اندھا بہرا مسلمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اندھا بہرا مسلمان ایک تنقیدی فلسفہ ہے۔ جس کا بنیادی مقصد مسلمان کو جھنجوڑنا ہے۔ خواب غفلت سے بیدار کرتے ہوئے تعلیم اور جرأت تحقیق کی جانب راغب کرنا ہے۔ قرآن مجید کا حقیقی قاری بنانا ہے کہ وہ دین کے ماخذ قرآن کو سمجھ کر دین کی روح کے مطابق اپنے معاملات زندگی کرے۔ رکوع تحریک اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔

اندھا بہرا مسلمان کون ہے۔ یہ وہ مسلمان ہے۔ جس نے اسلام قبول کیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ کا کلمہ پڑھتا ہے۔ قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ قرآن کو مقدس کتاب سمجھتا ہے۔ قرآن سے عقیدت رکھتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا ہے کہ قرآن کہتا کیا ہے۔ قرآن میں اللہ کے کیا احکامات ہیں۔ کیوں کہ پاکستان کا باشندہ ہونے کی حیثیت سے وہ اردو یا اپنی مادری زبان پنجابی، سندھی، پشتو یا بلوچی سمیت دیگر زبانیں جانتا ہے۔

قرآن کی زبان عربی پڑھنا سیکھ تو لیتا ہے مگر عربی کا اردو یا اپنی زبان میں ترجمہ کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے وہ قرآن کے مضامین، قرآن کی تعلیم، قرآن کے فہم سے عاجز ہے۔ جب وہ قرآن کے مضامین سمجھنے سے قاصر ہے تو پھر اس کے پاس یہی راستہ باقی ہے کہ وہ قرآن کے تقدس پر توجہ دے۔ وہ اپنا یہ فرض مکمل دیانت داری سے ادا کر رہا ہے۔ وہ اپنے عقیدے کی آبیاری قرآن سے عقیدت اور تلاوت کر کے کر رہا ہے۔ جس سے نتائج یہ برآمد ہوئے ہیں کہ قرآن مجید محض ثواب کمانے کی کتاب کے طور پر پڑھی جا رہی ہے۔ علم و عرفان اور قوانین الٰہیہ جن کے بارے میں فکر و تدبر کرنے کا حکم ہے۔ وہ امر بہت پچھے رہ گیا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ جس امر سے منع کیا گیا ہے کہ قرآن کی آیات تعویز اور پھونک کر دینے کے لئے نہیں اتارا گیا ہے۔ اس پر زیادہ توجہ مرکوز ہے۔

اس کا صاف مطلب ہے کہ بطور مسلمان ہم نے قرآن کے حقیقی منہاج کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اپنا لیا ہے۔ جو فلاح اور کامیابی کی جانب نہیں جاتا ہے اور نہ ہی منزل مراد سے ہمکنار کرتا ہے۔ ہم راستہ بھٹک گئے ہیں۔ صحیح راستہ پر نہیں ہیں۔ حقیقت میں ہم منزل مراد کے منہاج کو دیکھ نہیں پا رہے ہیں۔ قرآن کی آواز کو سن نہیں رہے ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے احکامات، قوانین، حضرت محمد ﷺ کا پیغام خداوندی سننے اور سمجھنے میں ہماری خطائیں ہیں۔ رابطے، تعلق، وابستگی، پیارکی ڈوری، محبت کے قرینے خطاؤں کی زد میں ہیں۔ ہماری مطابقت (synchronize) نہیں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ Errors کیا ہیں۔ مندرجہ بالا سطور میں یہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ خطا (Error) کیا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر نہ پڑھنا یعنی ترجمہ کے ساتھ  قرآن کو نہ پڑھنا ہی خطا ہے۔

ترجمہ کے ساتھ قرآن کو پڑھنے سے ہی قرآن کی سمجھ آئے گی اور خطا دور ہو گی۔ ہم یہ خطائیں دور کر سکتے ہیں۔ خطائیں دور کر کے بندہ اور اللہ کے درمیان مطابقت (synchronization) پیدا ہو سکتی ہے۔ جس سے اللہ اور بندے کا براہ راست تعلق پیدا ہو گا اور اللہ بندے پر راضی ہو جائے گا اور رسول کریمﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی۔ ہر مسلمان کی منزل مراد یہی ہے۔ ہر مسلمان یہ چاہتا ہے۔ کوشش کرتا ہے۔ عبادات کرتا ہے کہ اللہ اس پر راضی ہو جائے اور رسول پاکﷺ کی شفاعت حاصل ہو جائے۔

ہمیں قرآن جو دین کا مآخذ ہے کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ پاک سرزمین پر ہم مسلمان قرآن کو اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھ کر ہی سمجھ سکتے ہیں اور قوانین الٰہیہ سے بہرا مند ہو سکتے ہیں۔ ہمیں علم و عرفان حاصل ہو سکتا ہے۔ جو کامیابی اور فلاح کی ضمانت ہے۔ ہم جو مشکلات کا شکار ہیں۔ پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ ابتلاء میں ہیں۔ دکھ درد اور تکالیف میں ہیں۔ اقوام عالم میں رسوا ہوتے ہیں۔ دہشت گردی، فساد اور بدیانتی کے الزامات کی زد سے نکل سکتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کا منہاج ہے۔ ہم نے قرآن کو سمجھ کر اقوام عالم اور اغیار پر یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم اہل علم، اہل فکر اور فہم و فراست اور تدبر رکھنے والے مسلمان ہیں اور ہمارا ماضی شاندار ہے۔

امت مسلمہ میں اور بالخصوص مسلمانان پاکستان میں کوئی اندھا بہرا مسلمان نہیں ہے کیوں کہ ہمارے پاس قرآن ہے۔ جس سے ہم غور فکر اور تدبر سے علم و عرفان حاصل کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *