ڈسکہ ضمنی الیکشن: الیکشن کمیشن کی اطمینان بخش کارکردگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی کل 404 اور پنجاب کی 119 تحصیلوں میں سے ایک ڈسکہ کو 19 فروری سے پہلے شاید ہی کوئی کھدر اور زرعی آلات کے حوالے سے جانتا ہو مگر این اے 75 کے ضمنی انتخابات میں ہونے والی خونریزی اور پریزائیڈنگ افسران کی گمشدگی کے بعد پاکستان کے ہر ذی شعور شہری کی اس ایک چھوٹی سی تحصیل اور وہاں ہونے والے انتخابات میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور دلچسپی ہوتی بھی کیوں نہ کہ جب ملکی تاریخ میں پہلی بار الیکشن کمیشن نے دکھایا کہ وہ ایک ادارہ کے طور پر موجود ہے اور نہ صرف طاقت رکھتا ہے بلکہ اس طاقت کا استعمال بھی جانتا ہے۔

سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کے اختیارات کے استعمال کی تائید این اے 75 ری پول کے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے کی، مطالعہ پاکستان پڑھ کر جوان ہونے والے ہر پاکستانی کے دل میں ہمیشہ سے یہ کسک رہتی تھی کہ کاش ہمارے ادارے مضبوط ہوتے ، کاش ہمارا سسٹم ٹھیک ہوتا، کاش امریکہ، بھارت کی طرح الیکشن کمیشن صاف شفاف الیکشن کرواتا۔

پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ اداروں میں سربراہوں کی تقرری ہمیشہ سے شخصی پسند ناپسند کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور اس تقرری میں مقتدر اداروں کا عمل دخل ہوتا ہے یا پھر یہ سمجھیں کہ مقتدر اداروں کے ہی ریٹائرڈ افراد کو ایسے عہدوں کے لئے چنا جاتا ہے جو آ کراپنے اداروں کے مفادات کا ہی تحفظ کرتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی تاریخ میں شاید یہ پہلی دفعہ ہوا کہ ایک اچھا بیوروکریٹ چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا گیا، جس نے اس الیکشن میں اپنی تقرری کی اہلیت کو ثابت کیا اور میرے جیسے کئی اور نوجوانوں کو امید کی کرن نظر آئی کہ ہمارے ادارے بھی چاہیں تو ہمارے ہاں صاف شفاف الیکشن ہو سکتے ہیں۔

این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں امن و امان کی بہترین صورتحال اور پولنگ کے بہترین انتظامات نے ثابت کیا کہ الیکشن کمیشن نہ صرف شفاف الیکشن کروانے کا اہل ہے بلکہ وقت آنے پر ملکی پیمانے پر بھی شفاف انتخابات کروا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مانیٹرنگ سیل نے جس طریقے سے چھوٹی سے چھوٹی شکایت پر فوری طور پر ایکشن لیا اور بھرپور اور فوری کارروائی کی گئی، اس سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی، قتل کے دو اور فائرنگ کے متعدد واقعات کے باوجود ٹرن آؤٹ 44 فیصد تک رہا جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ووٹرز نے الیکشن کمیشن کے اقدامات پر اطمنیان کا اظہار کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے خود لاہور میں بیٹھ کر نگرانی کرنے اور الیکشن کمشنر اور ریجنل الیکشن کمشنر کے خود فیلڈ میں موجود ہونے کی وجہ سے نہ ہی کوئی موبائل فون بند ہوئے نہ ہی آئی جی یا چیف سیکریٹری صاحب کو اونگھ آئی اور نہ ہی ڈی پی اور یا ڈی سی او نے غفلت کا مظاہرہ کیا، اور نون لیگ کی اس حلقہ میں جیت نے حکومتی ایوانوں میں بھی واضح کر دیا کہ اب گھبرانا نہیں ہے کے بجائے گھبرانے کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے کیونکہ جس حساب سے عثمان ڈار نے حلقے میں ترقیاتی کاموں کا اعلان کیا اور کوئی عہدہ نہ ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور حکومتی وسائل کا استعمال کیا، اس کے باوجود بھی وہاں کے عوام نے بھرپور شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کیا اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں موجودہ حکومت کے گھناؤنے چہرے اور شفافیت کے کھوکھلے نعروں کو بری طرح سے آشکار کیا۔

اب وقت آ گیا ہے مقتدر ادارے صرف اپنی اہلیت کا راگ الاپنے اور بجائے یہ پروپیگنڈا کروانے کہ باقی سب نا اہل ہیں ، اداروں کو آزادانہ کام کرنے دیں ۔ ایسا ہو گیا تو بعید نہیں کہ ڈسکہ کی طرح پورے پاکستان میں شفاف الیکشن ہوں گے جہاں نہ تو کوئی دنگا فساد ہو گا نہ ہی کوئی لانگ مارچ ہو گا بلکہ جمہوریت مزید مضبوط ہو گی اور وطن عزیز ترقی کرے گا۔ پس این اے 75 کے ضمنی انتخابات نے ثابت کیا کہ ادارے اہل ہیں اگر انہیں آزادانہ کام کرنے دیا جائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *