ہمارے وژنری وزیراعظم اور ترقی کرتا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور میں ایک چھوٹے درجے کے اخبار میں نیوز روم اور رپورٹنگ کے لئے سٹاف کی ضرورت تھی۔ لڑکے اور لڑکیوں کے انٹرویو کیے جا رہے تھے۔ ایک 30 سال سے زیادہ عمر کے نوجوان بھی انٹرویو کے لئے اخبار کے دفتر میں تشریف فرما تھے۔

موصوف کی باری آئی تو پہلے خفگی کا اظہار کیا کہ اسے اتنا انتظار کیوں کرایا گیا ہے۔ آپ لوگ مردم شناس نہیں لگتے ہیں۔ انٹرویو میں صاحب مذکور کا کہنا تھا کہ وہ اخبار کا کوئی کام نہیں جانتے ہیں۔ بلکہ کام کرنا پسند ہی نہیں کرتے ہیں۔ وہ دنیا بدل دینا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کو قیمتی مشورے دیں گے۔ جس سے آپ کا اخبار دن دگنی ترقی کرے گا۔ آپ بتائیں تنخواہ کتنی دیں گے۔

انٹرویو سے سب بہت محظوظ ہوئے اور اکثر اس شخصیت کو یاد بھی کیا جاتا کہ بہت دلچسپ تھا۔ آج پھر وہ شخص بہت یاد آیا اور اپنی کم عقلی پر ماتم کیا کہ اتنا قیمتی اور صاحب فہم و فراست شخص گنوا دیا تھا۔ اگر اسے رکھ لیا جاتا تو آج اخبار کا چرچا ہوتا اور ہم بھی نامی گرامی صحافیوں کی صف میں شامل ہوتے مگر وقت ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اب پچھتائے کیا ہوت۔ مواقع بار بار تو نہیں ملتے ہیں۔ اپنی قسمت پر رونا آتا ہے کہ محض مشورے دینے والے لوگ کتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ملک کے وزیراعظم بھی بن جاتے ہیں۔

عمران خان کو ہی دیکھ لیجیے! وزرات عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں ، ان کی فہم و فراست سے ملک کہاں سے کہاں جا کھڑا ہوا ہے۔ معیشت، سیاست، تجارت، صحت، تعلیم اور ماحولیات نے کس قدر ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچاس لاکھ گھر بنا دو ، بے روزگاری ختم ہو جائے گی اور معیشت ترقی کرے گی۔ ایک کروڑ نوکریوں کا ہدف بھی مکمل ہو جائے گا۔ تجارت بڑے گی تو غربت کا خاتمہ بھی یقینی ہو گا۔

حکومت کے ہونہار وزیر مراد سعید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اڑھائی سال میں تباہ حال معیشت کو استحکام ملا، برآمدات میں اضافہ ، سرمایہ کاری میں اضافہ، غربت کے خاتمے کا پروگرام احساس، مفت بہترین علاج کے لئے صحت انصاف کارڈ، ڈیموں پر کام کا آغاز، ہاؤسنگ پروگرام، دو نئے شہر بنانے کا آغاز، پناہ گاہیں وغیرہ منصوبے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلین درخت لگا دو ، ماحولیاتی مسائل حل ہو جائیں گے۔ ماحول کی بہتری کے لئے کوئلے کی جگہ کوئی اور ٹیکنالوجی استعمال کریں۔ دنیا اگر مشوروں پر عمل نہ کرے تو قصور کس کا ہے۔

درست ہے کہ عمران خان کی حکومت نے کسی شعبہ میں عملی طور پر کچھ نہیں کیا ہے۔ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لیڈر صرف وژن دیتے ہیں کام نہیں کرتے ہیں۔ قیادت وژنری ہوتی ہے۔ پس دیوار دیکھ سکتی ہے۔ حالات و اقعات کا تجزیہ کر کے آنے والے حالات کو بھانپ سکتی ہے۔ ملک کے معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل کا حل دیتی ہے اور ملک و قوم کو مشکلات سے نکال کر کامیاب و خوشحال بناتی ہے۔

لیڈر وہ ہوتا ہے جس کی پیروی دوسرے کریں۔ یہ ایک ایسا فرد ہو سکتا ہے جس کی ذات سے وہ اپنے فیصلوں کے لئے رہنمائی طلب کریں یا جس کی ہدایات پر وہ عمل کریں۔ لیڈر کو متحرک اور قوت آفریں ہونا چاہیے۔ ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو خود راستے سے ہٹنے اور دوسروں کو رہنمائی کرنے کا موقع دینے کے ہنر سے واقف ہوتا ہے۔

حقیقی لیڈر کی سب سے بڑی ذمہ داری نئے لیڈر تیار کرنا ہوتی ہے۔ اپنے دست و بازو توانا بناتا ہے۔ اپنے ماتحتوں کو لیڈر بناتا ہے۔ ماتحتوں کے حالات کار سے واقف ہوتا ہے۔ کارکنوں کے نام یاد رکھتا ہے۔ بیماری، پریشانی اور مشکل میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ماتحتوں کی سرپرستی اور نمو کرتا ہے تاکہ کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر وہ اپنے قائد کی تمام ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو سکیں۔

عمران خان نے یہ کام کر دکھایا ہے۔ عمران خان پس دیوار دیکھ رہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ بھی رواں سال حل ہو جائے گا۔ غربت ختم کر دی ہے۔ کوئی بھوکا نہیں سوئے گا۔ لنگر خانے کھول دیے گئے ہیں۔ احساس پروگرام الگ سے ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ عمران خان ایسی قوم کے وزیراعظم ہیں کہ جو دودھ میں صرف پانی ہی نہیں ملاتی ہے بلکہ دودھ میں بالصفا پاوڈر ملا کر گاڑھا دودھ بنانے کے فن سے بھی واقف ہے۔ جعلی دوائیں بنانے والے عوامی نمائندے بن کر پارلیمان میں جاتے ہیں۔ ہماری تجارت ایسی ہے کہ ملکی پیداوار برآمد کر کے مہنگے داموں پھر درآمد کرتے ہیں۔ ہم اپنی معیشت ڈبو کر ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ان میں خرد برد کرتے ہیں۔

سیاست ملکی کاروبار میں کمیشن، ٹھیکے اور سرمایہ بنانے کے لئے کی جاتی ہے۔ عبادت دکھاوے کی کرتے ہیں۔ ہمارا مذہبی سرمایہ مولانا طارق جمیل ہے۔ ہماری تعلیم نفرت سے شروع ہوتی ہے۔ قتل وغارت گری ہمارے پسندیدہ مشاغل ہیں۔ سر تن سے جدا ہمارا نعرہ ہے۔ قاتل ہمارے ہیروز ہیں۔ خود عدالتیں لگا کر ہم فیصلے کرتے ہیں۔ والیٔ ریاست سمیت بڑی سے بڑی سرکار کو اپنے مسلمان ہونے کی تصدیق کرانی پڑتی ہے۔ کرپشن، بدیانتی اور بدعنوانی پر لب بند رکھنا حب الوطنی ہے۔ آئین و قانون کی خلاف ورزیوں پر سوال اٹھانا غداری ہے۔

دم غنیمت ہے کہ کوئی وزرات عظمیٰ کے منصب پر موجود ہے۔ بصورت دیگر نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کی عزت افزائی سے تو سب واقف ہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply