کورونا وائرس نے انسانی رویوں کو کیسے بدلا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


‏‎کورونا وائرس کی وبا نے زندگی کے ہر شعبے اور رویے کو متاثر کیا ہے۔ کورونا وائرس نے جہاں نظام زندگی مفلوج کیا ہے وہیں اس وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال نے انسانی ذہن پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں، کورونا کی وجہ سے لوگوں کا رہن سہن سب کچھ تبدیل ہو کر رہ گیا۔ خاص کر یورپ میں لوگ پانچ دن کام کاج اور دو دن تفریخ، ریسٹورانٹ، کلب، پارٹیاں اور کیفوں میں دوستوں سے ملتے اور انجوائے کرتے تھے۔ اب ریسٹورانٹ، کیفے، سینما، تھیٹر اور کھیلوں کے میدان بند ہونے کی وجہ سے تفریح کے وہ مواقع ختم ہو گئے ہیں۔

شادی کی تقریبات جن میں پہلے دوست احباب اور خاندان کے لوگ شرکت کرتے تھے، اب کورونا وبا کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے غمی اور خوشی میں بھی شریک نہیں ہو سکتے۔ کھیلوں کے میدان ویران ہو گئے ہیں،  اس وجہ سے بچوں اور نوجوانوں کی کھیلوں کی سرگرمیاں بھی وبا کی نذر ہو چکی ہیں۔ چھوٹے بچے گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں ، نہ کہیں سیر و تفریح کے لئے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کھیلنے کودنے باہر نکل سکتے ہیں۔ سوشل لائف اور تفریخ کے مواقع ختم ہو کر رہ گئے۔

وہ دوستیاں اور تعلقات جن کی بنیاد میل جول اور مشترکہ سرگرمیاں، جیسا کہ کسی ایک ساتھ کھیلنا، سکول کی دوستیاں وہ کورونا میں میل جول نہ رکھنے کی وجہ کمزور پڑ گئی ہیں۔ ایک طرف کورونا وائرس نے رہن سہن، اٹھنے بیٹھنے لوگوں سے ملنے کے سارے اطوار بدل ڈالے، تو دوسری طرف برسوں سے چلے آنے والے رواجوں کو بھی روند ڈالا ہے۔ اس وبا نے معاشرتی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی۔ لاک ڈاؤن میں تنہائی کی وجہ سے لوگوں کے نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

لاک ڈاؤن، قرنطینہ اور سماجی دوری کے اقدامات نے ذہنی دباؤ کو بڑھا کر لوگوں میں ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی جیسے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے یورپ بھر میں ڈپریشن کا شکار افراد کی وجہ سے گھریلو جھگڑوں، تشدد اور طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے۔ نوجوانوں میں بھی لڑائی ، تشدد اور نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد گھریلو تشدد اور جھگڑوں کی شکایات میں ہوشربا اضافہ ہوا۔

‏‎معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہو رہا ہے مگر یہ صورتحال خواتین کے لیے خاص طور پر شدید ذہنی تناؤ اور نفسیاتی دباؤ کی وجہ بن چکی ہے۔ فرانس میں کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران خواتین کی مشکلات میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گھریلو تشدد کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ کرسٹوف کاسٹنر نے گھریلو تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی یورپ میں گھریلو تشدد کی سب سے زیادہ شرح فرانس میں ہے ، اب لاک ڈاؤن کے دوران بھی پولیس گھریلو جھگڑوں کی شکایات پر دوڑتی رہتی ہے۔

طلاق کے لئے درخواستیں دینے والے مرد و خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، ایک اندازے کے مطابق تقریباً 300 فیصد طلاق کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے۔ کورونا وبا نے لوگوں کی طرز زندگی اور رہن سہن تبدیل کر کے رکھ دیا۔ کورونا وائرس تھیٹر، میوزک اور سینما انڈسٹری کے لئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ لوگوں کے لئے تھیٹر، میوزک اور سینما کی تفریح ختم ہو کر رہ گئی۔ چھٹیوں میں جو لوگ تفریح کے لئے مختلف سیاحتی مقامات کا رخ کرتے تھے ، وہ اب کورونا کی وجہ سے تفریحی مقامات کا رخ نہیں کر پا رہے ہیں۔

کورونا نے ہمارے رہن سہن، کھانے پینے، سیرو تفریح، سماجی تعلقات حتیٰ کہ سوچنے کا انداز بھی بدل دیا ہے۔ ایسی صورتحال جس میں بچاؤ صرف سیلف آئسولیشن یا خود ساختہ تنہائی ہے جو کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں کورونا بارے ڈر بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے 40 فیصد سے زائد افراد بے چینی اور ڈپریشن جیسی عمومی ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ٹی وی، واٹس ایپ، فیس بک، ٹویٹر پر ہر جگہ صرف کورونا کی بات ہو رہی جس کی وجہ سے خوف پھیل رہا ہے ، لوگ اضطراب کا شکار ہیں۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق ذہنی مسائل کا شکار ہونے والے افراد کو طبی امداد ہی نہیں مل پا رہی جنہیں اس کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے ہی لاک ڈاؤن کے بعد ذہنی بیماریوں کا سونامی آنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق لاک ڈاؤن اور کورونا کے بعد لوگوں کے نفسیاتی بیماریوں کو معمول پر لانا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *