم کی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے پی ڈی ایم کی حمایت کرنے والوں کو نوحہ گری سے فرصت نہیں ہے اور حکومت کی حمایت کرنے والے نہ جانے کس چیز کی خوشی منا رہے ہیں جن کا خارجی، داخلی، معاشی اور سیاسی محاذوں پر حال یہ ہے کہ ”پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے“ ۔ لیکن کیا یہ احتجاجیوں کی نوحہ گری اور حکومتی شادیانوں سے آگے بھی کچھ ہے یا نہیں؟

ملک میں اس وقت چار بڑی اور موثر قوتیں موجود ہیں فوجی اور سول بیوروکریسی، بڑے سرمایہ دار، سرمایہ کار اورتاجر، جاگیر دار اور مذہبی جماعتیں۔ تمام سیاسی جماعتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ مذکورہ قوتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ دیکھا جائے تو کوئی ایسی جماعت اور سیاسی قوت نہیں ہے جو اکثریتی طبقے کی نمائندہ جماعت ہو۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی جماعتوں کی تخلیق ان پر قابض طبقات کے مفادات کے پس منظر میں ہوئی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نظام سے فیضیاب ہونے والے اس نظام میں دراڑ ڈالیں یا اسے نیست و نابود کردیں۔

لفظ انقلاب جس کا استعمال ہماری سیاسی جماعتیں کثرت سے یہ جانے بغیر استعمال کرتی ہیں کہ سماج کی طبقاتی ساخت کیا ہے؟ سماج کے پسے ہوئے طبقات کو سیاسی عمل سے باہر رکھ کر بالادست طبقات کے سیاست، معیشت اور سماج پر تسلط کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی سماجی اور معاشی انصاف پر مبنی انقلاب برپا ہو سکے۔ ہمارے یہاں تو انتخابات میں بھی 55 فیصد ووٹ ڈالے جاتے ہیں جب کہ 45 فیصد اکثریت اپنا حق رائے دہی اس لیے استعمال نہیں کرتی کہ اس کے طبقے کی نمائندگی کرنے والا موجود نہیں ہوتا۔

بنیادی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستان کو ہر قسم کی انتہا پسندی، قبائلی عصبیت، دہشت گردی سے پاک اور معاشی ترقی کرتے ہوئے معاشرے میں ڈھالنا ہے۔ معاشی اور سماجی نظام میں پوشیدہ غیر منصفانہ مراعات کا خاتمہ کرنا جو چند مراعات یافتہ طبقات کے حق میں رکھی گئی ہیں جن کی وجہ سے عوام کی اکثریت انسانی حقوق اور بنیادی شہری سہولتوں بشمول روزگار کے مواقع، رہائش، تعلیم، صحت اور تحفظ سے محروم رہتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ عوام کی حقیقی حاکمیت قائم ہو اور طاقت کا توازن اس طرح قائم ہو کہ مقتدرہ اور حکمران اشرافیہ کے مرکز میں حد سے زیادہ مرتکز اختیارات نیچے عوام کو مقامی سطح پر منتقل کیے جائیں اور یہ جب ہی ممکن ہے کہ حکومتی ڈھانچے میں ہر طبقے کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن اس کے لیے ملک میں ایک عوام دوست اور ترقی پسند سیاسی جماعت کے قیام کی ضرورت ہے۔

ایک اور بات کا جس بہت چرچا ہے کہ ہمارے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ نے کہا ہے کہ ”پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا ضروری ہے“ ۔ خدا کرے کہ اس بیان کی عملی شکل معاشرے میں عام سطح تک دیکھنے آئے اورخدا اس چمن کو آتش گل کی تپش سے محفوظ رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *