صوبہ سیاست! ملتانی لیڈرشپ ناکام ہو گئی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تو جنوبی صوبہ کے سیکرٹریٹ کی کہانی بھی مذاق بن گئی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف نے سیکرٹریٹ کو متنازع تو اس وقت بنا دیا تھا جب سیکرٹریٹ کا قیام جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں کرنے کی بجائے اس کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بہاولپور اور ملتان میں بیٹھنے کا شاہی حکم وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی حکومت میں جاری ہوا تھا۔ مطلب سرائیکی دھرتی کے لوگوں کو لاہور کے چکروں سے فرصت ابھی ملی نہیں تھی کہ ملتان اور بہاولپور کے چکروں میں الجھا دیا گیا۔

اور دلچسپ بات ہے کہ لوگوں کو اس معاملے میں الجھانے والے کوئی دوسرے نہیں بلکہ ملتان کے سیاست دان تھے جو شاید عوام کے پیروں سے چکروں کے پھندے کو نکالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب صوبہ سیکرٹریٹ کی کہانی بھی ویسی ہی ہے جیسے وہ کہتے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔

ایک بار گورنر پنجاب چودھری سرور سے پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام بالخصوص جنوبی پنجاب صوبہ کے بارے میں سوال ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر سچ کہوں تو لوگ ناراض تو ہوں گے لیکن آپ کو پورا سچ بتا دیتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام میں رکاوٹ وہاں کے عوامی نمائندے ہیں۔ ان کے گھر اور کاروبار لاہور میں ہیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل لاہور میں ہے۔ یوں جب تک وہ نہیں چاہیں گے جنوبی پنجاب صوبہ وجود میں نہیں آئے گا۔

ہمارے خیال میں بھی گورنر چودھری سرور نے جو کہا تھا سچ ہی کہا تھا اور ایسا ہی ہے۔ یہاں کے عوامی نمائندے تسلسل کے ساتھ اس دھرتی کے لئے علیحدہ صوبہ کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ کون سی حکومت ہو گی جس میں یہاں کی قیادت کا مرکزی کردار نہ ہو لیکن جونہی صوبہ کے قیام کے معاملہ آتا ہے، یہ تتر بتر ہو جاتے ہیں۔

یوں ان کی بدلتی سیاسی چالوں اور اقتدار کی ہوس کی وجہ سے سرائیکی صوبے کا مقدمہ خراب ہوا۔ پیپلز پارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی کی معرفت سرائیکی عوام کو سرائیکی صوبہ کے نام کو چھوڑ کر جنوبی پنجاب کے نام پر راضی ہونے کا مشورہ دیا تھا، نتیجے میں جب سرائیکی صوبہ مخالف قوتوں کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہ تو اتنی بڑی سرائیکی صوبہ کی تحریک اور نام کو چھوڑ سکتے ہیں تو انہوں نے ہوشیاری سے جنوبی پنجاب صوبہ اور پھر سیکرٹریٹ جیسی کارروائی کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔

اور وہ بھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر، جنوبی پنجاب کی سیاسی قیادت جتنا اپنے موقف سے پیچھے ہٹتی گئی اور وہ سرائیکی صوبہ اور جنوبی پنجاب صوبہ کی تحریک کو لتارٹے گئے۔ اس کارروائی کا نتیجہ اب سب کے سامنے آ چکا ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے علم میں نہیں ہوتا اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا نوٹیفکیشن واپس ہو جاتا ہے ۔ مطلب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ اب سرائیکی صوبہ اور بہاول پور صوبوں کی تحریکوں کو یوں ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے آخری جھٹکا دیا گیا ہے ۔

ابھی وقتی طور پر نوٹیفکیشن بیشک واپس ہو گیا ہے لیکن اس بات کا امکان رد نہیں جا سکتا ہے کہ یہ واردات دوبارہ نہیں ہو گی۔ تخت لاہور کے حالیہ نوٹیفکیشن کی کارروائی سے اصل میں اس دھرتی کے عوام کی نبض چیک کر لی گئی ہے کہ سرائیکی صوبہ تحریک کو چھوڑ کر جنوبی پنجاب صوبہ اور پھر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اور وہ بھی ٹکڑوں تک قبول کرنے والوں میں کتنا دم خم ہے؟ یہاں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی اتنی آئینی اور قانونی حیثیت ہے کہ اس کو ایک سیکرٹری اٹھے اور چار سطروں سے گول کر کے ردی کی ٹوکری میں ڈال دے؟

ہمارے خیال میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ملتان کی سیاسی قیادت بھی اس دھرتی کے عوام کے ساتھ گپ کرنے میں شامل ہے۔ یہ مذاق ان کی منشا کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں ملتان نے بحیثیت سرائیکی دھرتی کے مرکزی شہر اپنی وہ ذمہ داری نہیں نبھائی ہے جو کہ اس سے توقع تھی۔ ملتان کی سیاسی لیڈر شپ سے عوام یوں مایوس ہوئی ہے کہ جو اپنی ذات کے لئے اقتدار کے حصول میں کبھی غافل نہیں ہوئی لیکن جونہی عوام کے لئے صوبہ حاصل کرنے کی باری آتی ہے تو رکاٹوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ازحد ضروری ہے کہ ملتان کی لیڈرشپ نے سرائیکی صوبہ سے پیچھے ہٹ کر جو جنوبی پنجاب صوبہ قبول کیا ہے۔ اس میں ان کو لاہور کی طرف سے بہاول پور دان کیا گیا ہے جو کہ بہاول پور کے عوام کی مرضی کے برخلاف یوں ہے کہ وہ اپنے صوبہ بحالی بہاول پور کی تحریک آج کی نہیں بلکہ جنرل یحییٰ خان کے ون یونٹ توڑنے کے بعد سے چلا رہے ہیں۔ بھٹو صاحب سمیت مختلف ادوار میں صوبہ کے مطالبہ سے ہٹانے کی کوشش کی گئی لیکن بہاولپوری نہیں مانے ، یوں ابھی تک وہ ملتان کے زیر اثر آنے پر تیار نہیں ہیں۔

ادھر ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں جس میں چار ضلعے ہیں، ان میں سے دو اضلاع کے بارے میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل ) کے سربراہ اخترمینگل صاحب نے قومی اسمبلی کے فلور پر انہی نئے صوبوں کے قیام کی بحث کے دوران کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور بلوچستان کا حصہ ہیں ، مطلب یہاں بھی متنازع صورتحال ہے۔ ادھر ڈیرہ غازی ڈویژن میں شامل دو اور اضلاع لیہ اور مظفرگڑھ تھل کے ضلعے ہیں۔ یہاں پر بھی عوام میں یہ بے چینی موجود ہے کہ تھل کی تقسیم کیوں کی جا رہی ہے؟

تھل تو پورا سرائیکی خطہ ہے۔ اس کو مکمل جنوبی پنجاب میں شامل کرنے کی بجائے اس کے دو اضلاع ملتان کے ساتھ اور باقی پانچ (خوشاب، میانوالی، بھکر، جھنگ، چینوٹ) مال مفت دل بے رحم کی پالیسی کے تحت لاہور کی جھولی میں ملتانی مخدوم کیوں ڈال رہے ہیں؟ ان کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ سرائیکی دھرتی کے ساتھ یوں کھلواڑ کریں کہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور بہاولپور جیسے متنازع علاقے قبول کر کے سرائیکی دھرتی کا دل لاہور کو دے رہے ہیں۔

ہمارے خیال میں یہ دنیا کی پہلی مثال ہو گی کہ ملتانی لیڈر شپ ایسے علاقے قبول کر رہی ہے جو کہ اس کے ساتھ شامل ہونے پر تیار نہیں ہیں جبکہ وہ علاقے (تھل) جن کے عوام سرائیکی صوبہ کی تحریک سے لے کر اس دھرتی کے حقوق کی جاری ہر جدوجہد کے لئے صف اول میں کھڑے چلے آرہے ہیں، ان کو تخت لاہور کے تابع کر رہی ہے۔

ادھر ہمارے خیال میں یہ بھی دنیا کی تاریخ کی پہلی مثال ہو گی کہ کوئی لیڈرشپ اپنے علاقوں پر حق جتلانے کی بجائے بن مانگے ان کا قبضہ چھوڑ کر خود ہی دوسرے کو دے کر اپنی فتح کا جشن منا رہی ہے؟ کوئی اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہ دیوار پہ لکھا سچ ہے کہ ملتان کی سیاسی لیڈرشپ سرائیکی دھرتی کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے ان قوتوں کے ساتھ کھڑی ہے جو کہ پنجاب میں سرائیکی صوبہ تو چھوڑیں جنوبی پنجاب صوبہ اور پھر سیکرٹریٹ کی کہانی بھی گول کرنے کے درپے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *