شیر پہاڑ سے جائے تو بندر بادشاہ بن جاتا ہے : چینی کہاوت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کچھ دنوں سے ہم چینی عوامی ناول پڑھ رہے ہیں۔ چاہیں تو انہیں پلپ فکشن کہیں یا پھر ویب ناول۔ ان کی کہانی دلچسپ ہوتی ہے، ریویو پھر کبھی سہی۔ بہرحال ان ناولوں کے وسیلے سے چینی رہن سہن کے علاوہ چینی محاوروں، کہاوتوں اور لوک دانش سے بھی آگاہی ملتی ہے۔ آج ہی ایک دلچسپ کہاوت پڑھی، ”جب شیر پہاڑ سے جائے تو بندر بادشاہ بن جاتا ہے“ ۔ اس کہاوت کے پیچھے موجود حکایت بھی دلچسپ ہے۔

چین میں جانوروں کے نام پر بارہ برجوں کے نام ہیں۔ ان ہی کی بنیاد پر ہر سال کو ایک جانور الاٹ کر دیا جاتا ہے جس سے منجم حساب کتاب کرتے ہیں۔ مثلاً 2021 بیل کا سال ہے، 2020 چوہے کا سال تھا اور 2022 شیر کا سال ہو گا۔ 2016 بندر کا سال تھا اور اب 2028 بندر سے منسوب ہو گا۔ بندر سے اس سال کے منسوب ہونے کی حکایت وہی ہے جس کی بنیاد پر مندرجہ بالا کہاوت بنی ہے۔

کہتے ہیں کہ جب شیر پہاڑی جنگل میں جانوروں کا بادشاہ بنا تو سب جانور اس سے دور دور رہنے لگے۔ وہ بہت اکیلا محسوس کرتا تھا۔ اس وقت شیر کا پڑوسی بندر تھا۔ اس سے شیر کی اس قدر دوستی ہو گئی کہ جب شیر پہاڑ سے کہیں دور جاتا تو اس کی غیر موجودگی میں بندر جانوروں پر حکومت کرتا۔

ایک دن شیر شکاریوں کے لگائے ہوئے جال میں پھنس گیا۔ تمام کوشش کے باوجود وہ جال سے نہ نکل پایا۔ خوش قسمتی سے بندر وہاں آ گیا تو اس نے شیر کو جال سے نکالا۔ شیر نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ بندر کے احسان کا بدلہ چکائے گا۔

کئی برس بعد دیوتاؤں کے بادشاہ نیلم دیوتا نے آسمان کو بارہ برجوں میں تقسیم کر کے ہر برج کے لیے ایک جانور سلیکٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جانوروں کے بادشاہ کی حیثیت سے شیر کو سب سے پہلے منتخب کر لیا گیا۔ بندر بھی چاہتا تھا کہ اس کی سلیکشن بھی ہو جائے۔ اس نے شیر سے سفارش کرنے کا کہا اور اسے وعدہ یاد دلایا۔

شیر سفارش کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اس نے نیلم دیوتا سے بندر کی عقلمندی کا ذکر کر کے اس کی بے حد سفارش کی۔ نیلم دیوتا کو کچھ ہچکچاہٹ ہوئی مگر آخر کار بندر کو سلیکٹ کر لیا گیا۔ یوں بندر کو نہ صرف ایک برج مل گیا بلکہ ہر بارہ برس بعد ایک سال بھی بندر کے نام سے منسوب ہونے لگا۔

کچھ مدت بعد شیر اور بندر کی دوستی ختم ہو گئی۔ یوں یہ کہاوت کہ ”شیر پہاڑ سے جائے تو بندر بادشاہ بن جاتا ہے“ ، طنزیہ انداز میں استعمال ہونے لگی کہ اصل حکمران کی عدم موجودگی میں نااہل شخص بھی بادشاہ بن جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply