کیا انگریزی جاننا پڑھا لکھا ہونے کی لازمی شرط ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کو اللہ نے جہاں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ، وہیں ایک نعمت قومی زبان اردو بھی ہے۔ اردو میں فارسی ،عربی اور ترکی کے الفاظ موجود ہیں اور اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہ دنیا پھر میں بولی جاتی ہے اور 1999ء کی مردم شماری کے مطابق دس کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اردو بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کہ نویں بڑی زبان ہونے کا درجہ رکھتی ہے۔ اردو زبان میں فارسی کا کافی رنگ نظر آتا ہے جس کہ وجہ یہ ہے کہ محمود غزنوی کے دور سے لے کر مغل بادشاہوں کے دور تک اسے دفتری زبان کا درجہ حاصل رہا۔

برصغیر پر برطانوی تسلط کے بعد انگریزی کو دفتری زبان بنا دیا گیا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہم ابھی تک غلامی کا طوق گلے میں ڈالے انگریزی کو ہی پوجتے آ رہے ہیں جو کہ غلامی زدہ قوم کی نشانی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے اور اسی زبان کو تعلیم و تعلّم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر مملکت خداداد پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ہم سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں قومی زبان کی بجائے فرنگی زبان کو ترجیح دیتے ہوئے اسے تعلیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جو کہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

اسی قومی زبان اردو کے بارے پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ ”پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے اور یہ آئین کے نفاذ کے پندرہ سال کے اندر ملک میں رائج ہو جانی چاہیے“ ۔ پاکستان کا آئین 1973 میں رائج ہو گیا لہٰذا اصولاً 1988 تک اردو کو مکمل طور پر پاکستان میں ہر شعبہ میں رائج ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر اتنے لمبے عرصے میں ہمارے حکمران اردو کو مکمل طور پر رائج کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔

ایک بڑی وجہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کی حکمرانی ہے جو اپنی اولادوں کو بیرون ملک تعلیم کے لئے روانہ کرتے ہیں اور وطن واپسی پر پاکستانی عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ یوں یہ انگریزی زبان میں بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والے بابو جن کو اردو ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی اور الفاظ کا حلیہ بگاڑ کر بولتے ہیں وہ ان افراد پر حکمرانی کرتے ہیں جو ان سے ہزار گنا زیادہ قابلیت رکھتے ہیں۔

ہمارے ہاں انگریزی کو اعلیٰ معیار زندگی کے نشان کے طور سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ تمام ترقی یافتہ اقوام بشمول چائنہ ، کوریا وغیرہ نے اپنی زبان میں ترقی کی ہے۔ ہم کم انگریزی جاننے اور بولنے والے افراد کو جاہل قرار دیتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ قاصد علی رحمان جو کہ صرف پانچ جماعتیں پڑھے ہیں اور ایک کتاب کے مصنف ہیں وہ خود کو ان پڑھ کہتے ہیں۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں انگریزی نہیں جانتا ، اسی لئے دوسروں کی نظر میں ان پڑھ ہوں۔ خود کو ان پڑھ کہنے والا شخص ایک کتاب کا مصنف کیسے بن گیا؟ اس کا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ اردو ہماری قومی اور عام فہم زبان ہے لہٰذا اس زبان میں اپنے خیالات و تجربات کو لکھنا اور دوسروں تک پہنچانا آسان کام ہے نسبتاً اس کے کہ انگریزی زبان میں خیالات کو ڈھالا جائے اور ان کا رنگ ہی بدل جائے۔

پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ ”مملکت سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو واجب التعمیل ذمہ داری ہے“ ۔ یوں آئین کے آٹیکل 251 اور آرٹیکل 5 کی رو سے ”ہمارا بطور شہری یہ فرض ہے کہ ہم آئین و قانون کی پاسداری کریں“ ۔ لہٰذا پاکستان میں اردو کا نفاذ نہ ہونا اور سرکاری عہدوں پر موجود افراد کا انگریزی کو استعمال کرنا آئین سے کھلی بغاوت ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی صدارت کرتے ہوئے 8 ستمبر 2015 کو پاکستان میں نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ سنایا اور اس کے بعد بھی جو حکومتی مشینری انگریزی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہے ، یہ سب کچھ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان میں ہر سال تین سے چار سو لوگ پاس ہوتے ہیں۔ اب اس بات کو کہنا کہ بیس کروڑ عوام میں سے صرف اتنے لوگ پاس ہوئے ہیں تو عوام میں قابل لوگوں کی کمی ہے یہ نہایت احمقانہ سوچ ہے۔

باقی تمام لوگ صرف انگریزی کی وجہ سے فیل ہوتے ہیں ، اس لئے اگر یہی امتحان ایک سال اردو میں لیا جائے تو پاس ہونے والوں کی شرح کئی گنا بڑھ جائے گی۔ مگر حکومت اس معاملے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ اردو کے نفاذ سے بہت سی کالی بھیڑوں کی روزی روٹی بند ہو جائے گی۔ لوگ اپنے نوٹس پیسے دے کر وکلاء سے پڑھوانے نہیں جائیں گے۔ عدالتیں اردو میں فیصلے لکھیں گی جسے سائل خود پڑھ کر سمجھ سکے گا۔ ڈاکٹر اپنی پرچی پر مرض کی تشخیص کے متعلق اردو میں تحریر کریں گے تو مریض کو مرض کا اندازہ آسانی سے ہو جائے گا۔ نیز ہر شعبہ زندگی میں آسانی پیدا ہو گی اور ملک مجموعی بطور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ ریسرچ کے میدان میں بہتری آئے گی۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرح نئی نئی ایجادات ہوں گی جس سے برآمدات میں اضافہ ہو گا اور ڈوبتی ہوئی معیشت میں بہتری آئے گی۔

لہٰذا پاکستانیو‍ں کی حکومت وقت سے گزارش ہے کہ آئین و قانون کے مطابق عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کی روشنی میں اس سال پاکستان کے ہر شعبہ میں اردو کا نفاذ کیا جائے۔ ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دے کر تمام سرکاری فارم و کتب اور تعلیمی نصاب کا اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ یوں شرح خواندگی میں ریکارڈ اضافہ ہو گا اور قائداعظم و علامہ اقبال کے خواب شرمندہ تعبیر ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply