امت اخبار کیسی صحافت کر رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہالت اور عدم برداشت کی کس سطح پر ہم پہنچ گئے ہیں کہ کسی بھی قسم کے الفاظ اخباری شہ سرخیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صحافت کا سیاہ ترین وقت ہے کہ اس طرح کی خبریں بنائی جا رہی ہیں۔ اخبار میں خبریں لگانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں جو اب بالائے طاق رکھ دیے گئے ہیں۔ ایسا ہی پانچ اپریل کے اخبار ”امت“ کی شہ سرخی پڑھ کر احساس ہوا، ہم کس قدر اپنی اقدار، تہذیب اور اخلاقیات سے دور ہو چکے ہیں بلکہ ان کا جنازہ نکال چکے ہیں۔

لاکھ آپ کے اختلافات ہوں کسی سے، آپ سے برا سمجھتے ہوں لیکن خبر شائع کرنے اور آپس کی گالم گلوچ الگ بات ہے، پرنٹ میڈیا کی تو لٹیا ہی ڈبو دی، کھلے الفاظ میں ”رنڈی“ لفظ استعمال کیا بلکہ پوری خبر میں پانچ مرتبہ یہ لفظ لکھا گیا اور آخر میں تو حد ہی کر دی کہ سیاست، میڈیا، پی ٹی آئی، سب کو لپیٹ میں لے لیا ، یہ کون سی تہذیب ہے۔

اسلام کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں، حکم ہے زنا ہوتے دیکھو تب بھی کچھ کہنے سے پہلے سوچ لو کہیں تمھارے دیکھنے میں تو کجی نہیں تھی ، کجا آپ نے عورت مارچ سے لے کر میڈیا میں کام کرنے والی ہر عورت کو اس لفظ سے یاد فرمایا، کیا آپ روزمرہ یہی زبان استعمال کرتے ہیں۔

رنڈی کا مطلب واضح کر دوں ، یہ ان بے بس بے کس عورتوں کا پیشہ ہے جنہیں آپ جیسے مردوں نے اس پیشہ پر مجبور کیا۔ رنڈی کو رنڈی کس نے بنایا؟ اس معاشرے نے ۔ اگر زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات فراہم کی جاتیں تو جسم فروش کیوں بنتیں۔ لیکن اس پدر سری نظام نے انہیں اس گند تک پہنچایا۔

آپ کے ہاتھ نہیں کانپے یہ الفاظ ہر اس عورت کے لیے لکھ ڈالے جو ”مرد کے معاشرے“ میں ہمت، استقلال سے کھڑی ہے اور ڈٹ کر موج حوادث کا مقابلہ کر رہی ہے، یہی ادا آپ کو نہیں بھائی اور آپ نے تذلیل کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا، خبر میں جن ملکوں میں زیادتی کی بات کی گئی وہاں بھی مذمت ہوتی ہے لیکن آپ کو تکلیف عورت مارچ سے تھی جو اپنی خنس نکالی، کیسے پاؤں کی جوتی پاؤں کو کاٹنے لگی اور اب سر پر پڑ رہی ہے انہی حرکتوں کی وجہ سے۔

آپ کے اوچھے کرتوتوں کا پردہ فاش کر رہی ہے یہ صنف نازک، زیادہ تکلیف تو یہی ہے۔ عورت کے وجود سے جنم لینے والو! خدارا عقل کے ناخن لو، عورت کی تذلیل سے باز آ جاؤ۔ آج یہ الفاظ استعمال ہوئے اور کل کو کھلے عام گالیاں چھاپو گے ۔ ویسے بھی گالیاں تو ماں بہن کی ہی ہوتی ہیں، سب برابر کر دو جہالت میں۔

میں وزیراعظم سے درخواست کرتی ہوں خدارا اس کا نوٹس لیں، اس رویے کا خاتمہ کرائیں، اخبارات مادر پدر آزاد نہیں ہیں کہ جو چاہیں لکھ دیں۔ اس اخبار کا ڈیکلیریشن منسوخ کر دیں، قوم کی ہر عورت آپ کو دیکھ رہی ہے ، اس شہ سرخی کے نیچے ہی آپ کی تصویر بھی جگمگا رہی ہے۔ ذرا اس کا ہی لحاظ کر لیں۔ سخت اقدام لیا جائے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ ریاست ان کی سرپرستی کر رہی ہے۔

میں بذات خود پی ایف سی سی خواتین ونگ کی صدر کی حیثیت سے اس کی مخالفت کرتی ہوں اور حکومت سے امید کرتی ہوں کہ پرنٹ میڈیا کی حدود کا تعین کیا جائے اور ان الفاظ کی مذمت کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply