’عورتوں کو بدلنے کی ضرورت نہیں، مردوں کو اپنا طرزِ عمل بدلنا ہو گا‘: میئر لندن صادق خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’دن کا کوئی بھی وقت ہو، اس نے جو مرضی پہنا ہو اور ہمارے شہر میں وہ کہیں بھی ہو، ہر خاتون اور لڑکی کو محفوظ ہونے کا احساس ہونا چاہیے۔ اور زندگی گزارنے کے لیے عورتوں کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مردوں کو چاہیے کہ وہ خود کو بدلیں۔۔۔مردوں کو بدلنا ہو گا۔‘

یہ الفاظ لندن کے مئیر صادق خان کے ہیں۔ انھوں نے انتخابی کیمپئن کا آغاز اس عہد سے کیا ہے کہ وہ لندن کو ایسا شہر بنانا چاہتے ہیں جہاں تمام خواتین اور لڑکیاں ناصرف خود کو ہمیشہ محفوظ محسوس کریں بلکہ محفوظ رہیں۔

صادق خان نے خبردار کیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی جڑ ’زہریلی مردانگی‘ ہے اور انھوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے نئے اقدامات بھی پیش کیے۔

لندن کے مئیر کا یہ بیان سارہ ایورارڈ کی موت کے بعد سامنے آیا ہیں۔ سارہ کی موت کے بعد کئی خواتین نے عوامی مقامات پر مردوں کی جانب سے انھیں ہراساں کرنے، بدسلوکی اور ان پر حملے کے ذاتی تجربات شیئر کیے ہیں۔

صادق خان نے مردوں پر زور دیا کہ وہ اپنے طرز عمل پر روشنی ڈالیں اور متنبہ کیا کہ یہ مسئلہ ان کے ’ناقابل قبول رویوں‘ کی وجہ سے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لندن کے میئر صادق خان پاکستان کے دورے پر

لندن میں پرتشدد واقعات پر ٹرمپ کی صادق خان پر تنقید

لندن: غلاموں کے کاروبار سے منسلک مجسمے ہٹانے، سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کی مہم

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ چیز مجھے بہت دکھی کرتی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بہت ساری خواتین اور لڑکیاں ہمارے ملک میں محفوظ محسوس نہیں کرتیں۔‘

لندن کے میئر نے کہا ’آئیے ایماندار بنیں۔ یہ مسائل مردوں کے ناقابل قبول رویوں اور طرز عمل کی وجہ سے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ صرف ان مردوں کی وجہ سے ہی نہیں جو تشدد پسندانہ رویہ رکھتے ہیں بلکہ یہ مسئلہ ان مردوں کا بھی ہے جو عورتوں سے امتیازی سلوک کرتے ہیں، جو عورتوں کے ساتھ یا ان کے آس پاس رہتے ہوئے غیر مناسب سلوک کرتے ہیں، جو مردوں کی ایک زہریلی شبہیہ کو برقرار رکھتے ہیں اور وہ جو عورتوں کو خطرے میں دیکھ کر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔‘

لندن کے مئیر نے مزید کہا ’مرد کو بس بدلنا چاہیے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کے ہر ایک حصے اور ہر عمر میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جس طرح برتاؤ کیا جارہا ہے، اسے تبدیل کرنے کی کوشش کروں گا۔‘

اگلے مہینے برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے میئر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں صادق خان نے کورونا وائرس کے تناظر میں لندن کے لیے ’روشن مستقبل‘ بنانے والے منشور کو استعمال کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا: ’عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا شکریہ‘

سوشل میڈیا پر بیشتر افراد عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر لندن کے مئیر کی تعریف کر رہے ہیں۔

اس موقع پر چند پاکستانی ایک خان کا مقابلہ دوسرے خان سے کرتے دکھائی دیے۔ یعنی لندن کے مئیر کے بیان کا موازنہ پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ بھی کرتے دکھائی دیے۔

انیلا خان نے لکھا ’کاش کوئی یہ ٹویٹ عمران خان کو بھی دکھا دے۔‘

ایک اور پاکستانی صارف لکھتی ہیں کہ ’عمران خان کو صادق خان سے کچھ سیکھنا چاہیے۔ ایک پاکستانی مسلمان جو ساری زندگی برطانیہ میں رہا۔۔ کسی قسم کے جنسی تعلقات، منشیات اور غلط کاموں میں ملوث نہیں رہا۔۔۔ مولویوں کی پیروی کرنا چھوڑیں اور صادق خان کی پیروی کرنا شروع کریں۔‘

ایک صاحب نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ’کیا صادق خان مسلمان ہیں؟ پاکستان میں لوگ پوچھ رہے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18550 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp