کریئر کونسلنگ کا فقدان اور فیملی کا دباؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آٹھویں کلاس میں پہنچ کرگھر والوں کے کہنے پر کمپیوٹر سائنس لے لی۔ پتا نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے بس جو گھر والے جو بولتے تھے وہ ہی کرنا ہوتا تھا۔ پھر میٹرک کے بعد کالج، یعنی پری انجنئیرنگ میں داخلہ لے لیا۔ گھر والے کہتے تھے کہ این ای ڈی میں داخلہ لینا ہے۔ ہم پری انجینئرنگ والے نہیں تھے مگر مجبوری۔ انٹر میں فیل ہو گئے لیکن کچھ محنت کر کے پاس ہو گئے، انٹر ہو گیا نمبر خراب تھے۔ کے یو میں داخلہ مل گیا 5 آپشن لکھے نمبر اس قابل نہیں تھے کہ اچھا ڈیپارٹمنٹ ملتا۔

شعبہ فلسفے میں داخلہ ہو گیا تھوڑا دماغ کھل گیا۔ لیکن کمانے کے لئے کوئی صاحب حیثیت ڈگری چاہیے تھی اور پھر ماس کام کیا اور پھر میڈیا کی جانب آ گئے۔ کنفیوژن کے اس پورے سلسلے میں 7 سے 8 سال لگ گئے وہ اس لئے کہ کوئی بتانے والا، سمجھانے والا نہیں تھا۔ گھر والوں نے دو خواب دیکھے تھے کہ این ای ڈی کا انجینئر یا پھر بینکر۔ ہاں جی مڈل کلاس فیملی کے والدین کی ڈریم جاب بینک کی نوکری ہے، یعنی اگر کوئی زبردستی کی ڈگری کرنی ہے تو بی کام اور سو کالڈ وائٹ کالر جاب کرنی ہے تو بینک کی نوکری۔

ہمارے ملک کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے نوجوان یعنی ملک کی ریڑھ کی ہڈی، نوجوان یعنی جوش والا خون، نوجوان یعنی جذبے سے سرشار، نوجوان یعنی مضبوط اعصاب۔ یہ کسی بھی ملک کے لئے خوش قسمتی کا باعث ہے کہ اس کی آبادی کا اتنا بڑا حصہ نوجوانوں پر مبنی ہے۔ پاکستانی نوجوان بلا شبہ بہت ہوشیار اور عقلمند ہے اور ان کی قابلیت اکثر اوقات سامنے آتی رہتی ہے۔ نوجوانوں کا کچھ حصہ تو سوشل میڈیا میں لگ کر اپنا وقت برباد کر رہا ہے مگر ایک بہت بڑ ا طبقہ ابھی بھی باقی ہے جو اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے کچھ کرگزرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔

وہ نوجوان جو اپنے اور اپنے ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس قوت تو ہے مگر کس منزل کو جانا ہے معلوم نہیں۔ ان کے پاس ارادے تو ہیں مگر منزل مبہم سی ہے۔ کوئی بتانے والا نہیں ہے کہ کرنا کیا ہے؟ کوئی سمجھانے والا نہیں ہے کیسے کرنا ہے؟ کچھ خوش قسمت نوجوانوں کے علاوہ اکثریت کو اپنی منزل کے بارے میں پتا نہیں۔ اس کی دلچسپی کیا ہے اس کو یہ ہی سمجھ نہیں آتا۔ اس کو اپنی ڈگری کرنی ہوتی ہے نہ کہ تعلیم مکمل کرنی ہوتی ہے کیونکہ اس پر نوکری کا پریشر ہوتا اور گھر والوں کا دباؤ الگ۔

ایک ناکامی کا خوف ہوتا ہے جو اسے مسلسل خوف دلاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں اور یہ روبوٹ بن جاتے ہیں۔ اسی خوف نے لاکھوں نوجوانوں کی تخلیقی ذہن کو روبوٹک ذہن بنا دیا ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی بڑی تعداد آج تک کنفیوز ہے کہ ان کو کرنا کیا ہے کیوں کہ کرئیر کونسلنگ کے اداروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور گھر میں بھی ایسا ماحول نہیں جومستقبل کے لئے اس کے حیققی منزل متعین کرسکیں۔

پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں کی ہے یعنی مستقبل روشن ہے مگر ان روشنیوں کوجگمگانے کا موقع نہیں مل رہا۔ نوجوان کو یہ نہیں سکھانا کہ اس فیلڈ میں جاؤ بلکہ ان کی دلچسپی کو سمجھا جائے پھر اس کے بعد ان کو گائیڈ کیا جائے کہ یہ پیشہ تمھاری دلچسپی ہے اوراس کو اس طرح چنا جاسکتا ہے۔ اسی طرح والدین کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ انجئینر، ڈاکٹر، پائلٹ اور بینکر کے علاوہ بھی بہت سی فیلڈ ہیں جس کو چنا جاسکتا ہے جس میں مستقبل بھی روشن ہے اور پھر زندگی بھر دلچسپی بھی رہے گی ورنہ مشین بن کر کام کرتے رہنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *