میں نے خوف پر کیسے قابو پایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوف جسے Fear یا فوبیا Phobia کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کم و بیش پانچ سو ( 500 ) اقسام کا ہے۔ (بحوالہ کتاب۔ خوف، ڈاکٹر جاوید اقبال، علم و عرفان پبلشرز لاہور)

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ موت کا خوف سب سے بڑا خوف ہے مگر میرا نقطۂ نظر ذرا مختلف ہے۔ کیونکہ جس چیز کا خوف ہو اس کا سامنا کرنے یا اس سے بچنے کی تیاری کی جاتی ہے، جو ہم نہیں کرتے۔ ہمارے اندر موت کا خوف صرف اس وقت آتا ہے جب ہم بیمار ہوتے ہیں یا عمر ڈھلنے لگتی ہے یا کوئی قریبی اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔

یہ خوف اس وقت تک رہتا ہے جب تک ہم بھلے چنگے یا تندرست نہیں ہو جاتے۔ جیسے ہی اٹھتے ہیں اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے کہ اس نے صحت سے نواز دیا، ہمارے اندر سے موت کا خوف جاتا رہتا ہے۔ اللہ سے اس دوران جو قربت ہوتی ہے وہ بھی ہوا ہو جاتی ہے اور ہم ڈینگیں مارنے لگتے ہیں کہ میں نے یہ کیا تو ٹھیک ہو گیا۔

ہمارے صحت مند ہونے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، رب تعالیٰ نے درست سمت میں رہنمائی فرما دی، ڈاکٹر اچھا مل گیا، دوا اچھی مل گئی ورنہ تو آج کل کے ڈاکٹر (اکثر) کے پاس جانا پڑے، (اگر کسی پرائیویٹ ہسپتال میں چلے گئے پھر تو خیر نہیں ) تو جان اور پیسوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔خدانخواستہ مریض مر گیا تو پرائیویٹ ہسپتال میں پڑی میت آپ کو اس وقت ہی ملے گی جب آپ پائی پائی کا حساب چکا دیں گے۔

بات خوف یا Phobia سے شروع ہوئی تھی۔ انسان کے خوف کی نوعیت مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہے۔ اس کی وجوہات میں انسانی زندگی میں ہونے والے واقعات مشاہدات ہیں، کسی کو اندھیرے سے خوف آتا ہے تو کسی کو گہرے پانی سے، کسی کو اکیلے میں خوف آتا ہے تو کوئی اکیلے رہ جانے کے خوف میں مبتلا ہے۔ میں سن کر حیران رہ گیا کہ امریکہ جیسے ملک میں لوگوں کو پبلک اسپیکنگ کا خوف بہت زیادہ ہے۔

خوف کوئی بھی ہو انسانی صلاحیتوں کا قاتل ہے۔ مثلاً کسی بھی معاملے میں ناکامی کا خوف انسان کو ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر بیمار کر دیتا ہے اور پھر ڈپریشن جیسی ”امیروں والی بیماری“ ہمیں آن گھیرتی ہے۔ ڈاکٹرز نیند کی گولیاں دیتے ہیں اور ہم مزید ”سوئے“ رہتے ہیں۔ ہماری زندگی میں جو بھی خوف ہیں ان پر شعوری کوشش سے بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ رب تعالیٰ نے جو فرشتوں سے کہا تھا کہ تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔

وہ انسان کے لئے اس لئے کہا گیا کہ رب تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور، فہم و فراست، بروقت فیصلہ سازی، مستقل مزاجی جیسی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان کو ضرورت کے مطابق استعمال نہ کرنا کفران نعمت ہے اور استعمال کرنا امید کا دامن تھامے رکھنا ہے۔ رب تعالیٰ نے ہمیں یہ صلاحیت دی ہے کہ ہم اپنے خوف ختم کر سکیں۔

یہاں میں اپنی ذاتی مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا کہ میں نے اپنے کچھ خوف کیسے ختم کیے ؟ یاد رکھیں! اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ رب تعالیٰ درست سمت میں رہنمائی فرماتا ہے۔

کچھ برس قبل مجھے پانی سے خوف (Aqua phobia) آنے لگا۔ اس کی وجہ شدید بارش کے بعد طارق روڈ ملتان پر بہت زیادہ پانی کا جمع ہو جانا اور میری گاڑی کا وہاں پھنس جانا تھا۔ گاڑی تو کسی طرح نکل آئی مگر پانی سے خوف کسی طور ختم نہیں ہو رہا تھا۔ اس واقعے کے ایک سال بعد ہمارا ناران جانا ہوا تو میں اپنے ساتھیوں سمیت جھیل سیف الملوک بغیر اجازت لیے ایک اناڑی (بعد میں پتہ چلا کہ اناڑی تھا) ملاح کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گیا۔

یہ الگ بات کہ مخالف سمت سے ہمارے ہی ساتھیوں کی آنے والی کشتی سے جھیل کے عین درمیان میں ٹکرانے سے ہمیں اللہ نے بال بال بچایا۔ اس سے میرا پانی کا ڈر تو کسی حد تک کم ہوا مگر یوں بے سروسامانی کے عالم میں کشتی میں بیٹھنے سے ضرور توبہ کر لی۔

دوسرا حل تیراکی سے نکالا۔ مجھے سوئمنگ بالکل نہیں آتی تھی، ہاں اپنے گاؤں ظفرآباد کی کچی نہر میں نہانے کا تجربہ ضرور تھا۔ ایک دن اپنی بیگم کی موٹی ویشن پر سوئمنگ پول میں کم گہرے پانی میں اتر گیا جہاں کچھ ہاتھ پاؤں مار لیتا ہوں۔ اس کے علاوہ وہیں موجود ٹھنڈے پانی کے بڑے سے ٹینکر میں ڈبکیاں کھانے سے پانی کا خوف کم ہوا اور گرمیوں میں گرم پانی سے نہانے کی ٹھرک ختم ہو گئی۔

رب تعالیٰ نے جہاں انسان کی جبلت میں خوف پیدا کیا وہیں اس کے ساتھ جینے کے طریقے بھی پیدا کیے جنہیں دریافت کا شعور، ہمت اور حوصلہ بھی دیا۔ ضرورت ہے تو ان چیزوں کو جاننے اور ان پر عمل کرنے کی۔ جس طرح ہر عمل کا ردعمل ہے بالکل اسی طرح ہر مشکل صورتحال سے نکلنے یا اس کے ساتھ جینے کا طریقہ بھی ہوتا ہے۔

رب تعالیٰ قرآن مجید میں غور و فکر کی بات بار بار کرتا ہے تو دراصل وہ ہمیں اس طرف لانا چاہتا ہے کہ زندگی بے سدھ جانوروں کی طرح نہیں، عقل و شعور والے انسانوں کی طرح گزاری جائے۔ اس کے لئے ہمیں خوف سے نکلنا ہو گا، خوف غالب آ گیا تو امید ختم ہو گئی۔

امید ختم ہو جانا اللہ سے مایوس ہو جانا ہے اور اللہ سے کبھی مایوس ہونا نہیں۔ اپنے اندر کے خوف کو رب تعالیٰ کے دیے ہوئے شعور اور سمجھ بوجھ سے شکست دینا دراصل امید کے سفر پر چلتے رہنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *