فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھنے والے اہل کار نے پالیسی کی خلاف ورزی کی: پولیس چیف کا بیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منی ایپلس پولیس کے سربراہ میڈاریا اراڈونڈو کا کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کو حراست میں لینے کے بعد نو منٹ سے زائد تک ان کی گردن پر گھٹنا رکھ کر دبانے والے پولیس افسر ڈیرک چاون نے محکمے کی پالیسی پر عمل نہیں کیا۔

امریکہ میں گزشتہ سال مئی میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت میں نامزد پولیس افسر ڈیرک چاون کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں پیر کو منی ایپلس پولیس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کی گواہی قلم بند کی گئی۔

منی ایپلس پولیس کے سربراہ میڈاریا اراڈونڈو کا کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کو حراست میں لینے کے بعد نو منٹ سے زائد تک ان کی گردن پر گھٹنا رکھ کر دبانے والے پولیس افسر ڈیرک چاون نے محکمے کی پالیسی پر عمل نہیں کیا۔

پیر کو عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے میڈریا ارانڈونڈو کا مزید کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کو ہتھکڑیاں لگانے کے بعد گردن دبانا یا زیرِ کرنا محکمۂ پولیس کی پالیسی یا تربیت نہیں ہے۔ ان کے بقول اس کے ساتھ ساتھ یہ اخلاقیات اور ہماری روایات کے بھی برخلاف ہے۔

منی ایپلس پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ افسران کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی صورتِ حال کی سنگینی کو کم کریں یا طاقت کے کم سے کم استعمال کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح انہیں ابتدائی طبی امداد دینے کی بھی تربیت دی جاتی ہے اور یقینی طور پر یہ ہماری ذمے داری بھی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 25 مئی کو جارج فلائیڈ ایک پولیس کی تحویل میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب ایک اہل کار ڈیرک چاون نے ان کی گردن اپنی ٹانگ سے نو منٹ تک مسلسل دبائے رکھی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو اردگرد کھڑے شہریوں نے بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی تھی جس کے بعد امریکہ کے کئی شہروں اور دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

ڈیرک چاون اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پولیس کے محکمے نے اس واقعے کے بعد نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔ اب ان پر جارج فلائیڈ کے قتل کا الزام ہے جب کہ ان کے ساتھیوں پر معاونت کے الزامات ہیں۔

حال ہی میں مقامی حکومت نے جارج فلائیڈ کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے تصفیے کے لیے دو کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا ہرجانہ ادا کرنے کی حامی بھری ہے۔

میڈاریا اراڈونڈو منی ایپلس شہر پولیس کے پہلے سیاہ فام سربراہ ہیں۔ انہوں نے جارج فلائیڈ کی ہلاکت ‘قتل’ قرار دیا تھا۔ انہوں نے ہی ڈیرک چاون اور دیگر تین پولیس اہل کاروں کو محکمۂ پولیس سے فارغ کیا تھا۔

سفید فام ڈیرک چاون نے پولیس کی نوکری سے فارغ ہونے سے قبل تک 19 برس محکمے میں خدمات انجام دیں تھیں۔ ان کے خلاف الزامات کے سماعت 12 رکنی جیوری کر رہی ہے۔ ڈیرک چاون نے ان پر قتل سمیت دیگر الزامات کی تردید کی ہے۔

ڈیرک چاون کے وکیل کے مطابق جارج فلائیڈ کی موت ان کی صحت سے متعلق معاملات کے باعث ہوئی تھی۔ وکیلِ صفائی کا مزید کہنا تھا کہ ڈیرک چاون نے پولیس کی تربیت کے مطابق جارج فلائیڈ کو گرفتار کیا تھا۔

قبل ازیں جیوری نے منی ایپلس اسپتال کے ایمرجنسی روم کے ڈاکٹر کی گواہی بھی ریکارڈ کی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1668 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply