امریکہ میں ایشیائی نژاد افراد کے خلاف نسل پرستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کچھ دن پہلے امریکی ریاست اٹلانٹامیں تین ”سپاء مراکز ’میں ایشیائی نثراد خواتین پر گولیاں چلائی گئیں جس میں آٹھ ایشیائی خواتین ہلاک ہوئیں۔ اٹلانٹا واقعے کے دو ہفتوں بعد ایشیائی نثراد امریکیوں پر حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ نیویارک کے پین سٹیشن پر ایک اڑتیس سالہ ایشیائی فرد کو منہ پر مکہ مارا گیا۔ ایک چون سالہ خاتون کی گردن میں چاقو گھونپ دیا گیا۔ کیلیفورنیا میں ایک ایشیائی نثراد بوڑھی خاتون کو عین اپنے شوہر کی تدفین کے ایک دن بعد ایشیائی نثراد افراد کے خلاف دھمکی آمیز خط ملا۔

جبکہ اس مضمون کو تحریر کرنے سے ایک دن پہلے سی این این کے مطابق نیویارک کے ٹائمز چوک جیسے مشہور علاقے میں ایک آدمی نے ایک پینسٹھ سالہ فلپائنی نثرادخاتون کو سڑک پر گرا کر اس بری طرح سے مارا پیٹا کہ اس خاتون کی ناف سے نیچے کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی اور یہ تماشا دیکھنے والے چپ چاپ دیکھتے کھڑے رہے، انہوں نے اس خاتون کی مدد کرنے کی کوشش نہ کی۔ یہ واقعہ عین اس دن پیش آیا جب امریکہ کے اٹارنی جنرل کے بروکلین میں واقع زیلی دفتر نے اعلان کیا کہ شہری آزادیوں کی خلاف ورزیوں کی چھان بین کرنے والے شعبے کے عملے کی تعداد دگنا کی جا رہی ہے۔

ایشیائی امریکیوں کے خلاف انہی نفرت انگیز واقعات کے تدارک کے لیے مطالبات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ امریکہ میں اس وقت نسل پرستی کی ایک نئی اور خوفناک لہر چل پڑی ہے جس کی بظاہر وجہ تو سابقہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نسل پرستوں کی کھلے عام حمایت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، یہ واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے کورونا وائرس کو مسلسل چینی وائرس اور کنگ فو وائرس قرار دینے نے اورجیسے کے شارلٹ ویل میں نسل پر ستوں کو نہایت اچھے لوگ قرار دینا نے، لوگوں کے دلوں میں چھپی ہوئی نفرت کو باہر آنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔

بدقسمتی سے کانگریس سے ٹرمپ کے مواخذے میں ناکامی اور اس کی بریت نے اس جیسی سوچ رکھنے والوں کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں۔ لیکن اگر تھوڑی گہرائی سے معاملے کو دیکھا جائے تو یہ معاملہاتنا سطحی نہیں ہے کیونکہ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے جیسے ملکوں سے زیادہوہاں اپنے حکمرانوں کی بات پر زیادہ یقین کرنے کا رواج رہا ہے، جیسے کہ بش نے اپنے عوام کو گمراہ کیا کہ نو گیاہ کا حملہ عراق نے کرایا ہے لیکن بعد میں جھوٹا ثابت ہوا۔

اسی طرح سے ویتنام میں خلیج ٹونکن میں پہلی گولی چلانے کے معاملے پر امریکہ نے شمالی ویتنام کی اشتراکی حکومت کے فوجیوں پر الزام لگایا تھا لیکن بعد میں سنء دو ہزار پانچ میں تسلیم کیا کہ امریکی فوج نے پہلی گولی چلائی تھی۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم وہاں بھی ایسی مثالیں ضرور ہیں کہ جن میں عوام کو پتا ہے کہ حکمرانوں نے ان سے جھوٹ بولا ہے تو اس سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں کے عوام یہ نہیں جانتے کہ حکمران ان سے جھوٹ بھی بول سکتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود یہ بات طے ہے کہ ٹرمپ کی کھلے عام نسل پرست افراد کی حمایت نے ان لوگوں کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ جو پہلے چھپ چھپا کر اپنی انتہائی نجی محفلوں میں اس طرح کی باتیں کرتے تھے ان کو یہ حوصلہ ضرور ملا ہے کہ جب ہمارا صدر سب کے سامنے ایسی نسل پرستانہ باتیں کہ رہا ہے اوراسے کسی قسم کے ردعمل یا سزاء کا خوف لاحق نہیں ہے تو ہم ایسی بات کہتے ہوئے کیوں خوف اور شرمندگی کا احساس کریں۔ اور یہی ٹرمپ کا سب سے بڑا کارنامہ یابرائی ہے کہ اس نے عام لوگوں کے دلوں میں اس حوالے سے موجود جذبات کو سب کے سامنے کہہ دینے اور ایسی نسل پرستی پر کسی قسم کی شرمندگی نہ محسوس کرنے کا حوصلہ بخش دیا ہے اور یہ بات امریکہ کی سلامتی، قومی یکجہتی اور اقوام عالم میں اس کی ساکھ، اثرو رسوخ اور بین الاقوامی سطح پر نسل پرستی کے خلاف مہمکو بہت بڑا دھچکہ پہنچاتی ہے۔

جب سنء ساٹھ کی دہائی میں ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کی چلائی تحریک کے نتیجے میں سول رائٹس کے قانون منظور ہوئے اور بظاہر معاشرے میں سیاہ فاموں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف معاندانہ جذبات دب گئے لیکنبہرحال موجود رہے۔ اس وقت ٹرمپ نے سنء ساٹھ کی دہائی سے لوگوں کے دلوں چھپے ہوئے ایسے جذبات کو باہر نکال دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیاہ فاموں، دیگر اقلیتوں اورایشیائی نثراد افراد پر نسل پرستانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جس طرح کہا جاتا ہے کہ کسی چیز کو توڑنا بہت آسان ہوتا ہے مگر ٹھیک کرنا بہت مشکل اسی طرح بائیڈن انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے ہاتھ سے لگائی گئی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑیں گی اور اس کام کے حوالے سے نہایت سنجیدگی اور یکسو ہو کر کام کرنا پڑے گا۔ پھر بھی کم ازکم بائیڈن انتظامیہ کے پہلے چار یا آٹھ سالوں میں بھی ٹرمپ کی پھیلائی گئی نفرت کو قابو میں لانا آسان نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے آنے والی کئی امریکی صدور کیانتظامیہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرح اس کام کو مسلسل جاری رکھنا ہوگا، تبھی جا کر نفرت کے اس سیلاب کے آگے حقیقی معنوں میں بند باندھا جا سکے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
دانش علی انجم کی دیگر تحریریں

Leave a Reply