کیا بچہ جمہورا بدلنے کا وقت آ چکا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لڑکا والدین کا اکلوتا ہو، کئی بہنوں کے بعد دعاؤں، منتوں اور مرادوں کے بعد اس دنیا میں آیا ہو۔ ایسے بچے کی بچپن کہانی انتہائی دلچسپ ہوتی ہے اس کے پاس ہم عمر بہنیں تو ہوتی ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتا اور ایسے میں اکثر و بیشتر والد کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ بچہ لڑکیوں والے کھیل نہ کھیلے۔

ایسے کیس میں بچے اکیلے کھیلتے ہیں کیرم، لڈو یا پھر شطرنج جس کھیل میں دلچسپی ہو وہ لگایا جاتا ہے، بچہ دونوں جانب سے چالیں چلتا ہے، ایک جانب سے آگے بڑھتا ہے اور پھر دوسری جانب سے خود کو ہی مات دے کر فتح کا جشن مناتا ہے۔

اس سارے کھیل میں ”باپ“ کا کردار انتہائی دلچسپ ہوتا ہے جو دور بیٹھا پورے عمل سے واقف ہوتا ہے اور ساتھ ہی بچے کے کھیل اور خوشی کو اپنی تھپ تھپی سے خوب عروج پر پہنچا دیتا ہے۔ ایسے میں بچہ بھی جوش سے گھر میں سب کو بتاتا پھرتا ہے کہ میں نے آج اتنے گیم جیت لیے۔ بہنیں اعتراض کریں تو بھائی فوری طور پر ”باپ“ کی گواہی دلوا دیتا ہے۔

اکثر مجھے عمران خان میں بھی ایسا ہی بچہ نظر آتا ہے۔ وفاقی کابینہ کے آخری اجلاس کو ہی لے لیجیے۔ جہاں انہوں نے بطور وزیراعظم بھارت سے تجارت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی تجویز کو مسترد کر دیا حالانکہ ای سی سی کے اجلاس میں عمران خان کی جانب سے بطور منسٹر انچارج کامرس یہ تجویز سمری کی شکل میں پیش کی گئی تھی۔ اب اس جیت پر بالکل اس بچے کی طرح ہی شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ کپتان کشمیر کا سفیر ہے۔ اس نے صاف صاف بول دیا کہ کشمیر کی قیمت پر کسی طور تجارت نہیں ہو گی۔ حالانکہ کچھ چینلز پر یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ حماد اظہر نے (روٹھی بہنوں کی طرح) عمران خان کو یہ یاد دلایا کہ محترم وزیراعظم صاحب آپ نے ہی بھارت سے تجارت بحال کرنے کا کہا تھا۔ ایسے میں اب عمران خان صاحب نے ”باپ“ کی گواہی سے سب کو خاموش کرایا یا نہیں، اس بارے میں راوی خاموش ہے۔

کل کشمیر کی قیمت پر بھارت سے تجارت نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد آج ایک بار پھر عمران خان پڑوسی ملک سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے سر جوڑیں گے۔ حالانکہ اس سارے منظر میں ”باپ“ کی طرح دور سے بیٹھ کر ساری صورتحال پر نظر رکھنے والے صاحب کئی روز پہلے ہی بچہ جمہورا کے بدلتے گیم پلان سے اشارتاً قوم کو آگاہ کر چکے تھے، جب انہوں نے ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا پیغام دیا تھا۔

اب یہ سب کچھ واقعی ”باپ“ کی مرضی سے ہو رہا ہے یا بچہ جمہورا اپنے تئیں دونوں جانب سے چالیں چل کر اپنی شہ اور اپنی ہی مات پر شیخیاں بکھیر رہا ہے۔ یہ کھیل اس وقت تک یونہی چلتا رہے گا جب تک کپتان بغاوت کر کے ڈریسنگ روم میں ہونے والی چالوں کو آشکار نہ کر دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply