خدا کی بستی میں بستا سائیں امر جلیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیس کے چاق و چوبند دستے گاڑیوں سے اتر رہے ہیں اور پھرتی سے یہاں وہاں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔ نیچے سڑک پر اوپر عمارتوں پر شکرا نظر بندوقچی سانس بند انداز میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ خاتون نے گھر کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک اچھلتے پھدکتے افسر سے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا، خیر تو ہے کون سا قیامت آ گیا ہے؟ افسر بولا، وزیر اعظم آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی خاتون کی سانس بحال ہو گئی۔ طنزیہ سے انداز میں مسکرائی اور بولی، مڑا اچھل کود تو تم لوگوں نے ایسا لگا رکھا ہے، جیسے ڈپٹی کمشنر آ رہا ہے۔

عقیدہ تو ویسے بھی ایک خوش گوار سا وراثتی جبر ہوتا ہے۔ خدا کا معاملہ اس سے بھی زیادہ گمبھیر ہے۔ ہمارے ہاں خدا کی دریافت میں کسی کو کسی دقت سے گزرنا نہیں پڑتا۔ جس کی طرف اشارہ کر کے اماں ابا نے کہہ دیا کہ یہ خدا ہے، ہم نے مان لیا۔ لفظوں میں کھینچ کے کسی فیملی واعظ نے تصویر بنا کر کہا کہ خدا ایسا ہوتا ہے، ہم نے مان لیا۔

جب عقل داڑھ نکلی تو زمانے سے ہم نے اتنی سی بات پر سینگ اڑا لیے کہ بھائی تمہارا خدا میرے خدا سے مختلف کیوں ہے؟ اتنی سی بات سمجھنے سے ہم عاجز ہیں کہ جس سے ہم لڑ رہے ہیں، اس کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس کا خدا مختلف ہے۔ اس کا مسئلہ تو یہ ہے کہ اس کا باپ مختلف ہے۔ جس سہولت سے ہم اپنے والدین پر ایمان لاتے ہیں اسی سہولت سے دوسرے لوگ اپنے والدین پر کیونکر ایمان نہ لائیں۔ ہم سب کا خدا ضرور مختلف ہے، اندھی پیروی کی روایت ہر گز مختلف نہیں ہے۔

مملکت ضیا داد پاکستان میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ خدا کی خدائی کا دائرہ سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ اس میں قصور خدا کا نہیں ہے۔ منظر اگر پورے پس منظر کے ساتھ کسی کی آنکھ میں نہیں سما رہا تو اس میں منظر کا کیا قصور ہے۔ بات یہ ہے کہ یہاں خواندگی کی شرح تیزی سے گرتی چلی جا رہی ہے اور جو پڑھایا جا رہا ہے وہ تفرقے کا ایک منفرد نصاب ہے۔ لازمی نتیجے کے طور پر شعور کی آنکھ سکڑتی چلی جا رہی ہے۔

جس ملک میں لوگ جلی ہوئی روٹیوں، گندے ٹماٹروں اور بھینس کی میلی آنکھ پر خدا کا نام ڈھونڈ رہے ہوں وہاں اندازہ لگا لینا چاہیے کہ شعور کی آنکھ کا کینوس سکڑتے سکڑتے کتنا رہ گیا ہوگا۔ جتنا رہ گیا ہے، اس پر بہت سے بہت بھی کسی خدا کی خدائی پینٹ کر دی جائے تو اس میں وسعت کے کتنے رنگ ہوں گے؟

ہوتے ہوتے اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ معاملہ کوئٹہ کے ڈی سی اور پاکستان کے وزیر اعظم والا ہو گیا ہے۔ افسر کا جواب ہرگز غلط نہیں تھا مگر آپ دیکھیے کہ خاتون نے کس اعتماد سے اس کی پھرتیوں پر طنز کسا۔ یہ اعتماد علم کا نہیں تھا، لاعلمی کا تھا۔ وہ لاعلمی جسے ہم حاصل علم سمجھ لیتے ہیں۔ جس طرف جائیے وہاں کوئٹہ کی خاتون والی طنزیہ مسکراہٹ لیے لوگ کھڑے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کی سکڑی ہوئی آنکھ نے ڈپٹی کمشنر سے آگے کچھ نہیں دیکھا۔ جب نہیں دیکھا تو کیسے جانیں کہ مملکت کے سربراہ کو کیا کہتے ہیں اور اس کا پروٹوکول کیا ہوتا ہے؟ اس لاعلمی کی سزا افسر کو کیسے دی جا سکتی ہے۔ پھر اس لاعلمی کو صرف اس لیے حاصل علم کیسے مانا جا سکتا ہے کہ اکثریت کی نگاہ ڈپٹی کمشنر سے آگے دیکھنے سے عاجز ہے۔

جہاں آنکھیں سکڑ جاتی ہیں، وہاں منظر کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ لوگ کم پر قناعت کر لیتے ہیں اور زیادہ سے گھبرانے لگتے ہیں۔ ایسے میں جو اہل نظر ہوتے ہیں، وہ بزرگوں کی بزرگی کا احترام ضرور کرتے ہیں مگر ان کے دیے ہوئے خدا پر قناعت نہیں کرتے۔ وہ اپنا خدا آپ ڈھونڈ کے نکالتے ہیں۔ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے۔ یہ بات اقبال نے کہی تھی۔ یہ اقبال نے کہی تھی تو دیکھیے کہ اقبال تک کا خدا بھی خود اہل خدا سے کتنا مختلف ہے۔ سکڑتی آنکھوں نے پاکستان میں ایک خدا کا سائز ہی کم نہیں کیا، اقبال کی بھی بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کچی آبادی میں قبضے کی زمین پر بنائی گئی کسی مسجد کے امام کا تعارف کروایا جا رہا ہے۔ اب تو کتابوں میں بھی وہ اقبال ملتا ہے، جس پر تحریک لبیک کے ضلعی امیر سے زیادہ کا گمان نہیں گزرتا۔

اہل حرم سے کیا گلہ کیجیے، ایک دن تو موج میں آ کر ایاز امیر صاحب نے بھی لکھ دیا کہ خادم رضوی اقبالیات کے ماہر ہیں۔ محفل میں ایک دن ایاز امیر صاحب کے اس دعوے پر کسی نے افسوس کا اظہار کیا تو اکثریت نے بیک زبان کہا، اچھا تو اس میں غلط کیا ہے؟

امر جلیل حساس لوگوں کے اسی قبیلے سے ہیں، جہاں شعور کی آنکھ بسم اللہ کے گنبد میں پروان نہیں چڑھتی۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جنہوں نے بچپن میں خدا کا تصور اپنے کسی ہیبت ناک دادا یا جلالی والد کی شکل میں نہیں کیا ہوتا۔ کسی حلق پھاڑ خطیب اور سخت گیر پیر کی صورت میں بھی نہیں کیا ہوتا۔ انہوں نے خدا کو اول اول ماں جی کی شکل میں تصور کیا ہوتا ہے۔ دراصل یہ نرم دل لوگ ہوتے ہیں، جن کا خمیر محبت سے اٹھا ہوتا ہے۔ یہ محبت کرتے ہیں اور محبت کے جواب میں محبت کی توقع رکھتے ہیں۔ زندگی کے افسانے میں یہ کسی جلالی اور قہاری کردار سے متاثر نہیں ہوتے۔ یہ حسن کا سامنا شوق سے کرتے ہیں۔ اونچی اور بے ہنگم آوازیں ان کے ذوق پر گراں گزرتی ہیں۔ بے وزن مصرعوں سے انہیں کوفت ہوتی ہے۔ جو سر میں نہ ہو وہ گیت ان کی طبعیت پر بوجھ ہوتے ہیں۔ جو ترتیب میں نہ ہو، اس بات کو سن تو لیتے ہیں، مگر دھیان نہیں دیتے۔ بارش میں بھیگنا ہی ان کے لیے کوئی معاملہ نہیں ہوتا، قطروں میں انہیں ایک طرح کا ردھم بھی چاہیے ہوتا ہے۔

اب وہ لوگ جو موسیقی کی شعوری طور پر تحقیر کرتے ہیں، مجسموں کو راکٹوں سے داغتے ہیں، مصور کو کار خدائی میں دخل انداز سمجھتے ہیں، مصرعے کو وضو کا پابند کرتے ہیں، سائنس دان سے اس کا عقیدہ پوچھتے ہیں، انکار پر تیزاب چھڑکتے ہیں، اقرار پر غیرت کھا جاتے ہیں، سوال کو گھیر کے سنگسار کرتے ہیں، خراب لاؤڈ سپیکر تک کے استعمال کو اپنا انسانی حق جتلاتے ہیں، اونچی آواز میں بات کرنا پسند کرتے ہیں، مکالموں پر مناظروں کو فضیلت دیتے ہیں، سر اور ساز پر خون تھوکتے ہیں، رقص کو ہراساں کرتے ہیں، صنف اور جنس کی بنیاد پر شہریوں میں فرق روا رکھتے ہیں، عقیدے کی بنیاد پر شہری کا انسانی درجہ کھا جاتے ہیں، بچوں پر جبر اپنی بزرگی کا صدقہ سمجھتے ہیں، بدکلامی کو خطبہ کہتے ہیں، بدمزگی کو غیرت سے تعبیر کرتے ہیں، طنز و مزاح کو غیر سنجیدگی سے تعبیر کرتے ہیں، وہ کسی ایسے خدا کا خاکہ کیسے کھینچ سکتے ہیں، جو بے تکلف ہو، نرم دل ہو اور ساری انسانیت کا بلا امتیاز خدا ہو۔

ایسے کم نگاہ لوگ خدا کا جو بھی خاکہ کھینچیں گے، زمانے کا کوئی بھی امر جلیل اس خدا سے مطمئن کیسے ہو پائے گا؟ کیا جستجو کے مارے یہ لوگ صرف اس لیے خاموش ہو جائیں کہ فرقہ پرستوں نے اتفاق کر لیا ہے کہ خدا صنف کی بنیاد پر انسانوں میں کسی امتیاز کا قائل ہے؟ خدا کو اس تہمت سے بچانے والے کو تو سنگسار کر دیا جائے مگر تہمت دھرنے والوں کو صرف اس لیے معاف کر دیا جائے کہ وہ تعداد میں زیادہ ہیں؟ امر جلیل کے خیال میں اگر وسعت ہے تو وہ اس نعمت کا کفران کیوں کرے۔ خیال کا شکرانہ یہ ہے کہ اسے تائید سے بے نیاز ہو کر ظاہر کر دیا جائے۔

ویسے بھی کب کوئی امر جلیل اپنی بات کہنے سے رکا ہے۔ بات کرتے ہوئے کب انہوں نے اصرار کیا ہے کہ ان کی بات لازمی سنی جائے اور ضرور مانی جائے۔ کوئی ان کی بات نہیں سنتا تو یہ ہرگز دل چھوٹا نہیں کرتے۔ چراغ طور جلاتے ہیں اور براہ راست خدا سے ہم کلام ہو جاتے ہیں۔ یہ کسی کے خدا سے کلام نہیں کرتے، اپنی زبان میں اپنے خدا سے بات کرتے ہیں۔

خدا کو پسند ہے کہ لوگ اس سے اپنی اپنی زبان میں بات کریں۔ امر جلیل کی زبان لٹریچر ہے، سو وہ اسی زبان میں بات کرتے ہیں۔ معاشرے کا ایک بڑا حصہ چونکہ یہ زبان نہیں سمجھتا تو اسے لگتا ہے کہ شاید خدا بھی نہیں سمجھتا۔ حرف اگر خدا کی بستی سے ہجرت کر گیا ہے تو سائیں امر جلیل کی اس میں کیا غلطی ہے، اللہ سائیں کا اس میں کیا قصور ہے؟
بشکریہ ڈوئچے ویلے اردو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply