علامہ ابن کثیر سے لے کر امر جلیل تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک چرواہے پر پڑی۔ وہ اپنے خدا کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یا اللہ اگر تو میرے پاس ہو تو میں تیرے بالوں میں کنگھی کروں، تیری جوئیں نکالوں، تیری خدمت کروں، تجھے کھانے پینے کے لیے کچھ پیش کروں، اگر تو بیمار ہو تو تیری تیمار داری کروں، اگر مجھے تیری رہائش کا علم ہو تو میں صبح شام تمہارے لیے کھانے پینے کا سامان لاؤں۔ میں اپنی تمام بکریاں تیری ذات پہ قربان کروں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس چرواہے سے دریافت کیا کہ تم کس سے باتیں کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنے اللہ سے مخاطب ہوں جس نے ہمیں پیدا کیا اور زمین اور آسمان تخلیق فرمائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم شرک بک رہے ہو۔ اپنا منہ بند رکھو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ شنہشاہوں کا شنہشاہ ہے۔ وہ ایسی خدمت سے بے نیاز ہے۔ چرواہا یہ سن کر از حد نادم ہوا اور جنگل کی جانب بھا گ نکلا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور شکوہ کیا کہ تم نے ہمارے بندے کو ہم سے جدا کر دیا ہے۔ تجھے دنیا میں اس لیے بھیجا گیا تھا کہ تم ہمارے بندوں کو ہمارے ساتھ ملاؤ، لیکن تم نے ہمارے بندوں کو ہم سے جدا کرنے کا وتیرہ اپنا لیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کی ناراضی محسوس کی، تب وہ اس چراوہے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور بالآخر اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر چرواہے سے کہا کہ تمہیں اجازت ہے تم جس طرح چاہو اللہ سے مخاطب ہو اور جس طرح چاہو اسی طرح اسے یاد کرو۔

یہ واقعہ کم و بیش انھی الفاظ میں یوٹیوب پہ بہت سے عالم دین نے بیان کیا ہے، اور گوگل پہ بھی مل جائے گا، مگر اس واقعہ کی تاریخ اور حوالہ کوئی نہی بتاتا۔

Elif Shafak ایک مایہ ناز ناول نگار نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہوا ہے، مگر تاریخ صرف اتنی نہی۔ جلال‌الدین محمد رومی‎ نے بارہویں صدی میں ”مثنوی معنوی“ میں اسی واقعہ کو لکھا ہے۔ اس کے علاوہ انسٹیویٹ آف اسماعیلی سٹیڈیز نے ( 2015 ) Faith and Practice in Islamic Traditions, volume 1 میں بھی موجود ہے۔ یہی نہی بعض روایات کے مطابق یہ اسرائیلی حکایات میں سے ایک ہے۔ جسے پہلے رومی نے پھر باقی سب نے لکھا اور بیان کیا۔ مسلمان علما نے ایسے بہت سی اسرائیلی حکایات کو قرآن کی تفاسیر مں احادیث کے تراجم میں بیان کیا ہے۔ فرامرز حج منوچہری ایرانی ریسیرچر ہیں ان کی ریسیرچ اسلامی انساکلئیوپیڈیا پہ ہے، منوچہری کے مطابق

”اسرائیلی حکایات، کہانیوں اور تصورات کی اصطلاح اسلامی تعلیمات کی لیے، جو نہ صرف نبی کریم ﷺ کی تعلیمات، قرآن مجید اورخاص طور پر احادیث نبوی کی تشریح اور سائنس کے میدان میں، استعمال کی گئی، ۔ یہ قصہ گو کہانی، افسانہ سازی، اور غیر اصلی تعلیمات کے دیگر پہلوؤں پر مشتمل ہے، خاص طور پر پہلی جماعت میں ایک گروہ کے ذریعہ پہلی صدی ہجری میں یہودی۔ اسلامی۔ اور مسلم تعلیم کے حاشیے پر پہنچ گئے ہیں۔

مسلم مصنفین، جب گزشتہ ذرائع سے نقل کرتے ہیں تو، بعض اوقات واضح بیانات جیسے ”قدیم کتابوں کی کچھ کتابیں“ یا ”انبیاء کی کتابیں“ اس معاملے کا بیان دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں (مثال کے طور پر دیکھیں : جاز، البیان Bay) ۔ ، القاعبہ، 2 / 232 ؛ 25، سیوتى‌، «العرف‌۔ »، 384 ) ؛ البتہ، بعض معاملات میں، ماخذ کا تذکرہ کیے بغیر، تقریر صحابہ کرام اور پیروکاروں کے الفاظ کی شکل میں، یا دوسرے الفاظ میں، محدث احادیث کی صورت میں نقل کی گئی ہے۔ ماخذ اور ماخذ کی شناخت کے سلسلے میں، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان دونوں اقسام کی روایات کے مابین ایک بنیادی فرق موجود ہے، جو پہلی ایسی قسم ہے جو اپنی اسلام سے پہلے کی روایتوں میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ ”

ابن تیمیہ (ابن تیمیہ، ابید۔ ) نے آٹھویں صدی میں اور اس سے پہلے علامہ ابن کثیر نے ساتویں صدی میں ان اصولوں کی ترویج کی کے اسرائیلی حکایات کی روایات صرف گواہی کے طور پہ ہونی چاہیے۔ علامہ ابن کثیر نے تفسیر ابن کثیر میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے

”ولکن ہذہ الاحادیث الاسرائیلیة تذکر للاستشھاد، لا للاعتضاد، فانھا على ثلاثة اقسام:
احدھا: ما علمنا صحتہ مما بایدینا مما یشھد لہ بالصدق، فذاک صحیح۔
والثانی: ما علمنا کذبہ بما عندنا مما یخالفھ۔

والثالث: ما ہو مسکوت عنہ لا من ہذا القبیل ولا من ہذا القبیل، فلا نؤمن بہ ولا نکذبھ، وتجوز حکایتہ لما تقدم ”۔ ( تفسیر ابن کثیر، المقدمة: 1/9، دار طیبة للنشر والتوزیع، الطبعة الثانیة:1420ھ)

ترجمہ :۔ 1۔ جس کی تصدیق خود ہمارے ہاں موجود ہے، یعنی قرآن کی کسی آیت یا حدیث کے مطابق بنی اسرائیل کی کسی کتاب میں بھی کوئی روایت مل جائے، اس کی صحت میں تو کوئی کلام نہیں۔

2۔ جس کی تکذیب خود ہمارے ہاں موجود ہو، یعنی کسی آیت یا حدیث کے خلاف ہو، اس کے غلط ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

3۔ جس کی ہم نہ تصدیق کر سکتے ہیں نہ تکذیب، اس لیے کہ ہمارے ہاں نہ تو کوئی ایسی روایت ہے، جس کی مطابقت کی وجہ سے ہم اسے صحیح کہہ سکیں، نہ قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی حدیث کے مخالف ہو کہ اس بنا پر ہم اسے غلط کہہ سکیں۔

لہذا یہ تیسری قسم کی روایات وہ ہیں جن کے بارے میں ہمارے لیے یہ حکم ہے کہ خاموش رہیں، نہ انہیں غلط کہیں نہ صحیح سمجھیں، البتہ انہیں ذکر کرنا جائز ہے۔

ایسے بہت سے واقعات ہم تک پہنچے اور ہم آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے یں کے علما نے کہا اور ہم اسے مذہب کا اہم فریضہ سمجھنے لگتے ہیں۔

عجیب بات ہے نا جہاں بات مذہب کی ہو وہاں تحقیق صفر اور جہان بات تنقید کی ہو وہاں خدائی فوجدار۔ مذہب میں ہم بائبل سے، اسرائیلی روایات سے اسلامی تعلیمات کے لیے واقعات لے سکتے بقول علامہ ابن کثیر، پر استعمال کے لیے ان کی بنائی گئی اشیاء ہم پہ حرام کا درجہ رکھتی، یہ استعمال نا کرو حرام ہے وہ نا استعمال کرو حرام ہو گا، انگریزی چیزیں حرام ان کا بئیکاٹ ہونا چاہیے وغیرہ۔ یہی نہیں آج کل کوک سٹوڈیو میں بلھے شاہ کی کافیوں کو مذہبی رنگ میں پڑھنے والے، اس کو تقدیس سے بابا بلھے شاہ کہنے والے کیا جانتے ہیں کہ بلھے شاہ کو بھی کافر قراد دے کر اس وقت کے مولویوں نے ان کا جنازہ پڑھانے والے پر بھی فتوی باندھا کہ جو شادی شدہ مرد بلھے کا جنازہ پڑھائے گا، اس کا نکاح باطل ہو جائے گا، اور اگر کسی کنوارے نے پڑھایا تو مسلمان عورت سے اس کی شادی ممکن نہ ہوگی۔

اس وقت کی مسلمان آبادی نے احتجاج کیا کہ بلھے شاہ کو مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جائے۔ غرض ایک خواجہ سراء نے بلھے شاہ کا جنازہ پڑھایا، بھنگی، مست، کھسرے پنجابی کے شاعر کا جنازہ اٹھائے قصور شہرسے دو میل باہر جاکر دفن کر دیا گیا۔ ”

بلھے شاہ کی گمنام قبر کے گرد شہر پھیلتا گیا، آج قصوربلھے شاہ کا شہر کہلاتا ہے۔ وہ مولوی کون تھے جوجنازہ پڑھانے سے انکاری تھے۔ وہ چوہدری کون تھے جو لاش کو قبرستان میں دفن ہونے سے روکتے رہے۔ کوئی نہیں جانتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور چرواہے کا قصہ میں نے بہت سال پہلے سنا تھا ایک عالم دین سے، اور کچھ ہی دن پہلے پھر یاد آ گیا جب امر جلیل کا افسانہ پڑھا۔ ایک کو ہم مذہبی قصہ سمجھ کر سوچا بھی نہی کے اس کی روایات کہاں سے ہیں، اورجب کوئی مذہب کا نام لیے بنا کچھ درس و تدرس کرے، یا اللہ کی بات کرے تو ہمارا ایمان جوش میں آ جاتا ہے۔

metaphor (استعارے) کا استعمال لٹریچرکا خاصہ ہے پر ابھی ہم ناخواندہ ہیں لیٹریچرکو پڑھنے میں۔ کیونکہ چرواہا اور بھیڑوں کے ریوڑ کی اصطلاح لٹریچر میں کافی استعمال ہوئی ہے، جبکہ Jewish تو اس سے لیڈرشپ ماڈل بھی نکال چکے ہیں۔ اور ہمارے ہاں metaphor کا استعمال کرنے والی کو لعنتی کہا جاتا ہے۔

بحیثیت مسلمان اگر تو قرآن سے مدد لی جائے تو اہل کتاب سے رابطہ ہونا ان کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے، پر ہم خیالی قصہ کہانیوں کے کہنے والوں کی طرز پہ چلنے والے لوگ ہیں اسی لیے متشدد ہو چکے ہیں۔ قرآن کی زبان کہاں سمجھیں گے۔ قرآن کے ایک لفظ کا ترجمعہ جو تمام مفسرین نے کیا ہے میں اسے سمجھنے سے ابھی قاصر ہوں۔

قل ہو ٱللہ احدٌ [ سورہ اخلاص: آیت 1] ترجمعہ ”کہو وہ اللہ ایک [یکتا] ہے“
ایک، یکتا: مطلب جب دو کو ملایا جائے تب ایک بنتا ہے۔ انگریزی میں one کا مطلب ہے
combination of two half
جبکہ یہان احد کا مطلب تنہا ہونا چاہیے
اور ہمارا دعوٰی ہے مذہب کے داعی اور ٹھیکدار ہونے کا۔
سرتے ٹوپی، تے نیت کھوٹی، کی لینا سر ٹوپی دھر کے
تسبیح پھری پر دل نا پھریا، کی لینا ہتھ تسبیح پھڑ کے

دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو احساس اور اخلاق کی تبلیغ نہی کرتا تو مذہب کہلانے کے لائق ہی نہی۔ مذہب اصول و ضوابط کا نام ہے، ٹیکنالوجی بھی تو ہمیں اصول و ضوابط ہی دیتی ہے ہم ٹیکنالوجی میں منظم ہیں اور مذہب میں فرسٹریٹڈ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply