چھتیس گڑھ میں 22 انڈین فوجیوں کی ہلاکت: ماں جسے بیٹے کی ہلاکت کی خبر ٹی وی سے ملی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہانادی کے کنارے آباد ’پنڈاری پانی‘ گاؤں کی گلیوں میں ہر طرف سناٹا چھایا ہوا ہے۔ کبھی کبھار موٹرسائیکل اور پولیس کی کچھ گاڑیاں گزرتی ہیں جو اس خاموشی کو توڑ دیتی ہیں۔

گاؤں کی کچھ خواتین اس گاؤں میں واقع ایک گلی کے آخری مکان میں داخل ہوتی ہیں اور پھر اس گھر سے کئی خواتین کی آہ و بکا اور رونے کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ یہ گھر ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ کے 35 برس کے ہیڈ کانسٹیبل رمیش کمار جوری کا ہے جو سنیچر کو بیجا پور میں ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے تھے۔

ابھی تک اُن کی میت اُن کے گاؤں تک نہیں پہنچی ہے۔

سنیچر کے روز ریزرو فورس کے 22 اہلکار ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ ہونے والے ایک مقابلے میں سکما ضلع کے علاقے ماریگودا میں ہلاک ہوئے تھے، جن میں ضلعی پولیس فورس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر تمیشور سنہا بھی شامل تھے۔

گھر کے سامنے تین چار پولیس والے کھڑے ہیں۔ ایک جوان کا کہنا ہے کہ اب رمیش کمار کی جگدالپور میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ پھر ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت کو کانکر اور وہاں سے سڑک کے ذریعے پنڈاری پانی تک لے جایا جائے گا، جس میں مزید چند گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چھتیس گڑھ میں 22 انڈین فوجیوں کی ہلاکت: سٹریٹیجک غلطی یا انٹلیجنس ناکامی؟

چھتیس گڑھ:ماؤنواز باغیوں کے حملے میں 11 اہلکار ہلاک

ماؤنوازوں کی خونریز جنگ بے معنی ہو چکی ہے

پنڈاری پانی ضلع کانکر سے 35 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔

اس گاؤں کی آبادی تقریباً 1900 افراد پر مشتمل ہے اور اس کے وسط میں ایک کھلا میدان ہے۔ اسی جگہ پر بائیں طرف سڑک کنارے ایک پولیس اہلکار کا مجسمہ نصب ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق یہ مجسمہ تمیشور سنہا نامی ایک پولیس اہلکار کا ہے۔

यह मूर्ति तामेश्वर सिन्हा नामक पुलिस जवान की है

Alok Putul/BBC

رمیش کمار جوری کا گھر اس جگہ سے تقریباً سو میٹر دوری پر واقع ہے۔

رمیش کی فیملی اس کی آخری رسومات کی تیاری کر رہی ہے

رمیش کا چھوٹا بھائی سنجے جوری اپنے بھائی کی آخری رسومات کی تیاری میں مصروف ہے۔ گھر کے سامنے والے کھیت میں آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ایک گڑھا کھودا جا رہا ہے۔

اکتوبر 2005 میں رمیش کے والد کی وفات کے بعد سنجے نے گاؤں میں ہی کھیتی باڑی کے امور سنبھال لیے تھے۔ اس گاؤں میں تقریباً نو ایکڑ رقبہ زیر کاشت ہے۔ سنجے کی دو بہنیں ہیں، جن کی قریب کے ہی ایک گاؤں میں شادی ہو چکی ہے۔

رمیش اپنی اہلیہ سنیتا اور چار برس کی بیٹی سیجل کے ساتھ بیجا پور میں رہتے تھے۔ سنجے کو اپنے ایک پڑوسی لڑکے نے اُن کے بڑے بھائی کی موت کی خبر دی۔

سنجے کا کہنا ہے کہ ’میں پہلے اس پر یقین نہیں کر سکا تھا۔ بعد میں میں نے ٹی وی پر خبر دیکھی۔ ہم دو بھائی تھے۔ اب میں اکیلا ہوں۔ بھائی گھر میں سب سے بڑے تھے۔ وہ گھر کے تمام امور خود انجام دیتے تھے۔ آخری بار ہولی کے دو تین دنوں میں ان سے فون پر بات ہوئی تھی۔ وہ والدہ کے لیے کافی فکرمند رہتے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ان کے بھائی شروع سے ہی فورس میں شمولیت کے خواہشمند تھے۔ لیکن جس طرح سے ان کی تعیناتی ماؤ ازم سے متاثرہ علاقے میں تھی اس کو لے کر گھر میں ایک خوف بھی پایا جاتا تھا۔‘

संजय जुर्री

Alok Putul/BBC

ماں نے پولیس کو بیٹے کو گھر کے قریب ٹرانسفر کرنے کی درخواست مگر پھر ٹی وی پر اس کی موت کی خبر سن لی

رمیش کی والدہ ستیاوتی کی حالت خراب ہے۔ ان کے آس پاس بیٹھی خواتین اُن کو بار بار حوصلہ دے رہی ہیں۔

اس کی خالہ ودیا یوسینڈی کانکر میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ستیاوتی جوری کی صحت خراب ہے، اسی بنا پر وہ تین یا چار دن پہلے رمیش کے تبادلے کے لیے جگدالپور گئی تھیں اور حکام کو اپنے بیٹے کے ٹرانسفر کی درخواست دی تھی اور وجہ یہ بیان کی تھی کہ بڑے بیٹے کی حیثیت سے ان کا بیٹا اپنی ماں، گھر والوں اور سب کا خیال رکھتا ہے۔

جب مقابلے کی خبر چلی تو وہ ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ اسی وقت بیجاپور میں رہائش پذیر رمیش کی اہلیہ سنیتا نے انھیں فون کیا۔

ودیا کا کہنا ہے کہ ان کی ’بہو نے مجھے فون کیا جنھوں نے مجھے ٹی وی آن کرنے کا کہا۔ میں نے ٹی وی دیکھنا شروع کر دیا۔ وہاں آنے والی تصویر میں، میں اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہی تھی تھا کہ میرا بابو کہیں نظر آئے گا۔ لیکن بابو اس ہجوم میں کہیں بھی نظر نہیں آیا۔‘

یہ کہتے ہوئے وہ زاروقطار رو پڑیں۔ پھر انھیں دوسری خواتین نے سہارا دیا۔

ان کے رشتے کے ایک ماموں نے بتایا ہے کہ رمیش کے والد نیشنل منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ملازم تھے۔

رمیش کی ایک چار سال کی بیٹی ہے

یہ بچی بہت خاموش طبع اور فرمانبردار ہے۔ رمیش نے اپنی ابتدائی تعلیم بیلادیلا میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد کانکر سے انھوں نے پوسٹ گریجویشن کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے پولیس میں بھرتی ہونے کے لیے امتحان دیا اور 2010 میں پہلی بار ان کا انتخاب ہوا۔

اس کی شادی پانچ سال کی ملازمت کے بعد ہوئی اور اب ان کی ایک چار برس کی بیٹی سیجل ہے۔.

گارڈ آف آنر

رمیش کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر سکول کے احاطے میں گارڈ آف آنر کی تیاری کی گئی ہے۔ اس احاطے کے ایک طرف ایک کنوپی لگائی گئی ہے، جہاں سینکڑوں خواتین بیٹھی ہوئی ہیں جبکہ مرد اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے ہیں۔

ضلع کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ پولیس کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ آس پاس کے عوامی نمائندے بھی ایک ایک کر کے یہاں پہنچ رہے ہیں۔

دو تین گاڑیاں صحن تک پہنچ جاتی ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رمیش کی اہلیہ سنیتا اور بیٹی سیجل کار میں بیجا پور سے یہاں پہنچی ہیں۔

کچھ ہی دیر میں سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں پر ’جیے جوان، جیے کسان‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے نوجوانوں کا ایک گروپ وہاں پہنچا۔ ان نوجوانوں کے قافلے کے پیچھے کچھ گاڑیاں نظر آئیں، جن میں سے ایک ایمبولینس ہے جس سے رمیش کی میت کو اتارا جا رہا ہے۔

سینکڑوں مرد و خواتین کھڑے ہو گئے۔ اب ہر طرف ہجوم ہی ہجوم ہے۔ ہر کوئی آخری بار رمیش کو دیکھنا چاہتا ہے۔

रमेश की पत्नी सुनीता

AlOK PUTUL/BBC

چار سال کی سیجل اپنی روتی دادی کو غور سے دیکھ رہی ہے

تابوت میں بند رمیش کی میت کو اونچی جگہ پر رکھا جاتا ہے، جہاں لوگ نعرے لگا رہے ہیں اور اُن پر پھول برسا رہے ہیں۔ پولیس اہلکار گارڈ آف آنر پیش کرتے ہیں۔ اس دوران وہ سوگ کی دھن بجاتے ہیں، جس کے بعد خاندان کا ہر فرد آ کر ان کی میت پر پھول برساتا ہے۔

رمیش کی اہلیہ بار بار اپنے شوہر کا چہرہ دیکھنے پر اصرار کرتی ہیں۔

خواتین پولیس اہلکار بھی اپنے آنسو پونچھتی نظر آئیں۔ ان سب میں چار برس کی بیٹی سیجل سب سے زیادہ نامعلوم اور خاموش دکھائی دیتی ہے۔ بس، سیجل اپنی دادی کو روتا ہوا دیکھ رہی ہے۔

ایک گھنٹے کے بعد آخری رسومات کے لیے رمیش کی میت کو گھر کے سامنے احاطے میں لے جایا جاتا ہے۔

یہاں کچھ نہیں ہو سکتا، نوٹ کر لیں

گھر کے سامنے کھڑا ایک پولیس اہلکار اپنے موبائل فون پر کچھ سُن رہا ہے۔ دو تین دیگر پولیس اہلکاروں کی نگاہیں بھی سامنے والے میدان کی طرف ہیں، لیکن وہ سیل فون سے آنے والی آواز کو بھی سننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واٹس ایپ پر وزیر داخلہ امیت شاہ کی پریس ٹاک کی ویڈیو چل رہی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’میں آج چھتیس گڑھ اور انڈیا کے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس واقعے کے بعد وہ اس لڑائی کو مزید تیز کر دیں گے اور ہم یقینی طور پر اس جنگ کو جیتیں گے۔۔۔ میں انھیں بدل کر رکھ دوں گا۔۔۔‘

سیل فون کو بند کرتے ہوئے پولیس اہلکار نے اسے اپنی جیب میں ڈالا اور کہا کہ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔ آپ صحافی ہیں یا نہیں، (بس میری یہ بات) نوٹ کر لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp