اینڈوکرائن کلینک میں اقوال زریں اور شگوفے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے نارمن ہسپتال میں آج سے کوئی دس سال پہلے کام کرنا شروع کیا تھا۔ ان دس برسوں میں ہزاروں بھانت بھانت کے مریض دیکھے۔ ایک ڈاکٹر اور مریض کے تعلق کے لحاظ سے میں ان کو اینڈوکرائن بیماریوں کے لیے مشورہ دیتی ہوں اور وہ اس کے لیے فیس دیتے ہیں۔ لیکن فیس کے علاوہ بھی مجھے پچھلے دس سال میں مریضوں نے بہت سارے تحفے دیے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں۔ تھینک یو اور کرسمس کارڈز، ایک انجیر کا درخت، ایک کروشیے کا بنا ہوا بک مارک، کریلے، بھنڈی اور کالرڈ کے بیج، اپنی لکھی ہوئی کتابیں، باغبانی کے میگزین، ہاتھ سے بنی ہوئی جیولری، گھر میں پکائے ہوئے سنامن بن اور دیسی مٹھائی۔

جی دیسی مٹھائی۔ اوکلاہوما کی ایک نئی مریضہ نے یوٹیوب پر انڈین کھانوں کی وڈیوز دیکھ کر خود مٹھائی بنائی اور ہمارے لیے لائیں۔ اس کو دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گئی تھی۔ مٹھائی کون بناتا ہے؟ وہ تو بنی بنائی ملتی ہے۔ ان چیزوں کے علاوہ مریضوں نے ان دس سال میں بہت ساری سوچنے کی باتیں بھی بتائیں اور کچھ لطیفے بھی۔ ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔

پچھلے ہفتے ایک نئے مریض ہمارے کلینک میں آئے۔ جب میں نے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا تو ان کو پہچان لیا کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی بیگم کے ساتھ آتے ہیں جن کو ذیابیطس ہے۔ پچھلے ہفتے اپنے لیے آئے تھے کیونکہ ان کے حالیہ خون کے ٹیسٹ تھائیرائڈ کی بیماری ظاہر کر رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا آج آپ اپنی بیگم کو گھر چھوڑ کر آئے ہیں؟ انہوں نے اپنے بازو دونوں طرف پھیلائے اور بولے کہ ہاں اتنی بڑی رسی کی ضرورت پڑی لیکن ان کو اچھی طرح سے باندھ کر آیا ہوں۔

ہسٹری اور فزیکل کے دوران وہ پوچھنے لگے کہ ٹی بی (Tuberculosis) کا ٹیسٹ کیسے کرتے ہیں؟ میں نے ان کو بتانے کی کوشش کی کہ ٹیوبرکیولن (Tuberculin) کا جلد کے اندر (Intradermal) انجکشن لگاتے ہیں پھر دو دن بعد معائنہ کرتے ہیں کہ کتنی سوجن (Induration) ہوئی؟ ان کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ کچھ نہیں سمجھے۔ چلیے آپ کو یوٹیوب میں دکھاتی ہوں۔ میں نے کمپیوٹر آن کیا اور یوٹیوب کے سرچ انجن میں ٹیوبرکیولن ٹیسٹ لکھا۔ اس دن کمپیوٹر کچھ آہستہ تھے۔ اس میں ایک دائرہ گھوم رہا تھا جس کو ہم دونوں کوئی تیس سیکنڈ تک دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ایسے کرتے ہیں ٹی بی کا ٹیسٹ؟ ایک اندھیرے کمرے میں گول گول گھوم کر۔ یہ سن کر میں بہت ہنسی اور ان سے کہا کہ آپ ہمیشہ خاموش ہوتے ہیں۔ مجھے آج پتا چلا کہ آپ اتنے مزاحیہ ہیں۔

٭٭٭
ایک ذیابیطس کی مریضہ سے :کیا آپ روز خون میں شوگر چیک کرتی ہیں؟
ہاں!
آپ کا گلوکومیٹر کہاں ہے؟
وہ میرے کتے نے چبا لیا!
٭٭٭

ایک نئے مریض مائیکل گراف نے کہا کہ میں آپ کو پہلے سے جانتا ہوں ، اس لیے آپ کے جواب بھی مجھے معلوم ہیں لیکن میں اپنے تمام نئے ڈاکٹرز سے یہ تین سوال پوچھتا ہوں۔

1۔ کیا آپ کے اعتقاد کے مطابق ڈاکٹروں، فارماسسٹ اور دیگر صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مریضوں کو انہی چیزوں کا مشورہ دینا چاہیے جو آپ کے مذہب کے مطابق ہوں؟

2۔ کیا آپ اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج درست ہیں، ان میں بڑے پیمانے پر کوئی دھاندلی نہیں ہوئی اور جو بائیڈن امریکہ کے حقیقی چنے ہوئے صدر ہیں؟

3۔ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کیوانان کی طرح کا خفیہ ہاتھ ملانے کا طریقہ بتائیں تو کیا آپ بتا سکیں گی؟

میں نے پوچھا کہ ان سوالات کے جوابات سے آپ کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان جوابات سے مجھے یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ یہ ڈاکٹر قابل بھروسا ہیں یا نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر یہی سوالات کوئی ٹرمپ سپورٹر مریض مجھ سے پوچھیں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ ان کو سچائی سے جواب دیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ سچائی سے جواب ملنے کے بعد وہ بھڑک جائیں۔ اس لیے اچھا ہی ہے کہ بیماری کے بارے میں بات کرنے کے بعد اتنا وقت ہی نہیں بچتا کہ اور بات چیت کی جائے۔

ان تین سوالوں کے میرے جواب یہ ہیں۔

1۔ ڈاکٹروں، فارماسسٹ اور دیگر صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مریضوں کو انہی چیزوں کا مشورہ دینا چاہیے جو میڈیکل سائنس کے مطابق مریض کی صحت، فلاح اور بہبود کے لیے بہتر ہوں۔ ان ہدایات کو مریض کے اعتقادات کی بنیاد پر تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے اپنے مذہب یا لامذہبی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

2۔ 2020 کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نہیں ہوئی اور جو بائیڈن امریکہ کے چنے ہوئے صدر ہیں۔ میں نے برنی سینڈرز کو پرائمری میں ووٹ ڈالا تھا اور ان کو صدر بننا چاہیے تھا لیکن جو بھی اکثریت چن لے، ایک جمہوریت کے اندر ہمیں اس کو ہی قبول کرنا چاہیے۔

3۔ کیوانان کا خفیہ ہینڈ شیک تو معلوم نہیں لیکن کیا پتا کسی برے دن کام آ جائے۔ اگر یہاں کسی کو معلوم ہو تو مجھے بھی بتا دیں۔

٭٭٭

ایک بوڑھی خاتون آئیں۔ اس دن ان کی اکیاسیویں سالگرہ تھی۔ میں نے ان کو سالگرہ مبارک کہا اور ان سے پوچھا کہ اکیاسی برس کی ہو جانے کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرا جسم ایک مندر ہے جو پرانا اور بوڑھا ہو چکا ہے لیکن اس کے اندر میں اب بھی ایک نوجوان لڑکی ہوں۔ مرنے کے بعد مجھے ایک اور زندگی ملے گی جس میں میں اس مندر سے نکل کر چلی جاؤں گی۔ ان کی بات سن کر میں نے سوچا کہ بڑھاپا، بیماری یا موت ہی اتنے مشکل اور بڑے سوال ہیں جن کی وجہ سے انسانوں نے موت کے بعد بھی چلتی رہنے والی زندگی کے لیے تخیلات تخلیق کیے۔

٭٭٭
ایک مریض نے پوچھا کہ نوح نے مچھلیاں کیوں نہیں پکڑیں؟
جی کیوں؟
کیونکہ ان کے پاس دو ہی کیچوے تھے۔ ہاہا

یہاں یہ لطیفہ ختم ہو جانا چاہیے لیکن سوچیں کہ کیچوے دو رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ تو ہرمافروڈائٹ (Hermaphrodite) ہوتے ہیں۔ یعنی ایک ہی کیچوے کے اندر مادہ اور نر حصے ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر وہ خود ہی ضرب ہو سکتے ہیں۔ نوح نے یقیناً دو کیچوے اس لیے رکھے کیونکہ کیچوے انتہائی اہم ہیں۔ اگر تمام دنیا سے کیچوے ختم ہو جائیں تو محض پچاس سال میں زیادہ تر زندگی دنیا سے ختم ہو جائے گی۔ لیکن اگر تمام انسان دنیا سے ختم ہو جائیں تو پچاس سال میں زمین اور اس پر موجود تمام حیاتیات پھلیں پھولیں گی۔

٭٭٭

ایک صاحب نے کہا کہ میرے دائیں کان سے کچھ سنائی نہیں دیتا اور اس میں تکلیف رہتی ہے۔ جب میرے کان کی تکلیف کچھ کم نہیں ہوئی تو میرے ڈاکٹر نے سر کے ایم آر آئی کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے آپ کے دماغ میں ٹیومر ہو۔ ایم آر آئی کروانے کے بعد میں اپنے ڈاکٹر کو دیکھنے گیا کہ وہ اس کے نتائج مجھے بتائیں۔ ڈاکٹر نے توجہ سے رپورٹ اور فلمیں دیکھیں اور کہا کہ اس میں کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد ان صاحب نے کہا کہ اپنی ساری زندگی میں مجھے آج یہ بات معلوم ہوئی کہ میرا سر مکمل طور خالی ہے۔

٭٭٭
آپ کیسی ہیں؟ میں نے ایک بوڑھی مریض سے پوچھا۔
اس عمر میں ہم کہیں بھی دکھائی دے جائیں تو اچھے ہی ہیں۔
٭٭٭

One diabetic patient with foot ulcers said، I like my toes، I am attached to them! I am not afraid of dying، just don ’t want to die one toe at a time۔

٭٭٭

عمر رسیدہ افراد جب گھر سے نکلتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ ایک مشن پر ہیں۔ وہ اپنا وقت ختم ہو جانے سے پہلے سب کو وہ ساری باتیں سمجھا دینا چاہتے ہیں جو انہوں نے خود اپنی طویل زندگی میں سیکھی ہوتی ہیں۔ میں خود بھی وہی بنتی جا رہی ہوں۔ اس مضمون کا اختتام ایک مختصر سبق پر ہے جو ہمارے ایک مریض نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو زندگی میں تین چیزوں کی ضرورت ہے۔

1- Someone to love.
2- Something to do. And
3- Something to look forward to!

(اس مضمون میں جن مریضوں کا ذکر ہوا، ان سے اجازت لی گئی ہے۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *