یادیں: میری ماں اور بھرے بھڑولے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھڑولہ تقریباً ہر شخص کے لیے معلوم اور مقبول لفظ ہے۔ یہ مٹی یا جستی چادر سے بنا بڑے سائز کا ڈرم نما ذخیرہ ہے جس میں گندم یا چاول محفوظ کیے جاتے ہیں۔ آنے والے پورے سال کے لیے گندم اس میں محفوظ کر لی جاتی ہے۔ بھڑولہ سالانہ بنیادوں پر گندم کی اپنی ضرورت کے مطابق بھرا جاتا ہے۔ واصف علی واصف نے اپنی ایک کتاب بھی ”بھرے بھڑولے“ کے نام سے معنون کی تھی۔ اس کتاب میں ان کا صوفی بخوبی نظر آتا ہے۔

بچپن کی یادوں میں جھانکیں تو ہمارے گھر کے صحن میں دو بھڑولے رکھے گئے تھے۔ دونوں مٹی اور بھوسے کو گوندھ کر بنائے گئے تھے۔ بھوسے کو کئی روز تک بھگویا گیا تھا۔ اس کے ریشے بہت نرم ہو چکے تھے۔ وہ اس طرح تھا جیسے کاغذ جیب میں رہ جائے اور کپڑا کی دھلائی ہو جائے۔ بھڑولے کا میٹیریل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

ابو کو علی الصبح نماز اور اس کے بعد ورزش کا شوق تھا۔ وہ ہاتھوں میں دو اینٹیں تھام کر انہیں گھماتے، کندھوں اور بازؤں کی ورزش کرتے اور ہم انہیں دیکھ کر ہنستے، مسکراتے۔ کبھی کبھار ان اینٹوں سے طبع آزمائی کرتے، نقل کرتے اور اینٹوں کو اسی کونے یا دیوار کے ساتھ واپس رکھ دیتے۔

والدہ کو ان بھڑولوں سے بڑا پیار تھا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ نانی نے بنوا کر گاؤں سے بھجوائے تھے۔ اندازہ نہیں کہ یہ دونوں بھڑولے کسی ریڑھے یا ٹرالی پر بھیجے گئے تھے یا یہیں بنانے کے لیے ماہرین کو بلایا گیا تھا۔ مگر ان کی حفاظت سے اندازہ ہوتا تھا کہ اماں کو ان سے بہت پیار تھا۔

ایک صبح جاگے تو بھڑولہ ٹوٹا پڑا تھا۔ گندم زمین پر بکھری ہوئی تھی۔ اماں کی رندھی آواز سنائی دے رہی تھی اور ابا ایک کونے میں خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ ابا کی ورزش والی اینٹ ہاتھ سے چھوٹی اور بھڑولے کا کام تمام کر گئی۔ وہ یہ ضرب نہ سہہ سکا اور زمین بوس ہو گیا۔ ایک عہد کی خوبصورت تخلیق، انٹیک کا اختتام ہوا اور جستی بھڑولے نے اس کی جگہ لے لی۔ ابا جی نے جستی چادر سے بنے بھڑولے کا اہتمام کر دیا۔ مگر وہ مٹی کا بھڑولہ ٹوٹنا امی کے دل میں ایک پھانس کی مانند تھا۔

بھڑولے کے متعلقہ گفتگو کا سب سے اہم پہلو برکت اور بے برکتی سے معنون ہے۔ ہر سال گندم کی فصل تیار ہوتی، اکٹھی گندم کی خریداری ہوتی، اسے پنکھے سے اڑایا جاتا، بھوسہ اور تنکے الگ کیے جاتے اور پھر دھوپ میں خشک کر کے بھڑولے میں بھر دیا جاتا۔ بھڑولے کا ڈھکن بند ہو جاتا۔ ازاں بعد ضرورت کے مطابق گندم نکالی جاتی۔ اسے چنا جاتا۔ مٹی اور کنکر نکالے جاتے۔ ایک ایک دانا چن کر اسے بوری میں بند کیا جاتا اور چکی پر بھجوا دیا جاتا۔

ہم نے کبھی کبھار ڈھکن کھولنے کی کوشش کی مگر ڈانٹ دیا گیا۔ امی نے کہا کہ ”اسے کھول کر نہیں دیکھا کرتے، اس سے بے برکتی ہوتی ہے۔ اللہ پر بھروسا رکھ کر استعمال کرتے رہیں یہ دانے کبھی ختم نہیں ہوں گے“ ہمیں یہ فلاسفی سمجھ نہ آئی اور نہ ہی پورا سال اس بھڑولے کا ڈھکن کھلتا تھا۔ سال بعد نئی گندم کی آمد سے پہلے بھڑولہ کھلتا اور تین چار من گندم موجود ہوتی تھی۔ والدہ کہتی تھیں کہ اس سال چار من گندم کم کر دیں۔

چار من گندم کم خریدی جاتی اور بھڑولہ پھر بھر دیا جاتا۔ ضرورت کے مطابق پسائی کے لئے گندم نکلتی، ایک ایک دانہ صاف کیا جاتا، بوری میں بھر کر چکی پر پہنچتی اور اماں کا اصرار ہوتا کہ دیکھیے گا کہ چکی پر گندم تبدیل نہ ہو جائے۔ آٹے کی چکی پر ہر بوری سے ’کاٹ‘ لی جاتی تھی۔ کاٹ سے مراد یہ کہ ایک من گندم کی پسائی پر ایک کلو آٹا اور اس کی رقم وصول کی جاتی تھی۔ چکی پر اکٹھا ہونے والا آٹا مختلف گندم کا ہوتا تھا۔ اماں کا اصرار ہوتا کہ ہماری ہی گندم کا آٹا گھر پہنچنا چاہیے۔ اس کی وجہ بھی بہت اہم تھی۔ انہوں نے ایک ایک دانا چن کر بوری میں بھرا ہوتا تھا۔ وہ بھلا کیوں کر کسی دوسرے کا پتھر، کنکر یا مٹی ملا آٹا اپنے بچوں کو کھلاتیں۔

بھڑولے سے ہر سال گندم کم کر دی جاتی۔ ہم سمجھتے رہے کہ برکت اور بے برکتی والا معاملہ ہے۔ مگر یہ تو پنکھوؤں کا اپنے گھونسلے سے اڑ جانے والا معاملہ تھا۔ سب سے پہلا پنکھو سب سے بڑی باجی کی شادی تھا۔ ازاں بعد دوسری بہن بھی اپنے گھر کو چل دیں۔ برکت اور بے برکتی کے معاملات سے جڑا تیسرا پنکھو میں تھا۔ روزگار کی چکی کے پاٹوں میں ایسا پھنسا کہ نہ صاف گندم کا آٹا میسر آ سکا اور نہ ہی ایک ایک دانہ چنی ہوئی گندم کا ذائقہ دوبارہ مقدر ٹھہرا۔ مختلف چکیوں اور فلور ملز کے سفید، سرخ آٹے مقدر ٹھہرے۔ دونوں بھائی بھی پردیسیوں کی طرح اسلام آباد کے فلور ملز کے آٹوں پر انحصار کرنے لگے۔ سب سے چھوٹی بہن نے ہاسٹل کی راہ لی۔

ماں کا بھڑولہ اسی طرح ہر سال بھرا جاتا ہے۔ عینک لگا کر گندم کا ایک ایک دانہ صاف کیا جاتا ہے۔ بوری اسی طرح چکی پر پہنچتی ہے۔ حاجی یعقوب اسی لال رنگ سے بوری پر لکھا جاتا ہے۔ آٹا واپس گھر پہنچتا ہے تو بوری کا منہ کھول دیا جاتا ہے۔ اس آٹے کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ بقول امی گرم رہنے سے آٹے کی غذائیت کم ہو جاتی ہے۔ روٹی اچھی نہیں بنتی ہے۔ آٹا گوندھ کر فوراً روٹی نہیں پکائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے روٹی اچھی نہیں بنتی ہے۔ آٹا گوندھ کر کچھ دیر کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔

ہمیں تو کبھی آٹا پیسنے، گوندھنے، روٹی پکانے کے پورے عمل میں اخلاص، محبت اور انسیت کی ملاوٹ کا احساس ہی نہیں ہوا۔ مائیں کیسی کیسی چیزوں کی ملاوٹ کرتی ہیں۔ بچوں کو کیا کیا کھلانا چاہتی ہیں۔ ہم تو بس اسے گرم یا ٹھنڈی روٹی ہی سمجھتے ہیں۔ اچھا سالن نہ ہو تو کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ”باہر سے کھا آیا ہوں“ کہہ کر ہلکی سی مسکراہٹ اچھالتے ہیں اور پھر اپنے کاموں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ میرا ایمان و ایقان ہے کہ ماں اگر ہمیں کھانا کھاتے نہ دیکھے تو اس کی رات تکلیف میں گزرتی ہو گی۔ وہ بچوں کو اپنے سامنے کھانا کھاتے دیکھنا چاہتی ہیں۔ ہم بچے کبھی پنکھو بن کر اڑ جاتے ہیں اور کبھی ”کھا آیا ہوں“ کہہ کر اس کی تکلیف میں ایک کانٹا اور رکھ دیتے ہیں۔

کوشش کریں، باہر سے کھانا ضرور کھائیں مگر جب موقع ملے تو ماں کے ہاتھوں بنی روٹی ضرور کھائیں۔ ہو سکتا ہے وقت آپ کو مہلت ہی نہ دے اور آپ ایک ایک دانہ صاف کی گندم، اس کے ٹمپریچر کا خیال رکھے گئے آٹا، گوندھنے کے بعد باہم چپکنے کا انتظار کرنا اور پھر اس کی روٹی بنانے تک کی لذت کو دوبارہ نہ پا سکیں۔ پھر آپ کے مقدر میں فلور ملز کی پسی گندم میں ماں کی گندھی محبت نہیں ملے گی۔ آپ کو ماں کے ہاتھوں کا لمس روٹی میں محسوس نہیں ہو گا۔ ہو سکتا ہے ہمیں ”بھرے بھڑولے“ دوبارہ میسر نہ آ سکیں۔ مائیں کھانوں میں کیا کیا ملاوٹ کرتی ہیں ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply