وبا کے باعث ایک لاکھ ملاح کھلے سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی وبا کے دوران یونان کی بندرگاہ پر پہنچنے والا ایک مال بردار جہاز، 2020

ایک اندازے کے مطابق، کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے تجارتی مال برداری کے لئے استعمال ہونے والے بحری جہازوں پر سوار ایک لاکھ کے قریب ملاح سمندری پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان ملاحوں کی مدد کے لئے ایک مہم چلائی جا رہی ہے، جس پر دستخط کرنے والے اسے ایک ایسا انسانی بحران قرار دے رہے ہیں جس سے دنیا بھر میں ضروری اشیا کی رسد اور ترسیل میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اس مہم کے ارکان نے دنیا بھر میں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مال بردار بحری جہازوں پر کام کرنے والے سولہ لاکھ ملاحوں کا حوصلہ بڑھائیں،انہیں سرحدوں کے آر پار جانے کی اجازت دیں اور ترجیحی بنیادوں پر انہیں ویکسین فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ دنیا کا 80 فیصد تجارتی سامان سمندری راستوں سے اپنی منزل پر پہنچتا رہے۔

وائس آف امریکہ کے ہینری رج ویل کی رپورٹ کے مطابق، اس بحران کی زد میں آنے والوں میں بھارتی شہریت کے حامل رتیش مہرا بھی ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال جولائی میں چار ماہ کے لیے، اسی ہزار ٹن وزنی مائع گیس کے ٹینکر کا کپتان بننے کا کنٹریکٹ کیا تھا۔ تاہم آٹھ ماہ کے بعد بھی وہ اور ان کا عملہ اپنے جہاز ہی پر پھنسے ہوئے تھے، کیونکہ وہ عالمی وبا کی وجہ سے اپنے جہاز سے اتر نہیں سکتے تھے۔

رتیش مہرا کو مارچ کے اواخر میں جہاز سے اتر نے کی اجازت ملی۔ انہیں دو ہفتوں کے لازمی قرنطینہ میں رہنا پڑا، جس کے بعد وہ دہلی میں اپنے خاندان سے جا ملے۔ مہرا کہتے ہیں کہ وہ اب نہیں چاہتے کہ ان کے بیٹے اس پیشے کو اپنائیں۔

عام حالات میں،سمندری جہازوں کے ملاح چار سے چھ ہفتے کا معاہدہ کرتے ہیں، جس کے بعد عملے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد، ان کے لیے ٹرانزٹ ویزوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ جہاز سے اترنے کے بعد اپنے ملک واپس جا سکیں۔ وہ جہاز سے صرف اسی وقت اتر سکتے ہیں، جب ان کی جگہ لینے کے لیے دوسرا عملہ پہنچ جائے۔

انٹرنیشنل چیمبر آف شپنگ کے سیکرٹری جنرل گائے پلیٹ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر عائد کی جانے والی بعض پابندیوں سے بحری جہازوں کے عملے کو تبدیل کرنے کا عمل مشکلات کا شکار ہے۔

ایک اندازے کے مطابق، اس سال موسم خزاں تک، سمندروں کے پانیوں میں چالیس ہزار سے زیادہ ایسے ملاح موجود ہوں گے، جنہوں نے اپنے معاہدوں کی مدت سے کہیں زیادہ وقت اپنے بحری جہاز پر گزارا ہو گا،جبکہ ان میں سے کئی ایک سال سے کہیں زیادہ عرصہ یعنی اٹھارہ مہینوں سے اپنے بحری جہازوں پر موجود ہیں۔

گائے پلیٹ نے کہا کہ 2020 کے اواخر میں صورت حال کچھ بہتر ہوئی تھی، مگر سفری پابندیوں اب پھر سے لوٹ رہی ہیں۔

ہانگ کانگ کے پانیوں میں درجنوں جہاز لنگر انداز ہیں۔ عالمی وبا کی وجہ سے ان کا عملہ ساحل پر نہیں جا سکتا۔

ہانگ کانگ سی فیررز مشن کے پادری سٹیفن ملر نے ایک چھوٹی کشتی کی مدد سے چند اشیا موبائل فون، سم کارڈ، اور کھانے پینے کی چھوٹی موٹی چیزیں اِن ملاحوں کو پہنچانا شروع کیں، تو وہ ان کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش کا شکار تھے۔

حال ہی میں بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، کارپوریشنوں، ٹریڈ یونینوں اور بحری جہازوں پر مزدوری کرنے والوں کی لیبر تنظیموں نے سمندری ملاحوں کی فلاح اور عملے کی تبدیلی کے لئے نیپچون ڈیکلیریشن کے نام سے ایک مہم پر دستخط کئے ہیں، تاکہ دنیا بھر میں حکومتوں پر دباو ڈالا جائے کہ وہ ملاحوں کو یعنی ضروری کارکن تسلیم کریں اور انہیں سفر کی اجرت کے ساتھ ساتھ ترجیحی بنیاد پر ویکسین لگائی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1677 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply