عمران خان کسی پربھی اعتبار نہیں کرتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں سیاست اور وبا کا زور عوام کو مسلسل مشکلات سے دوچار کر رہا ہے، پھر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان خود بھی وبا کا شکار بن گئے۔ ان کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ وبا کے کارن بندہ کتنا اکیلا اور غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ عمران خان وزیراعظم پاکستان کی سرکار نے لڑتے مرتے کسی نہ کسی طریقہ سے کوشش تو بہت کی کہ عوام کے لیے کچھ آسانی مہیا کردی جائے، مگر عوام کو ان کی نیت پر شک نہیں، مگر وزیراعظم کی ٹیم بڑی فرسودہ نکلی۔

پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کی امریکہ اور آئی ایم ایف سے پرانی شناسائی ہے۔ کتنے سالوں سے ہم آئی ایم ایف کے مستند گاہک ہیں اور انہوں نے بھی قرض دینے میں دیر نہیں کی۔ اتنے سالوں کی رفاقت کے بعد آئی ایم ایف کے صاحب نظر لوگ پاکستان کو عالمی تناظر میں ایک سرمایہ دار ملک کی حیثیت دینا چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ کی مدد سے ہماری تربیت کی کوشش کرتے رہے ہیں اور ابھی بھی ہم پر پابندیوں کی تلوار لٹک رہی ہے اور اب جب ان کے بندہ خاص کو ہماری سیاست بے حیثیت کر چکی ہے تو خطرات بہت زیادہ نظر آرہے ہیں۔

سنہ 2018 ء کے انتخابات کے بعد امید تھی کہ پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کے گند کو ختم کرنے کی کوشش ہوگی، مگر ہوا کیا؟ آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع ہوئے اور پھر ہمارے دوست ممالک امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب نے عمران خان کی سرکار کو باور کروایا ”پاکستان کی مالی حالت خراب ہے“ اور ایسے میں عالمی ادارہ آئی ایم ایف مشکل وقت میں مدد کر سکتا ہے اور پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ عمران خان کی ٹیم نے اس معاملہ پر کوئی ہوم ورک نہیں کیا ہوا تھا پھر نوکر شاہی بھی کپتان عمران خان کے سیاسی اقدامات سے خوف زدہ تھی اور اسمبلی میں پی ٹی آئی کو کچھ دوسری سیاسی جماعتوں کی حمایت سے سرکار بنانے کا موقع ملا تھا۔ اس وقت عمران کو بڑی مایوسی ہوئی اور پھر سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی آمد کا معلوم ہوا۔ ان کے ذمہ پاکستان کی معیشت کو درست کرنا اور آئی ایم ایف کے اصولوں کی پاسداری کروانا مقصود تھا۔

ممکن ہے جناب حفیظ شیخ نے پوری کوشش کی ہو اور پاکستان کی معاشی صورت حال میں بدل ہو اور آئی ایم آئی کو یقین دلایا کہ پاکستان اب سنجیدگی سے مالی استحکام چاہتا ہے۔ اس وقت ان کو وزیراعظم اور آئی ایم ایف کا اعتماد حاصل تھا۔ پاکستان نے عالمی اداروں کی خاطر اپنے ہاں مثبت اقدامات شروع کیے اور حفیظ شیخ کو پیش کش کی کہ وہ پاکستان کی سیاست میں باضابطہ داخل ہوں۔ حفیظ شیخ کو عسکری دوستوں کا اعتماد بھی حاصل تھا۔ پھر نہ جانے کب اور کس وقت امریکہ کے پرانے اور اچھے دوست آصف زرداری اس معرکہ میں شامل ہو گئے انہوں نے اپنے جیالے اور سابق وزیراعظم کو ایک کمتر عہدے پر لڑانے کا فیصلہ کیا اور دوستوں کو بتا بھی دیا، چونکہ دوستوں سے بات چیت ہو رہی تھی اور انہوں نے بھی مایوس نہ کیا اور سابق وزیراعظم کو سینیٹر بنوا ہی دیا، دوست بھی خوش تھے اور موصوف بھی۔ مگر وزیراعظم عمران خان کو اس معاملہ پر حیرانی ہوئی، مگر وہ ایک عرصہ سے بے بسی سے سرکار چلا رہے ہیں دوستوں اور مہربانوں سے بات کی، مگر سیاست نام ہے دروغ گوئی اور سازش کا ۔ اور اس کو حمایت حاصل ہوتی ہے جمہوریت کی اور اب جمہوریت پسند ہی نئے نظام کے لیے نعرے لگوا رہے ہیں۔

سینیٹ کے انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان پی ڈی ایم کی دو جماعتوں کو ہوا، وہ بھی ان کے اپنے تکبر کی وجہ سے۔ مریم جو اس وقت بھی مجرم ہیں ان کو لندن سے یقین دلایا گیا کہ وہ فوج کے بارے میں لگی لپٹی نہ رکھیں اور بتایا گیا کہ برطانیہ ان کے معاملات میں مدد کرتا رہے گا۔ دوسرے حضرت مولانا فضل الرحمن جن کو جنتا ڈیزل کے نام سے یاد کرتی ہے ان کو یقین دلایا گیا کہ وہ آنے والے دنوں میں خاص ہوں گے اور وہ افغانستان کے معاملات میں امریکی دوستوں کو مایوس نہیں کریں گے۔

پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں خانہ پوری کے لیے شامل تماشا ہو گئیں۔ پھر جب جمہوریت بہترین انتقام کی سیاست کرنے والے آصف زرداری کو دوستوں نے محفوظ راستے کی نوید دے دی تو انہوں نے دوسرے خود ساختہ جلا وطنی اور ووٹ کو عزت دلوانے والے سابق وزیراعظم کو اہم مشورہ دے ڈالا کہ اگر بڑی جنگ لڑنی ہے تو واپس آ کر جیل سے جنگ لڑو۔ بس اس بات کو مریم نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ بلاول زرداری سے شکوہ بھی کیا۔ وہ بے چارہ کیا کرتا وہ تو خود ابھی محتاج نظر ہے۔

ہمارے دوست اور مہربان ممالک پاکستان کی اندرونی سیاست پر نگاہ رکھ رہے ہیں ایک طرف چین، ایران اور ترکی ہیں جو پاکستان کے لیے اچھا ہی سوچتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور برطانیہ ہیں جو پاکستان کو خطہ کی حیثیت سے اہمیت کے کارن استعمال کرتے رہے ہیں اور مزید فیض یاب ہونے کے لیے عربوں کو اپنے ساتھ شامل کر چکے ہیں۔ پاکستان میں اداروں کی بدحالی اور بد انتظامی نے نظام کو بے وقعت اور بے حیثیت کر دیا ہے۔

ایسے میں وزیراعظم عمران خان نے بڑا مایوس کیا ایک تو عمران کسی پربھی اعتبار نہیں کرتا، اب تو روحانی معاملات پر شکوے شکایات کرتا نظر آ رہا ہے۔ اس کو حالات کا اندازہ ہے مگر وہ کس پر اعتبار کرے۔ جب حفیظ شیخ بے چارہ بے توقیر ہوا تو اس سے ہمدردی بھی نہ کی پھر نہ جانے کہاں سے حکم آیا کہ چھوٹے وزیر کو بڑا وزیر خزانہ بنا دو، سو حکم کی اتنی تیزی سے تعمیل کی کہ دوست بھی حیران رہ گئے۔ نئے پراسرار وزیر خزانہ حماد اظہر بھی صاحب کمال ہونے والے ہیں انہوں نے فوراً ہی بھارت سے تجارت کرنے کی نوید دی۔ ان کو اندازہ تھا کہ پاک بھارت تعلقات عسکری حلقوں کی طرح نارمل ہونے جا رہے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں یہ چار زندہ پیر ہیں پہلے نمبر پر ہیں وزیراعظم عمران خان، دوسرے نمبر پر ہیں وزیر دفاع جناب پرویز خٹک، تیسرے نمبر پر ہیں گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر، چوتھے نمبر پر ہیں وزیر خزانہ حماد اظہر۔ ان عہدوں کی ہر زمانہ میں بڑی حیثیت اور دھوم رہی ہے۔ ایچیسن کالج کو ہماری اشرافیہ چیف کالج کا نام دیتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی سرکار میں یہ چار دوست بہت اہم اور نمایاں ہیں۔ اب ہمارے دوست ممالک چاہتے ہیں بھارت پاکستان تعلقات نارمل ہوں اور پہلے مرحلہ میں تجارت کو اہمیت دی جائے اور اس سلسلہ میں عنقریب اہم فیصلے آنے والے ہیں۔

عمران خان ذاتی حیثیت میں ان تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں مگر ملک کے اہم ادارے کسی اور تناظر میں ان تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور صاف سامنے آتے بھی نہیں۔ بھارت پر اعتبار مشکل ہے، ماضی اس کا گواہ ہے۔ مگر اب جب چین اور ایران پاکستان کے بہت قریب آرہے ہیں اس تناظر میں یہ تعلقات بھی نارمل ہونے ضروری ہیں۔ پاکستان میں نظام بدلنے جا رہا ہے۔ یہ نظام جمہوریت کے ذریعے بدلنے کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ملکی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ کوئی کردار ادا کرسکیں۔ اس کے لیے کئی لوگ مسلسل سوچ بچار کر رہے ہیں۔

اب مسئلہ ہے صرف کہ طاقت ہے کس کے پاس
بس طاقت ور لوگوں کی مرضی کا انتظار ہو رہا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply