عمران خان کے ’استعمال شدہ‘ افراد کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے تب کرکٹ کا سٹار تھا ماجد خان۔ عمران خان نے سب سے پہلے کزن کو نکال باہر کیا۔ ہارون الرشید وہ صحافی ہیں جنہوں نے بارہ سال خان خان کا راگ الاپا۔ ان کے کالم اٹھا کر دیکھیں ، لفاظی کی ملمع کاری میں خان نے یہ کہا، عارف نے یہ کہا،  ہی ہوا کرتا تھا۔ عمران خان کو عروج تک پہنچانے میں کردار ادا کرنے والے دس آدمی اٹھائیں ، بزرگ صحافی پہلے تین چار افراد میں آئیں گے مگر خان جب وزیراعظم بنے ، تقریب حلف برداری کے لیے اسی ہارون الرشید کو دعوت تک نہیں دی۔

نعیم الحق ایک اور نام جس نے ہر سرد و گرم میں عمران خان کا ساتھ دیا مگر جب وہ بیمار ہوئے تو ان کی رہائش گاہ پہ قبضے کے لیے انہیں دھوکے سے نکالا گیا۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب خان خود وزیراعظم تھے۔ جنازے میں شریک نہ ہو کر خان نے ایک دنیا کو حیران کیا۔ جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین پارٹی کا سب سے معزز چہرہ تھے مگر خان نے ان کو بھی بے آبرو کر کے نکالا، زیادہ دور کیا جانا اپنے قریبی رشتہ دار اپنے سگے بہنوئی کے ساتھ جو انہوں نے کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

تحریک انصاف کے بانی ممبر اکبر ایس بابر کو ایمان داری کی پاداش میں نکالا ، معروف قانون دان اور بانی ممبر حامد خان کی اصولی اختلاف پہ رکنیت معطل کی۔ ڈی جے بٹ بظاہر ایک غیر معروف و غیر متعلقہ شخص نظر آئے گا مگر یہ وہی شخص ہے جس کی دھنوں کی بدولت خان کے جلسے نوجوانوں کے لیے پرکشش تفریح کا درجہ حاصل کر گئے۔ ڈی جے بٹ کے بجائے گانے نوجوانوں میں جوش بھرنے کا کام کرتے رہے مگر ایک وقت آیا جب خان کا نام لے کر نوجوانوں کو جذباتی کرنے والا ڈی جے بٹ جذبات کی رو میں بچوں کا حق کھائے جانے کی دہائیاں دیتا نظر آیا۔

جمائما خان ایک ایسی خاتون جس نے اپنا تن من دھن کہنے کو ہی نہیں بلکہ سچ میں تیاگ دیا ۔ خان نے اپنے ”عظیم مقصد“ کے لیے اسے بھی قربان کر دیا۔ ریحام خان ، ناز بلوچ،  عاشہ گلالئی کو اس فہرست میں شامل نہ بھی کریں تو خان کی زندگی ایسے افراد سے بھری پڑی ہے ، جنہیں خان نے استعمال کیا اور پھینک دیا۔ چینی چوروں کے متعلق لیک ہونے والی رپورٹس کے بعد جہانگیر ترین اور عمران خان کا تعلق زیربحث رہا۔ خاموشی کے بعد اب پھر خان صاحب ترین کو سزا دلوانے کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ جہانگیر ترین ہی تھا جس نے خان کو دل کھول کر پیسہ دیا تاکہ وہ کھل کر سیاست کر سکیں۔ خان کا اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر ترین نے الیکشن سے قبل ڈھونڈ ڈھانڈ کر الیکٹیبلز اور الیکشن کے بعد آزاد منتخب ارکان کو پارٹی کا حصہ بنایا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب آسمان پہ اڑتے جہاز کو دیکھ کر انصافی نعرہ لگاتے کہ وہ ترین ایک اور ممبر اسمبلی کو بنی گالہ لے کر جا رہا ہے۔ آج وہی ترین شدید ترین تنقید کی زد میں ہے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ خان کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہو چکا ہے اور جہانگیر ترین بھی جانتے ہیں کہ خان نے انہیں استعمال کرنے کے بعد ڈمپ کر دیا ہے مگر وہ ایک کاروباری آدمی ہیں، وہ یہاں سیاسی نہیں کاروباری بن کر فیصلے لیں گے۔

اس کا آغاز انہوں نے اپنے گروپ کے درجنوں ممبران صوبائی و قومی اسمبلی کو اپنی رہائش گاہ پہ اکٹھا کر کے کر دیا ہے۔ اب وہ ان ممبران کا سودا کرنے کی کوشش کریں گے اور یقیناً معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جانے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔ لیکن یہاں سوچنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

پاکستان کی مروجہ سیاست استعمال کرنے یا کیے جانے کا ہی دوسرا نام ہے اور عمران خان یہ کام بخوبی جانتے ہیں۔ عمران خان کے استعمال شدہ افراد کی ایک لمبی فہرست دیکھنے کے بعد کیا عمران کے ناقدین اب بھی اسے نو آموز سیاست دان کہیں گے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments