اکیلا حماد اظہر کیا کر سکے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حماد اظہر نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا اعلان کرتے ہوئے بھارت سے شکر اور کپاس درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس ملکی معیشت اور حکومت کی اتھارٹی کے بارے میں کوئی مثبت اور ٹھوس تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ متعدد ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حکومت کی موجودہ مالی پالیسی اور آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے پروگرام کے ہوتے معیشت میں کوئی بنیادی تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی۔

نئے وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں عبد الحفیظ شیخ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے مشورہ لیتے رہیں گے۔ انہوں نے ادائیگیوں کا توازن بہتر کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کو حفیظ شیخ کی بڑی کامیابیاں قرار دیا۔ واضح رہے دو روز پہلے وزیر اطلاعات شبلی فراز نے حفیظ شیخ کی وزارت خزانہ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ ملک میں قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام رہے تھے، جس کی وجہ سے ان سے وزارت واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے بھی ماہرین کی رائے میں قیمتوں پر کنٹرول کا معاملہ وزارت خزانہ سے تعلق نہیں رکھتا۔ مقامی ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں ہے اور اجناس کی مناسب مقدار میں فراہمی وفاقی حکومت کی دیگر وزارتوں کی ذمہ داری ہے۔ اب حماد اظہر، حفیظ شیخ کی کامیابیوں کی فہرست بتا کر یہ واضح کر رہے ہیں کہ وزیر اطلاعات کی طرف سے حفیظ شیخ کی ناقص کارکردگی کا شوشہ دراصل عمران خان کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ کوئی مشیر یا وزیر اسی وقت تک وزیر اعظم کا چہیتا رہ سکتا ہے جب تک حکومت میں اس کی ضرورت محسوس کی جائے۔ اسے فارغ کرنا مقصود ہو تو وزیر اطلاعات یا کوئی بھی سرکاری ’ترجمان‘ کوئی بھی الزام لگا سکتا ہے۔

یہ بنیادی طور پر وزیر اعظم کی سیاسی حکمت عملی کی ناکامی ہے۔ حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کے طور پر عالمی مالیاتی اداروں کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا اور ان سے کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ کسی وزیر کو کابینہ سے نکالنا بلا شبہ وزیر اعظم کا دائرہ اختیار ہے اور حکومت کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لئے عام طور سے حکومتیں وسط مدت میں اہم وزیروں کو تبدیل کر کے تحرک پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ عمران خان اگر ایسا اقدام کر رہے ہیں تو وہ ان کے دائرہ اختیار اور حکومتی طریقہ کار و روایت کے عین مطابق ہے لیکن وزیر اطلاعات کا سبکدوش وزیر خزانہ پر ایسی ناکامی کا الزام عائد کر نا جو موجودہ مالی حکمت عملی کا ردعمل ہے اور جس سے براہ راست وزارت خزانہ کا تعلق بھی نہیں ہے، دراصل صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کسی بھی معمولی سے معاملہ کو مہنگائی سے عاجز آئے ہوئے عوام کی تسلی و تشفی کے لئے استعمال کرنے کو بے چین ہے۔ پی ڈی ایم کے اندرونی تنازعہ اور کورونا وائرس کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں تعطل کی وجہ سے اب شبلی فراز کے پاس اپوزیشن لیڈروں کو رگید کر پوائنٹ اسکورنگ کا کوئی موقع نہیں تھا تو ملک میں بے قابو قیمتوں کا بار سابق وزیر خزانہ پر ڈال کر اپنے فرض منصبی سے ’انصاف‘ کر لیا۔

اس دوران میڈیا میں یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ وزیر اعظم سابق وزیر خزانہ اور بینکر شوکت ترین کو وزارت خزانہ کا مشیر بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایک تجربہ کار ماہر مالیات کو حماد اظہر کی ’معاونت‘ کے لئے مقرر کرنے کا مقصد یہی ہوگا کہ وزارت خزانہ ضرور عمران خان کے پسندیدہ شخص کے سپرد کی گئی ہے لیکن کابینہ میں بھی یہ احساس موجود ہے کہ وہ شاید ملکی مالی حالات کو بہتر نہ کرسکیں۔ اس لئے کچھ نئے گر آزمانے کے لئے اب ’تجربہ کار‘ شوکت ترین کو ملوث کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ البتہ یہ کوشش بھی مصنوعی اور نمائشی ثابت ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی مالی حکمت عملی جزوی طور سے آئی ایم ایف کے پاس گروی ہے۔ خزانہ کی وزارت کسی کے پاس ہو، اسے وہی کرنا ہوگا جس کا معاہدہ آئی ایم ایف مالی پروگرام کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے سے کیا ہے۔ اگر آئی ایم ایف بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے ضروری سمجھتا ہے تو حکومت اس پر کوئی بہانے بازی نہیں کر سکتی۔ یا تو اسے معاہدہ پر عمل کرنا ہوگا یا اس پروگرام کو معطل کیا جائے گا۔ دونوں فیصلوں کے عواقب کو سمجھنا اور ان سے نمٹنا اپنی جگہ مشکل مرحلہ ہوگا۔

حماد اظہر نے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے بظاہر پیٹرولیم کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کیا ہے۔ ایک سے تین روپے فی لیٹر کمی کی حیثیت بھی علامتی ہے۔ اس کمی سے نہ تو عام آدمی کے بجٹ کو سہولت ملے گی اور نہ ہی روزمرہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آئے گا۔ کچھ عرصہ کے بعد کسی دوسرے عذر سے اس کمی کو اس سے کئی گنا اضافے کے ساتھ عوام پر دوبارہ مسلط بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح وزیر خزانہ کے طور پر حماد اظہر کا اصل چیلنج ٹیکس بیس میں اضافہ کا کوئی طریقہ نکالنا ہوگا۔ لیکن اگر انہیں قیمتیں کم کرنے کے منصوبہ پر لگا دیا گیا تو وہ اپنے اصل کام پر توجہ نہیں دے سکیں گے۔ سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے جس کا بوجھ براہ راست عوام کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بار بار دعویٰ کرنے کے باوجود حکومت ملک کے ٹیکس نظام میں کوئی قابل ذکر اصلاح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہی تجارت و آڑھت سے متعلق شعبوں کو ٹیکس رجسٹریشن کروانے اور قومی وسائل فراہم کرنے میں شراکت دار بننے پر آمادہ کیا جا سکا ہے۔ اس کی ایک وجہ ان شعبوں کا دہائیوں سے کالے دھن پر انحصار ہے لیکن حکومت بھی ٹیکس نظام میں اصلاحات اور کرپشن ختم کر کے چھوٹے تاجروں کو اعتماد بخشنے میں ناکام رہی ہے۔ سابق وزیر خزانہ یہی بنیادی کام کرنے میں ناکام رہے۔ موجودہ حالات میں اس کا امکان نہیں ہے کہ حماد اظہر کوئی مختلف نتیجہ سامنے لا سکیں گے۔

وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس سے پہلے ایک ٹویٹ پیغام میں عالمی مالی منڈیوں میں پاکستانی بانڈ کی فروخت کو حکومتی مالی پالیسی کی کامیابی اور پاکستان پر سرمایہ داروں کے اعتماد کا مظہر قرار دیا تھا۔ یہ دعویٰ اگر حماد اظہر کی پیشہ وارانہ کم علمی کا آئینہ دار نہیں ہے تو حکومت کی سیاسی مجبوریوں کا عکاس ضرور ہے کہ وہ کسی بھی معاملہ کو اس کے سیاق و سباق کے بغیر پیش کر کے مالی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ قیاس ہے کہ عالمی مالی منڈیوں میں جاری کیے گئے ان بانڈز سے آئندہ دو ہفتے کے دوران اڑھائی ارب ڈالر تک فراہم ہوں گے۔ بلاشبہ اس سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو وقتی استحکام ملے گا لیکن ان بانڈز کی فروخت پاکستان کی معاشی ترقی پر اعتماد کی بجائے ان بانڈز پر فراہم کیے جانے والے منافع کی شرح ہے۔ پانچ سال کے بانڈ پر چھ فیصد، دس سالہ بانڈ پر ساڑھے سات اور تیس سالہ بانڈ پر تقریباً نو فیصد کے حساب سے منافع دیا جائے گا۔ یہ شرح اس وقت عالمی منڈیوں میں دستیاب شرح سود سے کئی گنا زیادہ ہے۔ سرمایہ دار پاکستان کی ’اعلیٰ کارکردگی‘ اور یہاں ہونے والی ہوشربا معاشی ترقی کی وجہ سے نہیں بلکہ منافع کی شرح کی وجہ سے یہ بانڈ خرید رہے ہیں۔ اسی قسم کا ایک تجربہ دو سال قبل زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لئے کثیر شرح سود پر سرمایہ اکٹھا کر کے کیا جا چکا ہے۔

ایسے اقدامات سے معیشت میں تیزی اور قومی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوگا۔ نہ ہی بھارت سے بعض اجناس کی درآمد کسی معاشی ترقی کا سبب بنے گی۔ حکومت نے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اگست 2019 میں کیا گیا یہ عہد توڑا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں مودی حکومت کے جابرانہ اقدامات کے بعد اس ملک سے کوئی لین دین نہیں کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ بتا رہے ہیں کہ بھارت سے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں چینی کی قیمت کم ہے۔ انہوں نے یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ پاکستان میں اس جنس کی قیمت کیوں قابو میں نہیں ہے۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پانچ لاکھ ٹن بھارتی چینی کی درآمد سے عام صارفین کے لئے چینی کی قیمت کم ہو جائے گی؟ ملک میں چینی کی وافر پیداوار کے باوجود قیمتوں میں اضافہ دراصل ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حکومت بوجوہ اسے ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بجائے کمیٹیوں پر کمیٹیاں قائم کر کے ’بدعنوانوں‘ کو سزائیں دینے کے اعلان ضرور کیے جاتے ہیں۔

ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کا ایک سبب گنے کی پیداوار کے لئے زمینوں کا استعمال بھی ہے تاکہ شوگر ملز کو وافر مقدار میں خام مال ملتا رہے۔ یہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے یہ فراموش کر دیا گیا کہ کپاس بھی ملک کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سال ملکی صنعت کی ضرورت سے نصف کپاس ملک میں پیدا ہو سکی ہے۔ دیگر ملکوں کے علاوہ اب بھارت سے کپاس منگوا کر اس کمی کو پورا کیا جائے گا۔ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ گنے کے مقابلے میں کپاس کاشت کرنے کی حوصلہ شکنی کے عوامل کیا ہیں اور ان کا تدارک کیسے ممکن ہے۔

ملکی معیشت کے مسائل پیچیدہ ہیں اور کسی حد تک ذاتی و گروہی مفادات کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ جن مسائل کو عمران خان کی نگرانی میں پوری وفاقی کابینہ درست کرنے کا روڈ میپ نہیں بنا سکی، ایک وزیر کی تبدیلی سے ان کی اصلاح ممکن نہیں ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1872 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *