انگریزوں نے قلعہ لاہور سے جو خزانہ لوٹا۔ وہ جمع کس طرح ہوا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل مکرمی اکمل سومرو صاحب کا ایک معلوماتی کالم ”انگریزوں نے قلعہ لاہور سے کتنی دولت لوٹی؟“ ہم سب پر شائع ہوا۔ اس کالم میں اس دور کے حالات بیان کیے گئے ہیں جب 1848 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر قبضہ کر کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے کم عمر بیٹے مہاراجہ دلیپ سنگھ کی حکومت ختم کر دی اور پنجاب کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ اور اس قبضہ کے نتیجہ میں قلعہ لاہور میں موجود بیش قیمت خزانہ بھی انگریزوں کے ہاتھ لگا۔ مکرم اکمل سومرو صاحب نے انگریزوں کی اس لوٹ مار کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ یہ شاید تاریخ میں کسی فاتح کے ہاتھ آنے والا سب سے بڑا خزانہ تھا۔

اس ظالمانہ لوٹ مار کا ذکر کرنے کے بعد محترمی اکمل سومرو صاحب کالم کا اختتام ان الفاظ پر کرتے ہیں۔

”پنجاب کو کتنے ہی بڑے سانحے سے گزرنا پڑتا ہے کہ یہاں کے حکام ماضی کے حقائق قوم کے سامنے رکھنے کی بجائے برطانوی سفارت خانے میں ملکہ برطانیہ کے یوم پیدائش کی تقریبات مناتے ہیں، سفارت خانے میں حاضر ہو کر سالگرہ کا کیک کاٹتے ہیں۔“

میں اس بات سے متفق ہوں کہ صحیح تاریخی حقائق قوم کے سامنے رکھنے ضروری ہیں۔ لیکن صحیح ہونے کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ حقائق مکمل بھی ہوں۔ اگر لاہور کے قلعہ میں موجود یہ خزانہ اتنا بے مثال تھا تو یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ آخر اتنا قیمتی خزانہ سکھ سلطنت کے پاس کس طرح جمع ہوا؟ کیا پنجاب میں سونے چاندی کی کوئی کانیں دریافت ہوئی تھیں؟ یا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت نے بین الاقومی منڈیوں میں تجارت کر کے یہ تاریخی خزانہ جمع کیا تھا۔ یا اس وقت پنجاب میں ایسی سائنسی ایجادیں ہوئی تھیں جن سے کمائی کر کے لاہور دربار نے یہ خزانہ جمع کیا۔ یا یہ خزانہ کسی اور طریق سے جمع کیا گیا تھا۔

یہ تو سب جانتے ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے قبل پنجاب مختلف سکھ مثلوں [ریاستوں ] میں تقسیم تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ان مثلوں کو ایک وسیع سلطنت میں ضم کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا تعلق سکرچاکیہ مثل سے تھا۔ جس خاندان نے اس مثل کی بنیاد رکھی اس میں سب سے پہلے سکھ مذہب قبول کرنے والے شخص کا نام بدھا تھا۔ بدھا صاحب کا ذریعہ آمد یہ تھا کہ وہ سکھوں اور سانسیوں کے ساتھ مل کر بہت دلیری سے اہل پنجاب کے مویشی چوری کر کے لاہور اور امرتسر کی منڈیوں میں فروخت کیا کرتے تھے۔ اس طریق پر انہوں نے بہت شہرت اور دولت حاصل کر لی جو کہ اس مثل کی بنیاد ڈالنے میں مددگار ثابت ہوئی۔

اب ہم مہاراجہ رنجیت سنگھ کے والد مہا سنگھ کے کارناموں کا ذکر کرتے ہیں۔ مہا سنگھ صاحب سکر چاکیہ مثل کے حکمران تھے۔ مہا سنگھ صاحب کا ایک کارنامہ یہ بھی تھا کہ کہ انہوں نے رسول نگر کا محاصرہ کر لیا۔ اور ارد گرد کے علاقے کو اتنے مکمل طور پر لوٹا کہ کہا جاتا ہے کہ کسی زمیندار کے گھرمیں ایک گندم کا دانہ بھی نہ رہا۔ رسول نگر کے قلعہ میں فوج پیر محمد کی قیادت میں محصور تھی۔ مہا سنگھ صاحب نے گرنتھ صاحب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کر دیا جائے گا۔ لیکن جب پیر محمد صاحب نے ہتھیار ڈال دیے تو پیر محمد اور اس کی تمام اولاد کو توپوں سے باندھ کر اڑا دیا گیا اور رسول نگر کو لوٹ کر اس کا نام رام نگر رکھ دیا۔ اس کے بعد اس نے پنڈی بھٹیاں، جھنگ، سیالکوٹ، اور ساہیوال پر حملے کر کے انہیں بھی لوٹ لیا۔

اس دور میں پنجاب بد امنی کا شکار تھا مگر شمال میں جموں کی ریاست امن کے باعث خوشحال تھی۔ مہا سنگھ اور جموں کے راجہ کی گہری دوستی تھی۔ لیکن جب مہا سنگھ نے جموں کی دولت کا احوال سنا تو ایک اور سکھ جرنیل حقیقت سنگھ کے ساتھ مل کر جموں پر حملہ کر کے اسے تاخت و تاراج کر دیا۔ اور اتنی لوٹ مار مچائی کہ اس ریاست میں قحط پڑ گیا۔

مہا سنگھ کی لوٹ مار کا ذکر تو بہت طویل ہے لیکن یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس نے اپنی ماں کی سرپرستی میں عروج حاصل کیا تھا۔ لیکن جب اسے اپنی ماں کے کردار پر شک ہوا تو اس نے اپنی ماں کو قتل کر کے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور بڑے فخر سے اس کی نمائش کی۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بڑی محنت سے سب مثلوں کو ایک ریاست کی شکل دی۔ ان کے کارناموں کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ یہاں صرف چند نمونے پیش کیے جائیں گے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سب سے پہلے اپنے والد کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنی والدہ مائی ملوائن کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ لیکن سعادت مندی ملاحظہ ہو کہ اس نے پھر بھی اپنی ماں کی آخری رسومات بہت دھوم دھام سے ادا کیں۔

سکھ مثلوں کا دور پنجاب کے لئے بد ترین دور تھا۔ رنجیت سنگھ کا دور مثلوں کے دور سے اس لحاظ سے بہتر تھا کہ ایک مضبوط حکومت کی وجہ سے طوائف الملوکی کی تباہ کاریوں میں کمی آئی لیکن رنجیت سنگھ نے حکومت اور لاہور کے قیمتی خزانہ میں کس طرح اضافہ کیا تھا؟ اس کا اندازہ ان چند مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر لیا تو اسے خبر ملی کہ ان کے والد کے دوست اکال گڑھ کے دل سنگھ نے کسی اور سردار کے ساتھ الحاق کر لیا ہے تو رنجیت سنگھ نے دل سنگھ کو ایک خط لکھا کہ وہ اس کا بہت احترام کرتا ہے۔ اگر وہ لاہور آ جائے تو دونوں مل کر پنجاب میں ڈاکے ڈال کر دولت جمع کریں گے۔ دل سنگھ یہ پڑھ کر لاہور آ گیا۔ رنجیت سنگھ نے اس کا شاندار استقبال کیا اور بڑے احترام سے پیش آیا۔ لیکن رات کو سوتے وقت اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔

جب دل سنگھ کے حامیوں نے رنجیت سنگھ کے خلاف لشکر کشی کی تو آخر میں معاہدہ کر کے دل سنگھ کو رہا کرنا پڑا۔ لیکن جلد دل سنگھ کی موت ہو گئی۔ رنجیت سنگھ نے دل سنگھ کی بیوہ کو لکھا کہ وہ دل سنگھ کی تعزیت کے لئے آنا چاہتا ہے۔ رنجیت سنگھ اس بہانے میں بیوہ کے قلعہ میں اپنے ساتھیوں سمیت داخل ہوا اور بیوہ کو گرفتار کر کے دل سنگھ کا سارا خزانہ لوٹ لیا۔

جب قصور کے مسلمان حکمران قطب الدین نے رنجیت سنگھ کی اطاعت سے انکار کیا تو رنجیت سنگھ نے قصور کے علاقہ پر فوج کشی کی اور قلعہ کے ارد گرد تمام علاقے کو لوٹ کر برباد کر دیا۔ اور محاصرے میں قلعہ کے اندر لوگوں کو فاقے کرنے پڑے۔ قصور کو فتح کرنے کے بعد شہر کے عام لوگوں کی بھی تمام املاک کو لوٹ لیا گیا۔ کئی عورتوں کی عصمت دری کی گئی۔ کئی عورتوں نے خود کشیاں کر لیں۔ سینکڑوں عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر لے جایا گیا اور ان کے کپڑے اتار کر انہیں برہنہ چلنے پر مجبور کیا گیا۔

رنجیت سنگھ نے قصور کے خزانے لوٹ کر اپنے آپ کو مالا مال کر لیا۔ قصور کی لائیبریری کی ہزاروں بیش قیمت کتابوں کو لو ٹ کر لاہور میں اونے پونے فروخت کیا گیا۔

لاہور دربار کا وہ خزانہ جس کے لٹ جانے پر ہم اتنا افسردہ ہو رہے ہیں پنجاب کے عوام و خواص کو اس بری طرح لوٹ کر جمع کیا گیا تھا۔ سکھوں نے پنجاب کو لوٹ کر خزانوں کے یہ ڈھیر لاہور میں جمع کیے تھے اور انگریزوں نے اس خزانے کو اپنے جہازوں میں لاد کر لندن پہنچا دیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ کس چیز کا دکھ اور کیسا دکھ؟

ویسے صرف لاہور کے تعلیمی اداروں پر ہی نظر ڈال لیں تو اس شہر میں انگریزوں کے بنائے ہوئے پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج، ایف سی کالج، کنگ ایڈوروڈ میڈیکل کالج، چیفس کالج اور پنجاب پبلک لائبریری جیسے کئی ادارے نظر آئیں گے۔ عزیزم مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور کو کیا عطا کیا؟

[تاریخ پنجاب مصنفہ سید عبد الطیف ص 646 تا 702 ]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *