گوتم کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گوتم برسوں پہلے مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ وہ نروان کی تلاش میں نکلا اورپھر کھو گیا۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی اس کی تلاش شروع کر دی۔ میں تب سے اس کی تلاش میں ہوں۔ پہلے میں پراتھنائیں کرتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ پراتھنا سے میرا بھائی مل جائے گا۔ لیکن وہ نہ مل سکا۔ پھر بٹوارا ہو گیا ہے۔ جو کبھی ایک ملک تھا۔ اب وہاں دو ملک بن گئے اور درمیان میں طویل سرحد کی باڑ کھنچ گئی۔ کئی لوگ ادھر ادھر چلے گئے مگر مجھے گوتم نہ مل سکا۔ اور یوں میری تلاش بٹوارے کے بعد بھی ختم نہ ہو سکی۔

میں جس خطے پر رہتا ہوں وہیں پر پراتھنائیں کرتا رہا۔ ایک دن مجھے لگا کہ میری پراتھناؤں میں اثر نہیں ہے۔ میں نے ذہین بزرگ سے اس بارے میں پوچھا:

”بابا میری پراتھنا میں اثر کیوں نہیں ہے؟“

” بچے دعائیں مانگو دعائیں۔ دعا مانگو گے تو کچھ ہو گا۔ باقی سب باتیں فضول ہیں! اگر پراتھنا کرنی ہے تو بھارت چلے جاؤ“ بابا نے جواب دیا۔

بزرگ کی ہدایات پر میں نے پراتھنائیں کرنا چھوڑ دیں اور دعائیں مانگنے لگا۔ کئی سال تک دعائیں مانگیں مگر مجھے پھر بھی گوتم نہ مل سکا۔

میں پھر بزرگ کے پاس گیا۔ ”بابا دعائیں اثر نہیں کر رہیں، مجھے میرا بھائی نہیں ملا۔ مجھے بتائیں میں کیا کروں؟“

” تم کو دعا مانگنی ہی نہیں آتی۔ تم گڑگڑا کر اور رو رو کر دعا مانگو۔ ضرور اثر ہو گا۔“ بابا نے ہدایت کی۔

بزرگ کی ہدایت پر عمل کیا مگر پھر بھی مجھے گوتم نہ مل سکا۔ میں نے ایک بار پھر پراتھنائیں کرنے کا سوچا۔ اس کے لئے میں مندر کے پجاری کے پاس گیا۔

” پجاری جی میرا مارگ درشن ( راہ دکھائیے ) کیجیے۔ میرا بھائی گوتم نہیں مل رہا، میں کیا کروں؟“
” کب کھویا ہے تمہارا بھائی؟“ پجاری نے پوچھا۔
” برسوں پہلے۔ تب میرا جنم بھی نہیں ہوا تھا!“ میں نے کہا۔
پجاری نے حیرانی سے پوچھا ”جب وہ تم سے پہلے کھویا ہے تو تم کو پتہ کیسے چلا؟“

” ہاں مجھے معلوم ہے تبھی تو اس کی تلاش کر رہا ہوں۔ آپ بس مجھے اپائے ( حل ) بتائیے۔ گوتم کیسے ملے گا!“ میں نے کہا۔

” ہون ( ایک خاص قسم کی پوجا ) کرنا پڑے گا تب جا کر سپھلتا پراپت ( کامیابی ملے گی ) ہو گی۔“ پجاری نے کہا۔

ہم نے بڑا ہون کیا۔ مگر سپھلتا پراپت نہ ہو سکی۔ میں نے پجاری سے کہا:

” پجاری جی ہون کیا پھر گوتم کیوں نہیں ملا۔“ پجاری کوئی جواب دیے بغیر مجھے گھورتا رہا۔ میں نے ان سے سوال کیا: ”پجاری جی یہاں والوں کی بھگوان سنتا ہے کیا؟ ایسا تو نہیں کہ بھگوان نے یہاں والوں کو اپنی لسٹ سے ہی نکال دیا ہو۔ اور ان کی یہاں کوئی دلچسپی نہیں رہی؟“ میری بات پر پجاری کو غصہ آ گیا۔

” کیسی اپمان جنک (بیہودہ ) باتیں کر رہے ہو۔ ناستک ( دھریہ) ہو کیا۔ نکلو یہاں سے؟“

” پجاری جی ناراض نہ ہوں۔ میں ناستک نہیں ہوں۔ مجھے بڑے بھائی کی جدائی نے ایسا بنا دیا ہے۔“ میں نے ہاتھ جوڑ دیے۔

میری التجا کے بعد پجاری کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔ میں چپ چاپ ان کے سامنے پالتی مارے بیٹھا رہا۔ میری حالت دیکھ کر انہیں دیا (رحم) آ گئی۔

بولے ”یاتریوں کا ایک دَل (جتھا) بھارت یاترا پر جا رہا ہے تم بھی جاؤ۔ کاشی، متھرا، ہری دوار میں پراتھنائیں اور پوجا کرو گے تو تمہاری منو کامنا (دل کی مراد) پوری ہو گی“

پجاری کی باتیں سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اور یقین ہو گیا کہ اب بھارت میں میری پراتھنائیں سنی جا سکیں گی۔ لیکن میری یہ خوشی، خوشی نہ رہی۔ اور میرے بھارت جانے کے درمیان دونوں ملکوں کے خراب تعلقات دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔

دونوں ملکوں کے درمیاں تعلقات پہلے ہی دن سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ اس بار حالات اتنے بگڑے کہ آمد و رفت ہی بند کر دی گئی۔ اور میرا بھارت جانا کھٹائی میں پڑ گیا۔

کئی ماہ انتظار کے بعد بھی حالات معمول پر نہ آئے تو میں سیالکوٹ بارڈر پر چلا گیا۔ سرحد پر کھڑے ہو کر میں گوتم کو یاد کرنے لگا۔ سرحد کے عین اوپر ایک درخت کو دونوں ملکوں میں منقسم پایا۔ تو خیال آیا کہ یہاں میری پراتھنا ضرور سنی جائے گی۔

”گوتم اب لوٹ آؤ۔ تم کو نروان تو مل گیا ہے ناں۔ اب لوٹ آؤ۔ ہم راہ بھٹک گئے ہیں۔ تمہاری بہت ضرورت ہے۔“

Latest posts by کوی شنکر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply