پی ڈی ایم کے “بیڈ بوائز” ہی اصل وجہ ہیں کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں شہر سے ذرا پرے گاوں دیہات میں شادی ہوتی ہے تو اب بھی باراتیوں کے لئے بسوں اورکہیں کہیں ٹریکٹر ٹرالیوں کا بندوبست کیا جاتا ہے ان باراتوں میں روانہ ہونے سے پہلے یا بعد کچھ لڑکے گاڑی سے اترتے ہیں اورساتھ چلتی کسی دوسری گاڑی میں سوارہو جاتے ہیں ۔

وہ اکثر ایسا دو تین وجوہات سے کرتے ہیں یا تو ان کی اگلی گاڑی پچھلی والی سے زیادہ بہتر ہوتی ہے اوریا اس میں ان کے من پسند دوست بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس گاڑی بدلنے کے بدلے ان نوجوانوں کو منزل پر پہنچ کر اپنی پہلی والی گاڑی کی سواریوں سے طعنے سننے کو ملتے ہیں کہ نئی گاڑی دیکھ کر فورا انہیں چھوڑ کر چلے گئے تاہم یہ “ہوشیار” نوجوان یا تو اس بات کو ہنسی میں اڑادیتے ہیں اوریا پہلی والی گاڑی میں “بیڈ بوائز” یعنی بُرے لڑکوں کی موجودگی جیسے کسی بہانے کا سہارا لیتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ گاڑی بدلنے کا انہیں باپ یا بھائی نے کہا تھا۔ ان نوجوانوں کا موقف بعض اوقات حقیقت پربھی مبنی ہوتا ہے تاہم انہیں ساری شادی کے دوران گاڑی بدلنے کے اس عمل پر طعنے اورآوازے سُننے پڑتے ہیں۔

بات تو یہ مذاق کی ہوتی ہے لیکن ایسا ایک دو بار کرنے والے نوجوانوں کے بارے میں عمومی تاثر یہ بن جاتا ہے کہ یہ کہیں ایک جگہ ٹکتے نہیں اورجہاں پر اپنا مفاد نظر آیا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں ان کا اعتبار کچھ کم ہوجاتا ہے۔

گذشتہ کئی دنوں سے ملکی سیاست خصوصا اپوزیشن جماعتوں کے بیچ جاری کشمکش بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ اس کی شکل لمحہ لمحہ بدلتی رہتی ہے کبھی تو لگتا ہے کہ اب توحکومت گئی کہ بس گئی لیکن ساتھ ہی “باغی مُجاہدین” کی اپنی گاڑی میں اچانک آگ لگ جاتی ہے اورنتیجے میں کوئی نہ کوئی چھلانگ لگا کراُتر جاتا ہے۔ پھر بے یقینی کے بادل ہر سُو چھا جاتے ہیں۔ کبھی مسلم لیگ کے کسی رہنما کی پنڈی میں ملاقات کو جواز بنا کرجوارباٹا اٹھتا ہے تو کبھی پیپلزپارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی لائن لینے کے الزام تلے روندا جاتا ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بیچ یہ کھیل چل رہا ہوتا ہے اوران کے مقابلے میں پارلیمان میں کم نمائندگی یا بالکل نمائندگی نہ رکھنے والی اتحادی جماعتیں ان کو دیکھ کراپنے لئے کھیل میں پوزیشن کا تعین کرتی رہتی ہیں۔

پی ڈی ایم کے نام سے بننے والے حکومت مخالف جماعتوں کے اس اتحاد پی ڈی ایم میں ایک بار پھر مسلم لیگ اورپیپلزپارٹی کے مابین الزامات در الزامات کی سیاست زوروں پر ہے اور اس جنگ میں اے این پی پیپلزپارٹی اورجمعیت علما اسلام سمیت بقایا اتحادی جماعتیں مسلم لیگ ن کی ہم خیال ہیں۔

کچھ سوال اب بھی تشنہ ہیں کہ وہ جو جس کام کے لئے پی ڈی ایم کا اتحاد بنا تھا جس میں سب سے اول عمران خان کو حکومت سے محروم کرنا اوراس کے لئے اسمبلی سے استعفوں اورسڑکوں پر احتجاج کا ہر راستہ اختیار کرنا شامل تھا یہ کام تو کیا ہوتا خود پی ڈی ایم کے اندر ہی توڑپھوڑ شروع ہوگئی۔

نظرآنے والی سیاست کے علاوہ آخراورایسا کیا تھا جس کی وجہ سے اس اتحاد میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوئیں اورحکومت کی بجائے ایک دوسرے کی دشمنی پراُترآئیں؟ پیپلزپارٹی کو کیا ضرورت پڑی کہ وہ پی ڈی ایم کی بجائے کسی حد تک “مشکوک” ذرائع سے اپنے امیدواریوسف رضا گیلانی کو سینٹ میں لیڈر آف اپوزیشن بنا بیٹھی؟

جمعیت علما اسلام کے علیل سربراہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں بچے کُچھے اتحاد پی ڈی ایم نے اتنی جلدی میں کیوں پیپلزپارٹی اوراے این پی کو نوٹس جاری کردیے اوردونوں جماعتوں نے فوری طور پر سخت ردعمل دینا شروع کیا؟ ایسا کیا تھا جس کی وجہ سے اے این پی کے لئے اس اتحاد سے نکلنا آسان ہوا؟ اوراگر پیپلزپارٹی اوراے این پی آئندہ دنوں میں ناں ہی اپوزیشن کا حصہ ہوتے ہیں اورناں ہی حکومت کا تو وہ کس بیانیے کے نام پر سیاست میں زندہ رہیں گے؟

یہ سب سوالات کچھ ایسے وقت میں زیرگردش ہیں کہ پیپلزپارٹی کے ایک سینئر رہنما نے حال ہی میں پی ڈی ایم کے ایک اور سینئر رہنما سے ملاقات کرکے انہیں معاملات کو سُدھارنے اوراتحاد کو قائم رکھنے کی کوشش کا کہا ہے تاکہ پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھرنے سے بچایا جاسکے۔

وطن عزیز میں سیاست کے طرز کو سمجھنے والے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جہاں مسلم لیگ ن اورمولانا صاحب کی جمعیت علما اسلام کہیں عمران خان اورکہیں اسٹیبلشمنٹ مخالفت میں “ڈو آر ڈاٗئی” پراڑی ہوئی ہیں تو ساتھ ہی پیپلزپارٹی دو کام کررہی ہے جس میں وہ عمران حکومت کے ہٹنے کی صورت میں کسی نئے خلا میں اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کررہی ہے اورساتھ ہی وہ پی ڈی ایم کے اپنے اتحادی مسلم لیگ ن کو بھی نئی صورتحال سے فائدہ اٹھانے سے روک رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعض حالیہ اقدامات خصوصا سینٹ الیکشن لڑنے پرڈٹ جانے کو اگر دیکھا جائے تو ان کا فائدہ پی ڈی ایم کو ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بعض اقدامات ان قوتوں کی بھی خدمت کا باعث نظرآتے رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لئے پی ڈی ایم بنا تھا۔

پیپلزپارٹی کی قیادت کہتی ہے کہ مرکز میں استعفے دے کر عمران خان کے لئے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہتے لیکن ساتھ ہی وہ پنجاب میں عثمان بزدار کو ہٹا کر محترمہ بے نظیر بھٹو کے اپنے قتل میں پیشگی نامزد کئے ہوئے چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی بنانے پر بھی راضی ہورہی ہے۔

پیپلزپارٹی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پی ڈی ایم سے بھی نہیں نکلنا چاہتی لیکن ساتھ ہی وہ مقتدر قوتوں کو یہ تاثر بھی دینا چاہتی ہے کہ اگر عمران خان کا کوئی متبادل چاہیئے تو اسے ہی موقع دیا جائے، یہ دوسری بات ہے کہ جو بھی متبادل ہوگا اس کے لئے پنجاب میں بھرپور قوت رکھنا لازمی شرط ہوگا اوریہی وہ وجہ ہے کہ بات نہ بننے کی بدولت سیاسی حکومت کے مخالفین کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پارہے۔ پیپلزپارٹی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے پنجاب میں قوت نہ رکھنے کا جوازبتایا جاچکا ہے تاہم اس کے روح رواں ہار ماننے کو تیار نہیں اورمختلف “کامیابیوں” سے خود کو ہی سب سے زیادہ اہل ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اے این پی کے اسلام آباد مارچ کے دوران جمعیت علما اسلام کی قیادت سے اس کے شکوے سب کو یاد ہیں اورخود پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کے مولانا فضل الرحمن کے بارے میں بیانات کو بھی لوگ بھولے نہیں ایسے میں اسی مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں پی ڈی ایم کی جانب سے اے این پی کو نوٹسز پر ایسا ردعمل کوئی بہت خلاف توقع بھی نہیں ہے۔تاہم ماضی کے علاوہ مستقبل کے بعض خدشات بھی اے این پی کے اس اتحاد سے نکلنے کی وجوہات کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جن میں خیبرپختونخوا کی مستقبل کی حکومت کا وجود بھی شامل ہے۔

اے این پی کو بعض اشاروں کی باتیں بھی زبان زد عام ہیں کہ پی ڈی ایم سے راہیں جدا کرنے پر اسے مستقبل میں کیا آسانیاں مل سکتی ہیں اوراگر اس نے اپنی رضامندی ظاہر کرنے کے لئے جلدی ہی کوئی اقدام نہ کیا تو پھر “دیر ہونے کی” ذمے دار بھی یہ خود ہی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply