آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا۔ اس کے گال تھپڑوں سے سرخ ہو چکے تھے۔ شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی۔ امی میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ شاید یہ ایک جملہ قتل نا حق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ چناں چہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا۔
عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی۔ اس کے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی۔ عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی۔ دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوب صوت بچہ ہے۔ بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اس کی مرہم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی، لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے، تمام آزمائے گئے مگر یہ خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
Read more