افتخارالدین بھٹہ: میرے فکری سفر کے پچاس سال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت جب مہنگائی اور بے روز گاری نے لوگوں کو ادھ موا کر دیا ہے اور وائرس نے خوف کی فضاقائم کر رکھی ہے اخبارو جرائد سے عام آدمی کی دلچسپی زیادہ نہیں رہی۔ کتاب خریدنے اور اسے پڑھنے کا رجحان تو پہلے ہی کم تھا اب اس میں مزید کمی آ گئی ہے اس کی ایک وجہ

جہاں موجودہ صورت حال ہے تو وہاں اس کی قیمت ہے جواس قدر بڑھا دی گئی ہے کہ اسے خریدنے کے لئے سو بار سوچنا پڑتا ہے۔

ایسے میں اگر کوئی کتاب چھپتی ہے تو اس کے ناشر و مصنف کو داد دینا پڑتی ہے کیونکہ گرانی کے اس دور میں بھاری رقوم خرچ کرنادل گردے کا کام ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب سے محبت کرنے والوں کا جذبہ ابھی سرد نہیں پڑا وہ علم و آگہی کے میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

جی ہاں! ملک کے ایک بڑے لکھاری افتخارالدین بھٹہ جو معیشت و معاشرت کے موضوعات پر طویل عرصے سے لکھتے چلے آرہے ہیں نے اپنے کالموں کو ایک کتابی شکل دے کر مطالعہ کاشوق رکھنے والوں کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔

افتخارالدین بھٹہ نے لکھنے کا آغازکالج کے زمانے ہی سے کیا۔ ان کی تحریریں انیس سو پینسٹھ میں بچوں کے ماہنامہ رسالوں ’بچوں کی دنیا‘ تعلیم و تربیت اور روز نامہ نوائے وقت کے ہفتہ وار بچوں کے صفحات میں شائع ہونا شروع ہوئیں یہیں سے ان کا حوصلہ بڑھا تو بات قومی اخبارات میں کالموں تک جا پہنچی۔ پیپلز پارٹی کے نظریاتی اخبار روز نامہ مساوات میں کافی عرصہ لکھتے رہے انہوں نے انگریزی اخبارات فرنٹئیر پوسٹ ’دی نیشن‘ پاکستان ٹو ڈے ’ڈیلی ٹائمز اور دیگر میں بھی لکھا۔

بھٹہ صاحب نے ہمیشہ استحصالی قوتوں کو بھر پور انداز سے ہدف تنقید بنایا اور کبھی بھی ان کے قلم میں لرزش نہیں آئی حالانکہ وہ ایک قومی بینک کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ جب وہ بینک کی ملازمت کر رہے تھے تو انہیں ملک کی معاشی ابتری ’قرضوں میں ڈوبی حکومتوں‘ اقتصادی ناہمواری ’آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر روپے کی گرتی ہوئی ساکھ سے پیدا ہونے والی مہنگائی اورغریب کا استحصال کرنے والے عناصر کے بارے میں گہرا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا لہذا انہوں نے اپنے قلم کا استعمال خوب کیا۔

وہ انیس سو اڑسٹھ میں ذوالفقارعلی بھٹو کے ”عوامی منشور“ سے متاثر ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ اس کے اندرتو وڈیرے اور جاگیردار ہیں اور ان کا پروگرام انقلاب لانا نہیں بلکہ ”سٹیٹس کو“ کو برقرار رکھنا ہے تو وہ اس سے علیحدہ ہو گئے اور نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی گروپ) میں شمولیت اختیار کر لی۔ انیس سو اکہتر کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں سقوط ڈھاکہ کے بعد جب بھاشانی نہ رہے تو وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔

اس کالم میں ان کی قلمی و عملی جدوجہد سے متعلق بیان کرنا ممکن نہیں۔ پچاس برس پر محیط ان کے سفر کے لئے کتابیں درکار ہوں گی بہرحال افتخارالدین بھٹہ ایک درویش صفت انسان ہیں انہیں اس دھرتی اور اس پر بسنے والے لوگوں سے بے حد محبت ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان کے بنیادی مسائل کو موضوع بنایا ہے اور یہ کبھی نہیں سوچا کہ اس کا صلہ ملے گا ان کے مزاج میں شائستگی و نرمی ہے وہ ہمیشہ عجز و انکساری سے ہر کسی سے ملتے ہیں ان سے مل کر دوسرا شخص کبھی بھی احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوتا اپنائیت اور غمگساری گویا ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

اس کتاب ”میرے فکری سفر کے پچاس سال“ سے پہلے ان کی ایک کتاب ”انسان سماج اور معاش“ چھپ چکی ہے جو ترقی پسند حلقوں ہی میں نہیں معیشت سے دلچسپی رکھنے والوں میں بھی کافی مقبول ہوئی۔

ان کی یہ کتاب ”میرے فکری سفر کے پچاس سال“ تین سو بارہ صفحات پر مشتمل ہے جس میں چوالیس مضامین ہیں گیارہ تبصرے ہیں جو ان کی پچھلی کتاب سے متعلق ہیں جنہیں مختلف کالم نگاروں نے لکھا ہے ہم ان کی فکری پرواز بارے چند سطور پیش کریں گے۔ وہ اپنے ایک مضمون ”پاکستان میں تحقیق کے مسائل“ میں لکھتے ہیں ”سماجی اورسائنسی علوم کی عدم موجودگی نے ہمیں ایسے فکری بحران سے دوچار کر دیا جس میں حل کی راہیں دسیاب نہیں تحقیق کے ذریعے لوگوں میں تنقید اورکھوج کا احساس پیدا ہوتا ہے معاشرے میں علم و دانش کے فروغ کے لئے تحقیق کی سرپرستی انتہائی اہم ہے“

اس کتاب میں جہاں بھٹہ صاحب نے اپنے کالم شامل کیے ہیں تو وہاں انہوں نے اہم شخصیات کی تصاویر کو بھی جگہ دی ہے جس سے پڑھنے والوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔

یہاں ہم یہ عرض کرتے چلیں کہ ان کی پہلی کتاب ”انسان سماج اور معاش“ کا بھی مطالعہ کیا جائے بالخصوص سیاستدانوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے کیونکہ بھٹہ صاحب کے تجزیے ان کی معلومات میں اضافہ کریں گے پھر عین ممکن ہے کہ وطن عزیز میں جو بے چینی کی لہر ابھری ہوئی ہے اسے کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

آخر میں افتخارالدین بھٹہ کو مبارک باد پیش کی جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی مثبت فکر کو اپنے تک ہی نہیں رکھا اسے لفظوں کا روپ دے کر دوسروں تک پہنچایا تاکہ سب مل کر خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply