واک تحریک: پشتون خواتین کے لیے امید کی کرن
پشتون سماج میں جہاں مذہبی جنونیت اور فرسودہ سماجی روایات کے سائے بہت گہرے ہیں، جہاں مردوں کو آزادی سے سانس لینا مشکل ہے وہیں خواتین کو بھی ان گنت مذہبی اور فرسودہ سماجی پابندیوں کا سامنا ہے۔
اکیسویں صدی میں بھی پشتون خواتین بنیادی انسانی، سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق سے محروم ہیں۔ پشتون معاشرے میں جہاں مذہبی جنونیوں کی بھرمار ہے وہیں باشعور لوگوں کی تعداد میں بھی کوئی کمی نہیں ہے جو خواتین کو جملہ سیاسی، سماجی معاشی اور تعلیمی حقوق دینے کے حق میں ہیں۔
ایسے جنونیت زدہ اور فرسودہ سماجی نظام میں واک تحریک کا ابھرنا یقیناً حوصلہ افزا اقدام ہے۔ واک تحریک پشتون خواتین کے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کی تحریک ہے جو پشتون خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں برابری کی حیثیت اور ترقی دلانا چاہتی ہے۔
واک تحریک کے اہداف یہ ہیں: پشتون معاشرے سے فرسودہ اور ظالمانہ سماجی روایات کا مکمل خاتمہ، خواتین پر گھریلو تشدد کا خاتمہ، خواتین کے بنیادی انسانی، سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی حقوق کی بحالی، خواتین میں اپنے حقوق کی آگاہی پھیلانا، جمہوریت کی مضبوطی، خطے سے مذہبی جنونیت کا خاتمہ اور خواتین ہیروز پر ریسرچ۔
ثناء اعجاز اس تحریک کی بانی ہیں جنہوں نے 2016 میں پشاور میں واک تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس وقت تنظیم پشاور ، کوئٹہ ، مردان ، ژوب ، کابل اور خوست میں فعال ہے۔ ثناء اعجاز، وڑانگہ لونی، پلوشہ رنڑا، نرگس افشین خٹک، بینظیر مندوخیل اور سینکڑوں دوسری خواتین سرگرم کارکن اس میں شامل ہیں۔ سیاسی وابستگی اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ثناء اعجاز نے محسوس کیا کہ پشتون علاقوں میں گزشتہ چالیس سالہ جنگ سے جہاں مردوں کو بے انتہا جانی اور مالی نقصان پہنچا وہاں خواتین نے بھی بہت ساری مصیبتیں جھیلیں۔
ایک طرف پشتون خواتین اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتی رہیں تو دوسری طرف ان پر مذہبی انتہا پسندوں نے کئی پابندیاں عائد کی تھیں خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہے، ان کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی، مذہبی جنونیوں نے سابقہ فاٹا میں لڑکیوں کے سینکڑوں سکولوں کو جلایا، ان کو حق روزگار حاصل نہیں ہے ، اوپر سے گھریلو تشدد نے خواتین کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ تو اس جبر اور استبداد کے ماحول میں ثناء اعجاز نے پشتون خواتین کی حقوق کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا اور واک کے نام سے تحریک شروع کی۔
واک تحریک پشتون خواتین کو ہر شعبہ زندگی میں برابری دینا چاہتی ہے، واک تحریک پشتون خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے تعلیم کے حصول پر خصوصی کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں تحریک نے کئی اضلاع میں گرلز لائبریریاں قائم کی ہیں جن میں ضلع ژوب کی گرلز لائبریری بھی شامل ہے جہاں پر لڑکیوں کے لئے مطالعے کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان سکھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
پشتون خواتین میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے واک تحریک نے کوئٹہ، پشاور ، مردان ، کابل اور ژوب میں کئی تربیتی سیمینارز منعقد کیے ہیں تاکہ لڑکیوں اور خواتین کو سیاست میں حصہ لینے کی ترغیب دی جا سکے ۔ ان میں سیاسی شعور بیدار کیا جا سکے۔ تحریک کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ سیاسی آزادی اور سیاست میں فعال حصہ لینے سے ہی خواتین بہت سارے حقوق حاصل کرسکتی ہیں۔
یہ تنظیم پشتون خواتین کی واحد جینوئن سیاسی تنظیم ہے جو خواتین کو سماجی جبر سے آزادی دلانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ تاہم اس عفریت زدہ معاشرے میں مرد اور خواتین کی برابری کا حصول اتنا آسان نہیں ہے ، اس کے لئے طویل جدوجہد اور کافی وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مالی وسائل کی بھی شدید ضرورت ہے۔ گرلز لائبریریوں اور اکیڈمیوں کے قیام کے لیے کتابوں اور خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے باشعور سیاسی نوجوانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تحریک کو ہر طرح کی مدد فراہم کریں تاکہ ایک ترقی پسند معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے۔
دراصل یہ سیاسی جماعتوں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ خواتین کے حقوق پر خصوصی توجہ دیں۔ خواتین کے حقوق کی تحفظ کے لیے قانون سازی کریں۔ خواتین کو تنظیمی ڈھانچوں میں شامل کریں اور اپنے جلسوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائیں۔ خواتین کے حقوق کے سلسلے میں باچا خان اور اے این پی کا کردار قابل تعریف ہے۔ باچاخان شاید پہلے پشتون سیاست دان تھے جنہوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد کی۔ انہوں نے فرمایا تھا ”وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی جس قوم کی خواتین بااختیار نہ ہوں“ ۔
باچاخان کی تعلیمات پر اے این پی نے زبردست عمل کیا ہے۔ اے این پی نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی بھی کی ہے۔ بیگم نسیم ولی خان اور ثمر بلور جیسی نڈر خواتین پارٹی کی تنظیمی عہدیدار بھی ہیں اور خواتین پارٹی کے جلسوں میں اچھی تعداد میں شرکت بھی کرتی ہیں۔ پی ٹی ایم نے بھی خواتین کو اچھی خاصی نمائندگی دی ہوئی ہے ۔ پی ٹی ایم کے ہر جلسے میں آپ کو خاصی تعداد میں خواتین شرکت کرتی نظر آئیں گی۔ وہاں خواتین کو تقریروں کا موقع بھی دیا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ اپنے مسائل اور دکھوں سے لوگوں کو آگاہ کرتی ہیں جو کہ ایک حوصلہ افزا اقدام ہے۔
دوسری پشتون قوم پرست پارٹی پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی خواتین کے حوالے سے قدامت پسند واقع ہوئی ہے۔ پشتونخوا میپ سمجھتی ہے کہ پشتون معاشرے میں خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قوم کو اس حوالے سے شعور دینا سیاسی پارٹیوں ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پارٹی کے چیئرمین محمود اچکزئی تقریروں میں خواتین کے حقوق کی باتیں تو کرتے رہتے ہیں مگر پارٹی کے تنظیمی عہدیداروں میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے نہ ان کے جلسوں میں خواتین شرکت کر سکتی ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ اب ہمارے معاشرے میں شعور بیدار ہوا ہے۔ اب خواتین اپنے حقوق کے حصول کے لیے خود میدان میں نکل رہی ہیں۔ خواتین میں تعلیم کا رجحان بھی پہلے سے بہت زیادہ ہے۔ اب لوگ اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ اور امید ہے کہ آنے والے دور میں پشتون خواتین زندگی کے ہر شعبے میں ترقی اور برابری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔


