EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

امریکی عدالت نے ’شیطان کے جوتے‘ فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نائیکی کے مطابق ایم ایس سی ایچ ایف کی جانب سے پیش کیے جانے والے ’شیطان کے جوتوں‘ کی وجہ سے عوامی ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا اور کئی صارفین نے اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی رائے بھی ظاہر کی۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے ’شیطان کے جوتوں‘ کی فروخت پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔

امریکی کمپنی ‘نائیکی’ نے پیر کو نیو یارک کی وفاقی عدالت میں ‘بروکلین آرٹ کلیکٹو’ (ایم ایس سی ایچ ایف) کے خلاف اپنا ڈیزائن چوری کا مقدمہ درج کیا تھا۔

نیو یارک کی وفاقی عدالت میں دائر مقدمے میں نائیکی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایم ایس سی ایچ ایف نے نائیکی کی اجازت اور منظوری کے بغیر اس کا ڈیزائن استعمال کرتے ہوئے جوتے تیار کیے۔ جب کہ نائیکی کمپنی کا اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نائیکی کا درخواست میں مزید کہنا تھا کہ ایم ایس سی ایچ ایف کی جانب سے پیش کیے جانے والے ’شیطان کے جوتوں‘ کی وجہ سے عوامی ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا اور کئی صارفین نے اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی رائے بھی ظاہر کی۔

مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ نائیکی کو بائیکاٹ کرنے کا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے اور انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ نائیکی یہ جوتے تیار کرنے میں شامل ہے۔

امریکی اسپورٹس ویئر کمپنی نائیکی نے عدالت سے ایم ایس سی ایچ ایف کو جوتوں کے آرڈرز ارسال کرنے سے روکنے اور ساتھ ہی اس تنازع کے باعث ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔

بروکلین کی ڈسٹرکٹ کورٹ کے وفاقی جج ایرک کومیٹی نے جمعرات کو امریکی کمپنی نائیکی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ایم ایس سی ایچ ایف پر متنازع ’شیطان کے جوتے‘ فروخت کرنے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی کمپنی ایم ایس سی ایچ ایف کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایسے جوتے آن لائن فروخت کے لیے پیش کیے گئے تھے جس کی نچلے حصے میں انسانی خون کے قطرے شامل کیے گئے تھے اور اسے نائیکی کا ایئر میکس 97 کے ڈیزائن پر تیار کیا گیا تھا۔

کمپنی نے متنازع جوتوں کے 666 جوڑے امریکی ریپر لِل ناس ایکس کے تعاون سے فروخت کے لیے پیش کیے تھے۔ ان جوتوں کے ایک جوڑے کی قیمت 1018 ڈالر رکھی گئی تھی۔

دوسری جانب ایم ایس سی ایچ ایف بیان میں کہا ہے کہ وہ آزادیٔ اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ نائیکی اور عدالت کے ساتھ مل کر اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنا چاہتے ہیں۔

ایم ایس سی ایچ ایف کا کہنا ہے کہ جوتوں کی فروخت پر عارضی پابندی عائد کرنا غیر ضروری ہے۔ کیوں کہ خریداروں کے خیال میں نائیکی ان جوتوں کی تیاری میں شریک نہیں ہے۔ جوتوں کے تمام 666 جوڑے فروخت ہو چکے ہیں اور مزید جوتے نہیں بنائے گئے۔

نائیکی کمپنی کی جانب سے تاحال فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2581 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے