رضا علی عابدی کی کتاب ”اخبار کی راتیں“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عابدی صاحب کی اس کتاب کے پہلے باب کا مقصد با آواز بلند یہ اقرار کرنا ہے کہ: ”ہاں! جب میں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا تومیں جنگ اخبار میں پروف ریڈر تھا“ ۔ بارہ سال کا یہ لڑکا اپنے استاد ٹھہرنے والے تین ہندو اخبار کے بارے میں کہتا ہے، ”تیج“ کی کتابت بھونڈی، ”پرتاب“ کی بھدی اور ”ملاپ“ کی معمولی تھی۔ اس لڑکے کی اپنی پہلی تحریر بچوں کے رسالے ”کھلونا“ میں لگی تو یہ مسرور بھی تھا اورنادم بھی۔ نادم اس لیے کہ اس نے پہلی تحریر ہی شفیق الرحمان کی کتاب ”حماقتیں“ سے نقل کی تھی۔

مصنف کی پہلی کتاب 1952 میں ادبی بک ڈپو نے دو حصوں میں چھاپی، جس کے بدلے عابدی صاحب کو چار روپے ملے۔ بچوں کے رسالے ”نونہال پاکستان“ کے ایڈیٹر حامد یارخان کی نوید ”نونہال کے لیے باقاعدگی سے لکھتے رہیں“ پر کچھ وقت نونہال کو بھی دیا مگر بہت جلد روزنامہ جنگ کے ”خاندان مغلیہ کے آخری چشم وچراغ عرش تیموری“ کو لاپرواہی میں دیے گئے انٹرویو میں کامیاب ٹھہرے اور شعبہ اشتہارات میں ملازم ہو گئے۔

اسی ملازمت کے دوران عابدی صاحب نے اپنے سینئر نازش حیدری کے سامنے زندگی کا پہلا اور آخری شعر لکھا، جسے حیدری صاحب نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ اس کے بعد عابدی صاحب نے اپنی صحافتی روداد کے واقعات کو شخصیات کے گرد گھوما دیا ہے، جن شخصیات سے جڑے واقعات کا ذکر ہے ان میں میر خلیل الرحمٰن، حبیب الرحمن، سید محمد تقی، شوکت تھانوی اور انعام عزیز شامل ہیں۔ ایوب خان کے دور میں دارالحکومت بدلا تو عابدی صاحب کی پہاڑ دیکھنے کی خواہش پوری ہوئی اور انہوں نے کاتبوں کی فوج سے راولپنڈی پر ہلہ بول دیا۔ راولپنڈی میں ”جنگ“ کی جنگ شروع ہونے سے قبل وہاں نوائے وقت، تعمیر اور کوہستان جیسے تین روزنامے نکل رہے تھے۔ تھوڑے ہی عرصے میں عابدی صاحب نے ”جنگ“ کو خیرباد کہا اور فخر ماتری کے روزنامہ ”حریت“ میں جاکر ”اردو صحافت کے تاج محل“ کی تعمیر میں جت گئے۔

انہی دنوں ہندوستانی توپ خانے نے پاکستان کے ایک گاؤں اعوان شریف پر گولے پھینکے۔ عابدی صاحب کو فوراً اعوان شریف جاکر خبریں بھیجنے کا حکم ہوا۔ عابدی صاحب اعوان شریف پہنچے تو معلوم پڑا کہ جہاں بھارت نے گولے پھینک کر جنگ کے آداب کی خلاف ورزی کی ہے وہیں پاکستان کی فوج گاؤں کے مکانوں میں گولے بارود چھپاکر جنگ کے آداب کی دھجیاں بکھیر رہی ہے۔

مصنف 1965 کے صدارتی انتخابات کے بعد کی صورتحال بارے لکھتے ہیں : ”ایوب خان کے کیمپ نے اہل کراچی کو فاطمہ جناح کی حمایت کی سزا دینے کی ٹھانی اور ایک بار یوں لگا کہ ایوب خان اور ان کے حامی پاکستان کے نہیں بلکہ گندھارا کے لیڈر ہیں۔ انہوں نے کراچی میں ایک جلوس نکلوایا جس میں خاص طور پر مہاجر بستیوں میں لالٹین والے مکانوں کے درمیان جا کر فاطمہ جناح کی ایسی بے عزتی کی کہ لوگوں سے یہ منظر دیکھے نہ گئے اور وہ اپنے گھروں میں سہم کر اور بند ہو کر بیٹھ گئے۔ گستاخی کی وہ کارروائی کچھ ایسی تھی کہ یہاں لکھی نہیں جا سکتی کیونکہ اس تحریر کو عورتیں بھی پڑھیں گی اور بچے بھی۔ الطاف گوہر اپنی کتاب میں اس مقتل گاہ کا ذکر صاف ٹال گئے“ ۔

عابدی صاحب کتاب کے اگلے باب میں لکھتے ہیں کہ: ”حریت“ زیادہ عرصہ نہیں جیا مگر صحافیوں کی ایک پوری فصل اور ایک پوری نسل تیار کر گیا۔ اسی باب کے آخر میں مصنف ”حریت“ سمیت فخر ماتری کی وفات کی داستان رقم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ”حریت“ میں رہتے ہوئے برطانیہ میں صحافت کی تربیت کے لیے نامزد ہوئے توانٹرویو دینے لاہور گئے، انٹرویو لینے والوں میں مختار مسعود بھی تھے۔ ابھی تک ان کی بے مثال تحریریں پردہ غیب میں تھیں، ابھی تک ان کی قلم کاری کے بھید نہیں کھلے تھے۔

عابدی صاحب نے اگلی چھلانگ دنیا صحافت کی عظیم شخصیت عنایت اللہ صاحب کی زیر نگرانی چلنے والے ”مشرق“ میں لگائی۔ لاہور سے اردو صحافت کے دو بڑے ستون اقبال زبیری اور فرہاد زیدی سے واسطہ پڑا تو مصنف کو کراچی اور لاہور کے صحافیوں کا فرق لکھنا پڑ گیا، جو کچھ یوں لکھا: ”مجھے کراچی اور لاہورکے صحافیوں میں کچھ ویسا ہی فرق نظر آیا جو فرق سمندری اور لاہوری نمک میں ہوتا ہے۔ سمندری نمک سے سر پھوڑنا مشکل ہے“ ۔ انہی صفحات میں صحافت کی دنیا کا ایک بلند پایہ نام پڑھنے کو ملا جو اس وقت بھٹو کے وفادار تھے اور بعد میں میاں نواز شریف کے ساتھ تنگ گلیوں میں ”لاہور کا حسن“ دیکھنے جاتی امرہ کے در جا بیٹھے۔

کتاب میں ان کا ذکر کچھ یوں آیا: بھٹو صاحب کے کرائے ہوئے انتخابات کو سیاستدانوں نے نہیں مانا اور ان کے خلاف تحریک چل پڑی۔ مجھے یاد ہے کہ ان دنوں خبر آئی کہ بھٹو صاحب اپنے گھر میں اکیلے ہیں اور ان کے پاس صرف دو صحافی ہیں : نذیر ناجی اور ارشاد راؤ۔ ان دنوں بھٹو نے بھیانک فیصلے کیے۔ انہی حالات میں عابدی صاحب کو خط ملا جس میں کارڈف نے لکھاکہ آپ کا وظیفہ منظور ہو گیا اور عابدی صاحب ”تربیت“ کے لیے لندن جا پہنچے۔ دیگر ممالک کے صحافیوں کے ساتھ کی گئی اس ”تربیت“ کی روداد بھی کتاب میں خوبصورت انداز میں باندھی گئی ہے۔

”تربیت“ ختم ہونے پر ہالینڈ، پیرس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی سیر کرتے ہوئے عابدی صاحب وطن لوٹے تو روزنامہ ”حریت“ کی ڈوبتی کشتی کو روزنامہ ”ڈان“ والے خرید چکے تھے۔ عابدی صاحب بھی فرہاد زیدی کے ایک فون پر ”حریت“ میں جا بیٹھے۔ یاد تازہ کرتے ہوئے ”مشرق“ کے عنایت اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ اخبار کو پریس بھیجنے سے پہلے ”غلطی ضرور نکلے گی“ کی امید پر آخری نگاہ ڈالتے تھے۔ ایک روز میں اخبار پر آخری نظر ڈال رہا تھا، دیکھا کہ ایک چھوٹی سی خبر پر سرخی لگی ہے، جس میں لکھا ہے : علامہ رشید شرابی علیل ہیں۔

علامہ رشید ترابی کے نام کی غلطی پکڑی گئی ورنہ اگلی صبح اخبار کے دفتر پر دھوئیں اور آگ کی کہاوت صادق آتی۔ عابدی صاحب کتاب کی حد تک آخری چھلانگ ”حریت“ میں مار چکے تھے اور اسی میں رہتے ہوئے اپنی کتاب کے دو دلچسپ ترین باب لکھے۔ اس وقت احمدندیم قاسمی ”حریت“ میں لکھ رہے تھے، ابن انشا بھی ”حریت“ میں آنے سے بال بال بچ گئے۔ جوش ملیح آبادی کی خود نوشت کی پہلی دو اقساط بھی ”حریت“ میں چھپی اور تیسری کی نوبت نہ آئی۔ بعد ازاں اس شاعر انقلاب نے خود نوشت ”یادوں کی بارات“ ضرور لکھی۔

عابدی صاحب ایوب خان کے زوال کی تحریک کا ہیرو اصغر خان کو قرار دیتے ہیں۔ ایوب رخصت ہوئے تو یحییٰ خان وارد ہوئے اور مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کا شور اٹھا۔ بقول مصنف اس شور میں جو بات ذرا دھیان سے سنی گئی وہ یہ تھی کہ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کا اصل مصنف کوئی اور نہیں، جناب الطاف گوہر تھے۔ مصنف لکھتے ہیں : ”ہم لوگ جو“ حریت ”کے ملازم تھے نہ صرف محسوس کرتے تھے بلکہ جانتے تھے کہ ہارون گھرانا (ڈان والا) شیخ مجیب الرحمان اور فیض احمد فیض کی مالی اعانت کرتا ہے اور فیض کو اسی لئے لیاری کے ایک نجی کالج کا تنخواہ دار پرنسپل مقرر کیا گیا تھا۔ الطاف گوہر پر بھی ان کی نظر کرم تھی، کوئی مانے یا نہ مانے“ ۔

70 ء کے الیکشن کے بعد مشرقی پاکستان میں بگڑتے حالات کے تناظر میں لکھتے ہیں : اس وقت ہم دنیا بھر سے آئی ہوئی چیزیں دیکھ رہے تھے، کہیں سے پاکستان کے حق میں کوئی آواز نہیں اٹھ رہی تھی۔ بڑے بڑے ملکوں نے یا تو چپ سادھ لی تھی یا وہ پاکستان کی مذمت کر رہے تھے۔ ایک مسلسل خاموشی کو اس خبر نے توڑا کہ:

امریکہ کا بحری بیڑا مشرقی پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہم نے اخبار میں بڑی سرخی لگائی، ”امریکہ آ گیا“ ۔

یہ سرخی نہیں تھپڑ تھا، جو پھر ہم تادیر خود کو مارتے رہے۔ ”دنیا نے پاکستان کو ٹوٹ جانے دیا کیونکہ پاکستان کو خود پاکستان نے توڑا تھا“ ۔

عابدی صاحب لکھتے ہیں : ”قائد اعظم کے مزار پر ایک دیہاتی بزرگ کو یہ کہتے سنا گیا، لے بابا اس الیکشن میں ہم نے تیرا آدھا قرض اتار دیا۔ وہ دن اور آج کا دن دل اس خیال سے رک رک جاتا ہے کہ کسی دن آ کر وہ دیہاتی بزرگ اپنی بات مکمل نہ کر دے“ ۔

بقول مصنف، ”جس روز میں نے اخباری صحافت ترک کی میرے ذخیرہ الفاظ میں ایک دلچسپ اضافہ ہوا۔ وہ تھا: لفافہ صحافت“ ۔

اب عابدی صاحب انگلستان روانہ ہو چکے تھے۔ اب ”اخبار کی راتیں“ ختم اور ”ریڈیو کے دن“ شروع ہو چکے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *