خواتین کی خودکشیاں

گزشتہ دنوں شادمان ٹاؤن کراچی میں ایک خاتون نے خودکشی کی اور خودکشی کرنے سے قبل اپنی دوست کو آڈیو ریکارڈنگ بھیجی جس میں کہا کہ محلے کے لڑکوں نے اس کے جعلی نکاح کی ویڈیو بنائی ہے ، اس کے بعد اب اسے بلیک میل کر رہے ہیں اور وہ اپنی عزت کے خاطر چپ رہی کہ بچے جوان ہیں ، میرے بارے میں کیا سوچیں گے اور یہ لڑکے اسے ہراساں کر رہے ہیں، ملنے کا کہتے ہیں اور اب وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے جا رہی ہے اور پھر اس نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کی اور ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے اسے زور و شور سے اٹھایا۔ اب گرفتاریاں ہوں گی ، چند ماہ کی جیلیں ہو گی اور ضمانتیں ہو جائیں گی مگر کسی انسان کی زندگی تو ختم ہو گئی ، معصوم بچوں کے سر سے ماں کا سایہ تو اٹھ گیا۔
وہ خاتون اس کے کے علاوہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ اگر ملزمان کے خلاف پولیس میں درخواست دیتی تو دن میں 20 بار اسے تھانے طلب کیا جاتا۔ قسم قسم کے سوال کیے جاتے اور بعد میں عدالتوں کے چکر لگاتی۔ زندگی ویسے بھی اجیرن ہونی تھی ، پھر شوہر اور خاندان والوں کے سوال جواب الگ۔ ہمارا نظام ایسے ہی چلتا آ رہا ہے۔ جب شہر کی پڑھی لکھی خاتون ایسے اقدام کے لیے مجبور ہو سکتی ہے تو دور دراز چھوٹے بڑے شہروں دیہاتوں کی خواتین کی کیا حالت ہوتی ہو گی ، سوچنے کی بات ہے۔
گزشتہ دنوں کوئٹہ شہر کے پولیس تھانہ گوالمنڈی کے حدود میں کچھ ایسا ہی واقع پیش آیا، جب ایک خاتون نے درخواست دی تھی کہ ایک لڑکے نے اس کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنائی ہیں اور ہمیشہ اسے بلیک میل کر کے تنگ کرتا ہے اور پیسے طلب کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ خاتون کو مجبور کر کے آئس جیسے نشے کا بھی عادی بھی بنا چکا ہے تاکہ خاتون اس کے اشاروں پر چلتی رہے اور مارتا پیٹتا بھی ہے۔ اکثر اوقات اپنے دوستوں سے بھی ملنے کا کہتا تھا اور ملاتا تھا اور یہاں تک کہ اس خاتون کے گھر تک بھی جا پہنچا ہے اور اس کے گھر کے خواتین کو بلیک میل کیا ہے۔ یہ باتیں تو اکثر فلموں ڈراموں میں دیکھنے کو ملتی تھیں، جب حقیقت میں دیکھا اور سنا تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ خاتون کو دن میں 20 بار تھانے بلایا جاتا ہے اور ملزم لڑکے کو تو پولیس نے گرفتار کیا پولیس کو اس پر داد بھی دیتے ہیں مگر لاک اپ میں ملزم بند ہونے کے ساتھ ساتھ وہی سے مختلف موبائل نمبرز سے خاتون (س) کو دھمکیاں بھی دیتا ہے اب لاک اپ میں موبائل کون دیتا ہے کہاں سے آیا یہ ایک الگ بات ہے یہاں تک کہ خاتون اپنی زندگی سے تنگ آ چکی ہے اور عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے اب یہ بھی پتا چلا ہے کہ اسے عدالت میں بیان دینے سے مختلف طریقوں سے روکا جا رہا ہے اور وہ بھی شاید پیش نہ ہوئی ہو اس کے بعد اللہ جانے کہ اس کا کیا بنا۔
ویسے بھی لڑکے نے بری ہونا ہے یا ضمانت ہونا ہے اور پھر تاریخ پر تاریخ اور اس کے بعد پھر ایک اور تاریخ یہاں قصور وار کون؟
یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہمارے حکمران گزشتہ 74 سالوں میں ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں کو اپنے ناقص فیصلوں اور اپنے اوپر تو خرچ کرتے گئے مگر دیگر اہم مسائل اور خاص کر ایسے حساس معاملات پر کوئی قانون سازی کر سکے اور نہ کوئی سزا جزا کا نظام قائم کیا گیا۔
ہمارے معاشرے میں اگر خاتون عزت کے معاملے پر آواز اٹھائے تو الٹا اسے ذلت کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ اس ناقص سسٹم سے نکلنے کے لیے خواتین اور مردوں کو آواز بلند کرنا ہو گی تاکہ ہمارے معاشرے میں جو گندگی تیزی سے پھیل رہی ہے ، وہ رک سکے۔
اگر یہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کی بات کریں تو وہ بھی صرف سیمینارز، تقاریب اور سوشل میڈیا تک ہی محدود ہیں۔ عملی کام ان کے بھی تسلی بخش نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے مختلف علاقوں میں خواتین کی خودکشیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور اس خودکشی کو کسی اور بیماری یا ہارٹ اٹیک یا دیگر وجوہات سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

