مسلم لیگ نواز کی سیاست پر سردار دوست محمد کھوسہ کا تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اتحاد میں شامل دو سیاسی جماعتیں جو بنیادی طور پر لیفٹ کی سیاست کرتی ہیں ، عملی طور پر اس اتحاد سے الگ ہو چکی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتیں یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوانے پر خفا ہیں۔ اور اسی لیے طے ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم کے فیصلوں کی مبینہ خلاف ورزی پر اظہار وجوہ کے نوٹس بھیجے جائیں۔

یہ نوٹسز پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اجازت سے جنرل سیکرٹری شاہد خاقان عباسی کی طرف سے اے این پی کے اسفند یار ولی اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھیجے جائیں گے جس میں باپ پارٹی سے ووٹ لینے کا بھی سوال کیا جائے گا اور جواب کے لیے سات روز کا وقت دیا جائے گا۔

مطلب یہ کہ اب پی ڈی ایم آئندہ کی سیاست پیپلز پارٹی اور اے این پی کے بغیر ہی کرے گی۔ اور یہ بھی طے ہو گیا کہ پیپلز پارٹی اس سطح تک سیاسی معاملات نہیں لے کر جائے گی جہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہ ہو جبکہ پی ڈی ایم میں شامل نون لیگ کشتیاں جلانے کو تیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نون لیگ واقعی کشتیاں جلانے کو تیار ہے اگر ہاں تو پھر نون لیگ کے اراکین اسمبلی کب تک اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں گے؟ اور اگر مستعفی ہونے کے باوجود حکومت قائم رہتی ہے تو نون لیگ کا مستقبل کیا ہو گا شاید اسی غیر یقینی مستقبل سے متعلق نون لیگی قیادت اور منتخب نمائندے الجھن کا شکار ہیں۔

ن لیگ سے سوال تو بنتا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت کو گرانا ہے تو پھر وہ پنجاب میں تبدیلی کے خلاف کیوں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ پنجاب کا ہاتھ سے نکلنا عمران خان کے لیے ایک دھچکا ہو گا۔ اس کے باوجود نون لیگ پنجاب حکومت کو کیوں قائم رکھنا چاہتی ہے؟ کیا اختلاف اور خوف صرف گجرات کے چوہدریوں سے ہے یا پھر اپنے گھر کے افراد سے بھی ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ نون لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور ایسے میں حمزہ شہباز کی خاموشی اور شہباز شریف کی خاموش قید نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ن لیگ کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق پیپلز پارٹی کے رہنما اور نون لیگ کے ماضی کے وزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے نون لیگ کی موجودہ سیاست پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ کی سیاست مخمصے کا شکار ہے۔ بنیادی طور پر نون لیگ بند گلی میں پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کے جلسہ میں نواز شریف کی تقریر کے بعد سے اب تک نون لیگی قیادت نے جو پالیسی اپنائی ہے وہ نون لیگی منتخب اراکین اسمبلی کے لیے پریشانی کا باعث ہے اور اب وہ اس پریشانی کا اظہار نجی محفلوں میں کھل کر کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ فکری طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

ایک دھڑا سخت موقف کا حامی ہے اور میاں نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ ہے جبکہ نون لیگ کی ایک واضح اکثریت محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے درمیانی راستے کے انتخاب کی حامی ہے۔ تاہم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی خاموشی سے اس اکثریت کو پذیرائی نہیں مل رہی۔ ان کے مطابق وہ بھلے نہ بولیں مگر ان کی خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ وہ کم سے کم میاں نواز شریف کے گوجرانوالہ کے بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں وگرنہ اس کی حمایت میں ضرور بولتے۔

سردار دوست محمد خان کھوسہ کے مطابق فی الوقت ن میں سے ش نکلنے کا چانس نہیں ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ن میں ووٹ نواز شریف کا ہے۔ لیکن اگر شہباز شریف نے خاموشی توڑتے ہوئے میاں نواز شریف کے بیانیے کی نفی کر دی تو ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں مقتدر قوتوں کے لیے قابل قبول ہوجائیں۔ تاہم ایسا ہو گا نہیں کیوں کہ اس سے قبل بھی شہباز شریف کو کئی مواقع ملے ہیں مگر انہوں نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جس کی وجہ سے ان پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔ تاہم پارٹی کے معتدل مزاج اراکین اسمبلی کی اکثریت چاہتی ہے کہ شہباز شریف اپنا سیاسی کردار ادا کریں۔

ان کے مطابق نون لیگ کا اسمبلیوں سے استعفوں سے گریز کا مطلب بھی یہی ہے کہ محترمہ مریم نواز کو پارٹی کے اندر دباؤ اور مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر نون لیگی قیادت مستعفی ہونے کا اعلان کرتی ہے تو نون لیگ میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جائے گی۔ اور ہو سکتا ہے کہ نون لیگ کے اندر فارورڈ بلاک بن جائے جس کے واضح امکانات نظر آ رہے ہیں۔ اس لیے نون لیگی قیادت استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرے گی۔

رہی بات آئندہ انتخابات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال کی تو ان کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کا حجم مختلف ہو گا اور اگر نون لیگ کی پالیسی یہی رہی تو ہو سکتا ہے کہ نون لیگ کا سائز مزید کم ہو جائے اور یہ سکڑتے سکڑتے جی ٹی روڈ سے منسلک کچھ ڈویژنز میں جزوی طور پر رہ جائے۔ اس سے بہرحال نون لیگ اس حالت میں نہیں ہو گی کہ وہ اکیلے پنجاب میں حکومت بنا سکے اور پنجاب میں تحریک انصاف، ق لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت کوئی ایسی جماعت نہیں جو نون لیگ کی حالیہ پالیسی کے بعد ان کی اتحادی بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اندازہ کیا جا رہا ہے کہ نون لیگ کے موجودہ اراکین اسمبلی کی اکثریت موجودہ حالات کے پیش نظر آئندہ عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں حصہ لینے کو ترجیح دے گی۔

مندرجہ بالا گفتگو کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ نون لیگ کے اندر میاں نواز شریف کے بیانیے کی حمایت آئے روز کم ہو رہی ہے، شاید اسی وجہ سے استعفوں کے آپشن کے استعمال میں مریم نواز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اور پنجاب میں بزدار سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی صورت میں پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کا خدشہ ہے۔ لہٰذا نون لیگ کی سیاست فی الوقت مخمصے کا شکار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply