نیویارک میں کورونا ویکسین لگوانے کے بعد ہم پہ کیا گزری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رواں ہفتے ہم نے ریاست نیویارک کی جانب سے نیویارک سٹی کے یارک کالج میں قائم کیے گئے ”میگا کورونا ویکسی نیشن سنٹر“ سے کووڈ۔ 19 سے بچاؤ کی دوسری خوراک لگوا لی ہے۔ جو فائیزر کمپنی کی تیار کردہ ہے۔ ویکسین کے ری ایکشن یا سائیڈ افیکٹس کے حوالے سے تین ہفتے قبل لگوائی جانے والی پہلی ڈوز سے تو کچھ بھی محسوس نہیں ہوا تھا تاہم دوسری ڈوز نے ہمارے خوب ”کڑاکے“ نکالے ہیں۔ جس کا ذکر مضمون کے آخر میں ہو گا۔

دونوں بار ویکسین لگوانے کا تجربہ خاصا خوش گوار رہا۔ مقامی فارمیسوں ”وال گرین“ اور ”رائٹ ایڈ“ سے ویکسین لگوانے کے علاوہ نیویارک سٹیٹ نے لوگوں کی سہولت کے لیے بڑے بڑے ویکسی نیشن سنٹر بنائے ہیں۔ جن میں سے سٹی یونیورسٹی آف نیویارک کے ”یارک کالج“ میں بنایا جانے والا میگا ویکسین سنٹر ریاست نیویارک میں سب سے بڑا سنٹر ہے ، جہاں روزانہ تین ہزار سے زائد لوگوں کو ہفتے کے ساتوں دن ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

اس سنٹر کے علاوہ نیویارک سٹی میں ”مڈگر ایور“ کالج بروکلین، سٹی فیلڈ کوئینز اور جیویٹس سنٹر مین ہیٹن ویکسی نیشن کے بڑے مراکز ہیں۔ مجھے بھی لبیرٹی ایونیو پر واقع یارک کالج کے سنٹر سے ویکسین لگوانے کی اپوئنٹمنٹ ملی تھی۔

آج کل پری ویکسین رجسٹریشن میں رش ہونے کی وجہ سے نیویارک کے لوگوں کو ویکسین کی اپوئنٹمنٹ بنوانے میں خاصی دقت پیش آ رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ”ایم آئی ایلجی بل“ نامی ویب سائٹ ڈیزائن کی گئی ہے۔ جس پر رجسٹریشن کروانے کے بعد آن لائن اپوئنٹمنٹ بنوانے میں خاصا وقت صرف ہو جاتا ہے۔ اکثر اوقات گھر کے نزدیک ترین سنٹر پر جگہ ملنے کی بجائے شہر سے خاصی باہر اپوئنٹمنٹ ملتی ہے۔

ہم مقررہ تاریخ پر یارک کالج سنٹر پر پہنچے تو استقبالیہ پر چمکتی دمتکی وردیاں زیب تن کیے امریکی فوجی بھائیوں نے پرتپاک استقبال کیا۔ وردیوں پر اہلکاروں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ”یو۔ ایس نیوی“ کندہ تھا۔

نیویارک میں قائم میگا ویکسی نیشن سنٹروں کا انتظام و انصرام نیویارک سٹی و سٹیٹ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ فیڈرل اداروں جیسے امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ذیلی ادارے ”فیڈرل ایمرجینسی مینجمنٹ ایجنسی“ (فیما) اور امریکی محکمہ دفاع نے مل کر کیا ہے۔

یارک کالج کے وسیع و عریض جمنازیم میں بنائے گئے اس سنٹر کے انتظامات نہایت عمدگی سے کیے گئے ہیں۔ لوگ ایک ترتیب سے اندر داخل ہو کر اپنے ساتھ لائے گئے پرنٹ اپوئنٹمنٹ لیٹر یا فون پر اپنے اپوئنٹمنٹ بار کوڈ کو سکین کروا کر آگے بڑھ جاتے۔ اگلے ٹیبلز پر موجود آرمی اہلکار شناخت کرتے اور بغیر کسی رکاوٹ یا رش پیدا کیے اندر ہال میں داخل ہونے کا اشارہ کر دیتے۔ جگہ جگہ آویزاں کیے گئے سائن بورڈز اور چوق و چوبند کھڑے اہلکار ویکسین کے لیے آنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے خوش دلی سے سہولیات مہیا کر رہے تھے۔

مختلف راہداریوں سے گزرتے ہوئے ہال ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے تو ہال کے دو جانب ”آئی“ شکل میں چھ چھ بڑے بوتھ بنے ہوئے تھے۔ ہر بوتھ میں چار چار ٹیبلز اور ہر ٹیبل کے ساتھ فاصلہ چھوڑ کر دو کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ جن پر اپنی باری پر داخل ہونے والوں کو ڈبل چیک کرنے کے بعد ویکسین لگائی جا رہی تھی۔ اس طرح بیک وقت پچاس کے قریب لوگوں کو ان بارہ بوتھوں میں ویکسین کی سہولت مہیا کی گئی تھی۔

ویکسین لگانے کے بعد لوگوں کو ہال کے درمیان چھ چھ فٹ کے فاصلے پر لگی کرسیوں پر پندرہ منٹ کے لئے بٹھایا جاتا تاکہ ویکسی نیشن سے پیدا ہونے والے کسی فوری ری ایکشن سے نمٹا جا سکے۔ اس دوران وقفے وقفے سے ہیلتھ ورکرز لوگوں سے معلوم کر رہے تھے کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

اس ویکسی نیشن سنٹر کے اعلیٰ انتظامات دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ ہمیں آج دوسری ڈوز لگنی تھی۔ اور تین ہفتے پہلے لگنے والی پہلی ڈوز کی نسبت موسم آج کافی خوشگوار تھا۔ ویکسین لگانے والے نیوی کے اہلکار نے آج پینٹ کے اوپر اپنے محکمے کی ہاف بازوؤں والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ جس سے اس کے دائیں بازو کے اوپر کی جانب بنے ”ٹیٹو“ کا کچھ حصہ واضح طور پر اپنی جھلک دکھلا رہا تھا۔

ویکسین لگانے والے یو ایس نیوی اہلکار کی پینٹ کی پاکٹ پر اس کا لکھا نام ”ہرٹ مان“ بخوبی پڑھا جا سکتا تھا۔ ہرٹ مان کا رویہ انتہائی دوستانہ اور پروفیشنل تھا۔ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہلکی پھلکی گفتگو کے دوران ہرٹمان سے پوچھا کہ اس سنٹر میں روزانہ کتنے لوگوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے؟ اس نے خندہ پیشانی کے ساتھ جواب دیا کہ ہم روزانہ تین ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اس نے ہم سے پوچھا کہ ”کون سے بازو پر ویکسین کی دوسری خوراک لگوانا پسند کریں گے؟“ اس پر ہم نے کہا کہ ”پہلی خوراک بائیں بازو لگی تھی۔ اور کوئی درد نہیں ہوا تھا۔ آج دوسری ڈوز دائیں بازو پر لگوا کر دیکھتے ہیں کہ درد ہوتا ہے کہ نہیں“ ۔ جس پر ہرٹ مان ماسک کے اندر سے مسکراتا ہوا نظر آیا۔ جس کو اس کی چمکتی آنکھوں سے واضح طور پر پڑھا جا سکتا تھا۔

وہ سوئی چبھونے لگا تو میں نے اس موقع کی تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔ تو چہرے پر شگفتگی سجائے ہرٹ مان نے کہا کہ ”ضرور۔ تاہم خیال رہے کہ اس کا اپنا چہرہ اگر تصویر میں نہ آئے تو وہ ممنون ہو گا“ ۔ لہٰذا ہرٹ مان کے چھپے چہرے کے ساتھ تصویر بنائی گئی۔

ویکسین لگنے کے اس عمل کے بعد اب پندرہ منٹ ہال میں بیٹھ کر گزارنے تھے۔ یہ وقت ہم نے گرد و پیش کا مشاہدہ کرنے میں گزارا۔ ہال میں عملے کے اراکین سمیت اڑھائی تین سو لوگ ایک وقت میں موجود تھے۔ تاہم اس دوران نہ کوئی شور، نہ کسی قسم کی دھکم پیل تھی۔

کووڈ۔ 19 کے ایس او پیز کی مکمل پاسداری کے ساتھ کس شاندار ترتیب اور ایک مربوط سسٹم کے تحت یہ سارا عمل انجام پذیر ہو رہا تھا۔ یہ خوبصورت انصرام دیکھ کر بے اختیار منہ سے یہ الفاظ نکلے۔ ”سسٹم زندہ باد“ ۔

بعد از ویکسین ری ایکشن کے حوالے سے مجھے ذاتی طور پر تو تین ہفتے قبل فائزر کمپنی کی بنی پہلی ڈوز لگنے کے بعد تو کچھ بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔ سب کچھ نارمل رہا تھا۔ تاہم دوسری خوراک لگنے کے بعد اس کا واضح ری ایکشن دیکھنے کو ملا۔ دوسری ڈوز لگنے کے ایک دن بعد سردی لگنی اور جسم درد کرنا شروع ہو گیا۔ بازو میں اکڑن اور شدید درد محسوس ہوتا رہا۔ جو بدستور بڑھتا چلا گیا۔ البتہ بخار نہیں ہوا۔ تین دن اسی کیفیت میں گزرے۔

اس دوران ہم نے دو تین بار درد کم کرنے والی دوائی ”ایڈول“ کی گولیاں لے لیں۔ جس سے جسم درد میں وقتی طور پر تھوڑی کمی محسوس ہوتی۔ تاہم اس کے باوجود یہ کیفیت اگلے دو سے تین دن تک مسلسل رہی۔ پھر تیسرے دن جا کر طبیعت نارمل ہونا شروع ہوئی۔ جو اب اللہ کے فضل سے سو فیصد بہتر ہے۔ ہر کسی کو اس کی باڈی کے حساب سے اس کو سائیڈ ایفیکٹس کی علامات الگ الگ ہو سکتی ہیں۔ اور ضروری بھی نہیں کہ ہر ایک کو ایسی علامات محسوس ہوں۔

فائزر کمپنی کی جانب سے ری ایکشن یا سائیڈ افیکٹس میں بازو میں درد، سرخی مائل، اور سوزش ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر عمومی علامات میں تھکاوٹ، سردرد، پٹھوں کا درد، بخار سردی لگنا یا متلی وغیرہ ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات ویکسین لگنے کے ایک دو دن کے بعد ہو سکتی ہیں۔

ریاست نیویارک کے محکمہ صحت کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر 9 اپریل تک پوسٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکہتر لاکھ ترانوے ہزار پانچ سو پچانوے نیویارکرز کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جا چکی ہے۔ جو اس کی آبادی کا 36 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ چھیالیس لاکھ دس ہزار چار سو باون افراد کو دوسری خوراک لگائی جا چکی ہے، جو کل آبادی کا 23.1 فیصد ہے۔

جبکہ دوسری جانب امریکی محکمہ سی ڈی سی کے 9 اپریل تک مہیا کردہ ڈیٹا کے مطابق اب تک 179 ملین امریکی شہریوں کو ویکسین لگائی گئی ہے۔ اب تک کل رپورٹ ہونے والے کورونا کیسوں کی تعداد تین کروڑ آٹھ لاکھ چودہ ہزار نو سو پچپن۔ جبکہ کورونا سے امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تک پانچ لاکھ ستاون ہزار ترانوے تک پہنچ چکی ہے۔

ایک بات عالمی سطح پر اب طے ہو چکی ہے کہ کورونا کی ویکسین لگوائے بغیر اب کوئی چارہ نہیں ہے، لہٰذا ویکسین لگواؤ اور جان بچاؤ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *