سوشل میڈیا: موجودہ دور کا مؤثر ہتھیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر دور میں طاقتور اور کمزور میں مقابلہ رہا ہے اور اس لڑائی میں کامیابی کے لیے مروجہ ہتھیاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ ہر دور میں کامیابی کے لیے درکار ہتھیاروں میں تبدیلی آتی رہی۔ اس زمین نے اپنی پیدائش سے لے کر آج تک بے شمار انقلابات دیکھے ہیں۔ اس زمین میں ان حکومتوں کے خلاف عوامی انقلاب برپا ہوا جن کی بنیاد حسب، نسب اور طاقت پر رکھی گئی تھی۔ زمین کی تاریخ میں چند وقفوں کے علاوہ حکومتوں کے بننے اور بگڑنے میں حسب، نسب اور طاقت جیسی قوتوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔

تاریخ کے جھروکوں سے اگر ان انقلابات کا مطالعہ کیا جائے تو ہر انقلاب ایک الگ داستان پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے مگر جب وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو تقریباً سب ایک جیسی ہی ہیں یعنی جب معاشرے میں عدل و انصاف ختم ہو جائے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کار فرما ہو، جھوٹ و فریب ایک عمومی رویہ بن جائے، رشوت ستانی اور اقرباء پروری کی داستانیں عام ہوں، اقتدار کو موروثیت کا تڑکا لگایا جائے، حکومت کو ذاتی میراث سمجھا جائے اور حکومتی اہل کاروں کو ذاتی ملازم سمجھا جائے تو ایسے میں پسے ہوئے لاچار و مجبور عوام، سوکھی روٹی کھانے کی بجائے لاٹھی کھانے اور تبدیلی لانے کے لیے بس ایک اشارے کے منتظر ہوتے ہیں۔

عوامی معاشی بدحالی اور موروثی سیاست ایسے دو عناصر تھے جن کی بنیاد پر دنیا میں اکثر انقلاب آئے جن میں کئی بار اہل اقتدار کی نسلیں تک بھینٹ چڑھ گئی کیونکہ ایسے انقلاب ہمیشہ خونی ہوتے ہیں۔ ماضی میں اس طرح کے انقلاب آنے میں کافی وقت لگتا تھا بلکہ بعض اوقات عشروں کے ظلم و جبر سہنے کے بعد عوام تیار ہوتے کیونکہ اس دور میں جدید ذرائع ابلاغ دستیاب تھے نہ ذرائع آمدورفت میسر تھے چنانچہ ایک بیانیہ بنتے بنتے اور پھر پورے ملک میں پھیلتے سالوں کا عرصہ لیتا تھا ، پھر کہیں جا کر عوام میں اضطراب پھیلتا اور پھر اس عوامی انقلاب کی لہروں کے سامنے کئی محل، قلعے اور فوجیں ریت کی دیوار ثابت ہوتیں۔

انقلاب کے اختتام میں ایک اور خون آشام صبح اپنے نئے سورج اور دیوتا کے ساتھ ضرور طلوع ہوتی مگر بیچارے عوام کا حال ویسے کا ویسا ہی رہتا کیونکہ آگہی کا فقدان تھا، شعور کی بلندی کے لیے دستیاب ذرائع محدود اور سست تھے۔ مگر موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی یعنی سوشل میڈیا نے عوامی شعور کی سطح کو پوری دنیا میں انتہائی بلند کر دیا ہے اور شعور کی بلندی کی بدولت ہی پچھلے چند سالوں میں اس دنیا نے کئی ایسے حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑے دیکھا، جس کا تصور بھی ماضی میں نہیں کیا گیا تھا۔

ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی یعنی سوشل میڈیا نے پاکستانی عوام کے شعور کی سطح کو پچھلے چند سالوں میں جس تیزی سے بلند کیا ہے وہ کسی معجزے سے کم نہیں اور اسی وجہ سے آج ہمارے عوام اس ذہنی سطح پر آ چکے ہیں جہاں وہ سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکتے ہیں۔ اگرچہ شعور میں بلندی کی گنجائش موجود ہے مگر تسلی والی بات یہ ہے کہ ہم سیدھے راستے پر چل پڑے ہیں۔

اگرچہ دشمن عوام الناس کو تصویروں کے غلط رخ اور غلط تشریحات کے ذریعے ورغلانے میں مصروف ہے مگر آج اسی دریافت کی بدولت ہمارے دشمن اپنی تمام تر شیطانی چالوں کے باوجود بھی ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اس حکومت اور عسکری قیادت کے عمدہ تال میل نے ساری دنیا کو ”پاکستان دشمن پالیسی“ سے ”پاکستان دوست پالیسی“ کی طرف گامزن کر دیا ہے جس کی وجہ سے ساری دنیا میں پاکستان کا اچھا تصور بن چکا ہے۔

اس جدید ٹیکنالوجی کا جہاں عوام نے فائدہ اٹھایا وہیں ہمارے سیاسی لوگوں نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ ایک سیاسی پارٹی نے ”سب کا احتساب اور تبدیلی ضروری ہے“ کے نعرے لگا کر عوام الناس کو سیاسی شخصیات کے چنگل سے نکال کر اصولی سیاست کی طرف راغب کیا اور یوں پاکستانی سیاست میں پہلی بار جو کام بڑے بڑے جلسے اور احتجاج نہ کر سکے وہ کام اس جماعت نے جدید ٹیکنالوجی یعنی سوشل میڈیا سے کر دکھایا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت ہمارے ملک کے فرسودہ نظام کے ناکام، نا اہل، مقدمات میں مطلوب اور عدالتی سزا یافتہ سیاست دان اپنی بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے الزامات اور سازشوں میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں نیز حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے حکومتوں کی کارکردگی پر تنقیدی جائزے، بہتان بازی، مقدمے بازی، ذاتی صفائی اور لفظی لڑائی کے علاوہ کوئی بھی تعمیری بات زیر بحث نہیں لائی جا رہی۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکومتی حلقوں اور اپوزیشن نے اپنی ذمہ داریوں کی، اپنی غفلتوں کی، عوامی مفاد کی اور ملک کی سالمیت کی بات کے علاوہ باقی سب معاملات پر بات کرنی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی یعنی سوشل میڈیا نے پاکستان کی تاریخ تبدیل کرنے کی ابتداء کر دی ہے۔ یاد رہے کہ نوجوان ہمارے شاندار مستقبل کے ضامن ہیں ، ہمیں اپنی نئی نسل سے بہت سی امیدیں ہیں کیونکہ تاریخ میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جہاں بے جان اقوام میں چند افراد نے نئی روح پھونک دی اور یوں ان کی محنت اور لگن نے اس قوم کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔

چین، جرمنی اور جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگر ہم ان ممالک کی تاریخ کے ورق پلٹیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا کی اس موجودہ شکل کے موجد چینی، جرمنی اور جاپانی افراد ہیں جنہوں نے اپنی ایجادات اور محنت سے ثابت کیا کہ برے حالات کو کیسے اپنی مرضی کے دھارے میں بدلا جاتا ہے اور کیسے اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں سے لکھی جاتی ہے۔

یقیناً ہمارے نوجوان اپنی نئی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اس ملک کو اس مقام تک لے جائیں گے جہاں ہمارا بھی شمار دنیا کے مہذب معاشروں میں ہو گا اور یوں یہ نوجوان نسل اس ملک کو حقیقی معنی میں ایک اسلامی اور فلاحی ریاست کا روپ دے گی۔

دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply