جنت کے سستے ٹکٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارٹن لوتھر 1483 میں ایک جرمن قصبے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد انہیں لا کی تعلیم دینا چاہتے تھے لیکن مارٹن لوتھر کو مذہب میں دلچسپی تھی۔ اس نے وکالت کی، تعلیم ادھوری چھوڑ کر راہب بننے کا فیصلہ کر لیا، مونک اس وقت کیتھولک فرقے کا ایک گروپ تھا جو دنیا سے الگ تھلگ پہاڑوں میں کمیونٹی کے شکل میں رہتے تھے۔ یہ لوگ شادی نہیں کرتے تھے اور پوری زندگی مذہب کی خدمت میں گزار دیتے۔ مارٹن لوتھر بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔

اس دوران اسے روم جانے کا موقع ملا کیونکہ مارٹن لوتھر کیتھولک تھے اور اس کے نزدیک روم ان کا روحانی مرکز تھا۔ اس کے دل میں روم اور پوپ کے لئے بڑی عقیدت تھی لیکن جب مارٹن روم پہنچے تو وہاں کے حالات اور جو اس نے دیکھا وہ اسے حیران کر گیا۔ مارٹن نے وہاں دیکھا کہ پادریوں نے مذہب کو ایک کاروبار بنایا ہوا ہے اور وہ مذہبی عبادات کے عوض پیسے لیتے ہیں۔ دولت کی ریل پیل ہے اور خدا کے گھر کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے جو کہ پادریوں کے گھروں اور دفاتر کو چلانے کا ایک ذریعہ تھے، عوام کے مال و دولت کو مذہب کے نام پر دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔

مارٹن نے دیکھا کہ اکثر پادری عملاً مذہب پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ یہاں تک کہ ان کے نزدیک عوام اور سادہ لوح لوگ جو اپنا سب کچھ مذہب پر خرچ کر رہے تھے، احمق ہیں۔ مارٹن لوتھر نے لکھا کہ جتنی دیر میں ہم ایک عبادت مکمل کرتے ہیں، روم کے لوگ اتنی دیر میں سات عبادات مکمل کر لیتے ہیں کیونکہ وہ ان عبادات کے پیسے لیتے ہیں جب کہ ہم تو عبادت کو عبادت سمجھ کر اور حکم الہٰی سمجھ کر کرتے ہیں اور اس کے عوض کوئی پیسے نہیں لیتے۔

مارٹن کو روم کے اس سفر نے بدل کر رکھ دیا اور پھر اس ایک بندے نے پورے یورپ کی تقدیر بدل دی اور آج جو ترقی یافتہ یورپ آپ دیکھتے ہیں، اس کی ابتدا یہیں سے مارٹن لوتھر کے چرچ کے خلاف کھڑے ہونے سے ہوئی۔

واقعہ کچھ یوں ہوا کہ 1515 عیسوی میں پوپ دہم نے سینٹ پیٹرز بیسلیکا کی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا، یہ وہ جگہ ہے جہاں رومن کیتھولک عقیدے کے بانی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریبی ساتھی سینٹ پیٹر دفن ہیں۔ پوپ یہاں ایک نئی عمارت تعمیر کرانا چاہتے تھے اور اس کے لئے اچھی خاصی رقم درکار تھی۔

انہوں نے یورپ کے مختلف پادریوں کو لکھا کہ سینٹ پیٹرز بیسلیکا عمارت کی تعمیر کے لئے جنت کے ٹکٹوں کی فروخت شروع کردیں۔ جو بھی رقم اکٹھی ہو، اسے روم میں پوپ کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ یہ عمارت بہتر اور جلد تعمیر ہو۔ جرمنی میں بھی ان ٹکٹوں کی فروخت شروع ہو گئی اور اس کے لئے مختلف قسم کے جملے بھی عوام کو اس طرف مائل کرنے کے لئے بنائے گئے جیسا کہ چرچ کے عہدے دار یہاں تک کہتے کہ جیسا ہی آپ نے ایک سکہ چرچ کے خزانے میں پھینکتے ہیں تو اس سکے کی کھنک سے ایک روح جنت میں چلی جاتی ہے، یعنی جنت اتنی آسان ہے کہ آپ سے صرف چند پیسوں کی دوری پر ہے۔

ایسے دعوؤں سے سادہ لوح عوام ہمیشہ سے مرعوب ہوتے آئے ہیں، وہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ دنیا تو جیسے مشکل میں کٹ رہی ہے چلو جنت میں ہی سب کچھ چند پیسوں سے مل جائے گا، لہٰذا عوام دھڑا دھڑ جنت کے ٹکٹ خریدنا شروع ہو گئے۔ یہ سب جرمنی میں مارٹن لوتھر کے سامنے ہو رہا تھا، وہ پہلے ہی روم اور چرچ کی کرپشن سے پریشان تھا تو ان جنت کے ٹکٹوں نے اسے اور پریشان کر دیا، پھر وہ چرچ کے خلاف کھل کر میدان میں آ گئے۔

مارٹن نے کسی انقلابی کی طرح چرچ کا تختہ الٹنے کی بجائے دلیل سے اپنی بات منوانے کی ٹھان لی، اس نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے 95 نکات کا ایک دستاویز لکھا، ان 95 نکات میں مذہبی دلائل سے یہ سینٹ پیٹر بیسلیکا کی تعمیر کے مقصد کو نشانہ بنایا گیا تھا اور پوپ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

اس نے لکھا کہ جرمن کو اس عمارت کی ضرورت ہی نہیں ہے اور ان پیسوں سے پرانے چرچ کی عمارات جو خستہ حال ہیں، ان کی مرمت کی جائے، اس نے لکھا کہ اگر آج جرمنی میں یہ بیسلیکا کی عمارت ہمارے پیسوں سے بنے گی تو کل کو روم میں ہر عمارت، ہر پل بھی جرمن کے پیسوں سے ہی بنے گا۔ مارٹن نے لکھا کہ پوپ اور پادری اس بیسلیکا کو اپنے پیسوں سے تعمیر کیوں نہیں کراتے؟ اور یہ جتنی عمارت بیسلیکا کی بن چکی ہے اسے بیچ کر غریب عوام کے پیسے واپس دیے جائیں جنہیں لوٹا جا رہا ہے۔

مارٹن نے گناہوں کی معافی کے لئے بھی پوپ کی اتھارٹی کو چیلنج کر دیا کہ گناہوں کی جو سزائیں خدا نے مقرر کی انہیں معاف کرنے یا کم کرنے کا بھی پوپ کوئی اختیار نہیں بلکہ یہ بندے اور خدا کا معاملہ ہے۔ مارٹن نے اپنے 95 نکات والے دستاویز کو جرمنی کے علاقے ویٹیکن برگ میں چرچ کے دروازے پر چسپاں کر دیا اور اپنے ان نکات پر چرچ کے سرکردہ لوگوں کو بحث اور مناظرے کی دعوت دے دی۔ مارٹن کو اتنی بڑی ہمت دلیری کرنے پر چرچ نے اس پر مقدمہ کر دیا اور اسے باغی و گمراہ کہا۔

اس وقت چرچ کے مخالفین کو مقدمہ چلانے کے بعد زندہ جلا دیا جاتا تھا، یا بڑی جان لیوا قسم کی اذیتیں دی جاتی تھی۔ جیسا کہ مارٹن کی پیدائش کے 50 سال پہلے فرانس کی آزادی کے لئے لڑنے والی جون آف آرک کو بھی پادریوں کے حکم سے زندہ جلا دیا گیا تھا۔ شاید مارٹن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا لیکن اس کے لکھے ہوئے 95 نکات میں دم تھا۔

جرمن باشعور شہریوں کو یہ بات سمجھ آ رہی تھی کہ واقعی انہیں جنت کے ٹکٹوں کے نام پر لوٹا جا رہا ہے اور ان کا پیسا کیسے روم لے جایا جا رہا ہے اور وہاں پادریوں کے محلات اور چرچ تعمیر کیے جا رہے ہیں جو اصل میں پادریوں کی طاقت کو ہی بڑھا رہے ہیں جن کا عام آدمی کی بہتری میں کوئی کردار نہیں، تو جرمن شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد مارٹن کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور مارٹن کو عوامی حمایت ملنے سے چرچ کو اس کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہو گیا۔

یہ مقدمہ کافی عرصہ مارٹن لوتھر پر چلتا رہا لیکن مارٹن کی اس کاوش نے اسے جرمن عوام کے لئے ایک مسیحا بنا دیا جس نے چرچ سے اور اس سسٹم سے ٹکر لی، تو اس وجہ سے چرچ کے لئے مارٹن کو سزا دینا مشکل ہو گیا اور مقامی حکمران بھی کچھ سیاسی مجبوریوں کی وجہ اس کارروائی سے کترا رہے تھے۔ تو چرچ پادریوں نے اسے توبہ کرنے اور 95 نکات واپس لینے کا کہا لیکن مارٹن ڈٹا رہا۔ پوپ نے مارٹن کو گمراہ قرار دے دیا اور جرمن حکمران کو اسے سزا دینے کا حکم دیا، لیکن مارٹن کو فائدہ یہ ہوا کے اس کے ساتھ دینے والے بہت بڑی تعداد میں تھے۔ انہوں مارٹن کو ایک سال تک کہیں چھپا دیا۔

اس ایک سال میں مارٹن نے بائبل کا جرمن ترجمہ کر دیا تاکہ عام جرمن اسے پڑھ سکیں، یاد رہے اس پہلے بائبل صرف لاطینی زبان میں پڑھی جاتی تھی جسے عام جرمن شہری نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے بعد کئی ایک حکمران بھی مارٹن کے ساتھ ہو گئے اور انہوں نے پوپ کی اتھارٹی کو ماننے سے انکار کر دیا اور مارٹن کی اس تحریک اور ہم خیال لوگوں کو پروٹیسٹنٹ کہا جانے لگا۔

یہ مارٹن کی جماعت تھی، انہوں نے مذہب میں جدید اصلاحات کیں اور اس تصور کو ہی رد کر دیا کہ پوپ کسی کو جنت کے ٹکٹ دے سکتا ہے اور کسی کا نجات دہندہ ہو سکتا ہے بلکہ مارٹن نے اس تصور کو عام کیا کہ ہر انسان کی نجات صرف بائبل میں ہے، ہر عام و خاص نیک اعمال کر کے اور بائبل پر عمل کر کے جنت میں جا سکتا ہے۔ اسے پوپ سے جنت کے ٹکٹوں کی یا اس کی اتھارٹی کی کوئی ضرورت نہیں۔

مارٹن کی یہ تحریک کامیاب ہوئی اور کئی ممالک مارٹن کی ان تعلیمات کو قبول کر چکے تھے۔ جب 1546 میں مارٹن لوتھر کی موت ہوئی تو تقریباً پورا یورپ مارٹن کی ریفارمز کو قبول کر چکا تھا اور کیتھولک چرچ کے پوپ پادریوں کا اثر و رسوخ ختم ہو چکا تھا اور مارٹن کی اس تحریک کی وجہ سے یورپ ترقی کی نئی راہوں پر چل نکلا تھا۔ اس تحریک نے جہاں یورپ سے پرانے مذہبی خیالات کا خاتمہ کیا وہیں علوم کے نئے راستے بھی کھولے۔

لوگ پرانی سوچ سے ہٹ کر نئے علوم سیکھنے لگے، اور جن کتابوں پر پابندی تھی اور کیتھولک چرچ ان کتابوں کو جلا دیا کرتا تھا فلسفہ اور سائنس کی کتابیں اور سوچ و فکر پیدا کرنے والی کتابوں تک اب عوام کی رسائی ہونے لگی اور یہ عام پڑھی جانے لگیں۔ جمہوریت اظہار رائے اور ہم آہنگی اسی دور میں شروع ہوئی۔ کیونکہ جب لوگ کھلا اور آزادی سے سوچتے ہیں، ہر ایک کو اظہار رائے کا موقع ملتا ہے تو نئے خیالات جنم لیتے ہیں۔ اب یورپ کے لوگ خود کو مذہبی پہچان کی بجائے اپنے زمین سے تعلق پر فخر کرتے یعنی خود کو اب Son of the soil کہنا زیادہ قابل فخر سمجھا جاتا تھا بہ نسبت اس کے کہ اس کے مذہبی خیالات کیا ہیں۔

یورپ میں اٹھارہویں صدی تک جمہوریت اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی اور کیتھولک چرچ اور رومن پوپ کا سیاسی اثر و رسوخ ختم ہو چکا تھا۔ یورپ اب ترقی کی نئی راہوں پر چل رہا تھا جہاں خوشحالی، تعلیم، بنیادی انسانی حقوق، سائنسی ایجادات جیسے نئے دور میں داخل ہو گیا۔ یورپ ایشیا سے زیادہ ترقی یافتہ ہونے کی اور دنیا میں پہلی صف میں کھڑے ہونے کی یہ وجہ ہے۔

آج ہم پاکستانی ان ممالک کے ویزوں کے خواب دیکھتے ہیں، ان ممالک میں جا کے بسنا چاہتے ہیں اور ایک باشعور پاکستانی کو یہ ملک جنت نظیر لگتے ہیں۔

تو ہمارا ملک ایسا کیوں نہیں؟
ہم نے ترقی کی نئی راہوں پر قدم کیوں نہیں رکھا؟
علم تو ہماری میراث تھی لیکن آج ہم ہی علم میں سب سے پیچھے ہیں؟
ہمارے ملک میں ڈکٹیٹر شپ اور نیم جمہوری سسٹم کی بجائے جمہوریت کیوں نہیں؟

جہاں یورپ 1515 میں کھڑا تھا، آج وطن عزیز بھی تاریخ کے اسی صفحے پر چھ سو سال پیچھے کھڑا ہے۔ آج بھی مذہب صرف چند مذہبی پیشواؤں کے کنٹرول میں ہے۔ کیا آج بھی ہمارے ملک میں سادہ لوح عوام کو مختلف باتوں سے ورغلا کر جنت کے ٹکٹ نہیں بیچے جاتے؟

جیسے کیتھولک چرچ سے سزائیں جاری کی جاتی تھی، کیا آج مسلمان عوام کو اسی طرح دوسرے لوگوں کے اقدام قتل کے لئے طیش نہیں دلایا جاتا؟

کیا آج بھی ہمارے مذہبی پیشوا ہم سے عبادت کے پیسے نہیں لیتے؟

کیا آج بھی ہمارے مذہبی پیشوا سیزن میں ایک دن میں چھ سات پروگرام نہیں کرتے اور ایک پروگرام کے اتنے پیسے لے لیں گے کہ ایک عام بندے کی مہینے بھر کی کمائی بھی اتنی نہیں؟

کیا آج بھی مذہبی دھرنوں کی صورت میں یہ ڈکٹیٹر مذہبی لوگوں کو ساتھ ملا کر وطن عزیز میں جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کر رہے؟

عوام اپنا بجٹ مشکل سے پورا کرتے ہیں لیکن جنت کے ٹکٹ ضرور خریدتے ہیں جس سے مولوی، علامہ اور پیر صاحب موٹر سائیکل سے گاڑی اور پھر بڑی گاڑی پر آ جاتے ہیں اور عوام کو صرف سادہ زندگی کے فضائل بیان کرتے ہیں۔ مرنے کے بعد ایک مفتی کے اکاؤنٹ سے کروڑوں کی رقم نکلتی ہے جو اس کی زندگی بھر کی آمدن سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

آج بھی ایک مسلمان کو اپنے مذہب کو سمجھنے کے لئے مولانا صاحب کے پاس حاضری لگانا پڑتی ہے کیونکہ جو دماغ مولانا صاحب کا ہے، جو دین کی سمجھ اس کو آتی ہے وہ عام انسان کو نہیں۔ عام انسان تو بس ناظرہ قرآن پڑھ کر مطمئن ہے کیونکہ مولوی صاحب نے بتا دیا کہ ایک لفظ پڑھنے سے 10 نیکیاں ملتی ہیں، وہ بندہ اس بات کو پرکھنے اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ ایک کتاب جو عمل کرنے کے لئے اور سمجھ کر زندگی گزارنے کے لیے ہے، اسے صرف ثواب کے لئے ہی کیسے پڑھا جا سکتا ہے اور ایک کتاب جو عمل کرنے کے لئے ہے، اسے صرف بنا سمجھے پڑھ کر ثواب کیسے ہو سکتا ہے۔

چنانچہ وہ بندہ روز دو صفحات تلاوت کرتا ہے اور رمضان میں 3 یا 4 بار پورا قرآن ختم کرتا ہے، اس کے لئے یہ کافی ہے۔ جنت میں جانے کے لئے کتاب کی سمجھ نہ بھی آئے، اس کیا فرق پڑتا ہے۔

ہم سوچنے سمجھنے سے معذور ہو چکے ہیں اور جو کوئی نئی سوچ کی بات کرتا ہے، اسے پروفیسر ہود بھائی کی طرح یونیورسٹی سے فارغ کر جاتا ہے۔ ہمیں کچھ فرق نہیں پڑتا، وہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کی نوکری چھوڑ کر وطن عزیز آیا ہو اور دنیا اس کی کتنی بھی معترف کیوں نہ ہو، اگر کوئی مذہبی علما کی اتھارٹی کو چیلنج کرے تو اس پر بھی انجینئر محمد علی مرزا کی طرح قاتلانہ حملہ کروایا جاتا ہے یا استاذ جاوید احمد غامدی صاحب کی طرح اسے ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔

تو جو حضرات وطن عزیز کو یورپ کے مقابلے میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ موجودہ حالات کے تناظر میں چھ سو سال کا انتظار کریں اور جنت کے سستے ٹکٹ خریدیں۔

یا پھر مارٹن لوتھر کی نظیر بنیں اور سسٹم پر بولنے کی جسارت کریں۔ کیونکہ
جو یقین کی راہ پر چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پر بہک گئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply