رحمان صاحب بھی رخصت ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابن عبدالرحمان جنہیں لوگ آئی اے رحمان کے نام سے جانتے ہیں، جو انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ہم جیسے سب لوگوں کے رحمان صاحب تھے، کے رخصت ہونے کی خبر بھی آ گئی اور عین اس دن آئی جب ہم کراچی میں احفاظ الرحمان کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی یاد میں ترتیب دیے جانے والے پروگرام کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ستمبر 2020 میں جب ہم نے آرٹس کونسل میں احفاظ کے لئے ریفرنس منعقد کیا تھا تو اس کے مہمان خصوصی آئی اے رحمان صاحب تھے۔ وہ اس پروگرام کے لئے خصوصی طور پر لاہور سے تشریف لائے تھے۔

میں نے رحمان صاحب کو پہلی مرتبہ نوے کے عشرے کے آخری سالوں میں عورت فاؤنڈیشن کی ورکشاپس میں دیکھا تھا۔ نگار اور شہلا این جی اوز کی دنیا میں ہم جیسے نوواردوں کی استعداد کار میں اضافے کے لئے بے حد فکر مند رہتی تھیں۔ اکبر زیدی، قیصر بنگالی اور آئی اے رحمان ان کے پسندیدہ ریسورس پرسنز تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ شہلی نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا تھا ”ابھی ہمارے پاس فنڈنگ ہے، جو کچھ سیکھنا ہے سیکھ لو ورنہ پھر ہم آئی اے رحمان جیسے ریسورس پرسنز کو کہاں بلا پائیں گے“ ۔

عورت فاؤنڈیشن کے سیاسی تعلیم کے پروگرام کی دوسری قومی ورکشاپ سوات کے وائٹ پیلس میں ہوئی۔ ہفتے بھر کی رہائشی ورکشاپس میں شرکاء کو ٹرینر سے زیادہ باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ کراچی کی ٹیم لاہور پہنچنے کے بعد بسوں کے ذریعے دوسرے لوگوں کے ساتھ سوات پہنچی تھی۔ گرمی اور سفر کی طوالت سے برا حال تھا۔ مجھے یاد ہے سوات پہنچتے ہی جب میں اپنے کمرے سے نہا دھو کر باہر نکلی تو رحمان صاحب ٹیرس پر کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، پرسکون، شانت۔ میں نے فوراً انہیں دیکھتے ہی اپنے سفر کے حالات سنانا شروع کر دیے اور وہ مسکراتے رہے اور محظوظ ہوتے رہے۔

آئی اے رحمان

ایک مرتبہ ایک ورکشاپ پر واپسی سے فلائٹ لیٹ ہو گئی۔ آئی اے رحمان، خالد احمد اور میں کوئی ایک دو گھنٹے ایئرپورٹ پر بیٹھے رہے اور باتیں کرتے رہے۔ اب یاد کرتی ہوں تو لگتا ہے باتیں تو صرف میں ہی کر رہی تھی، وہ دونوں تو سن سن کر محظوظ ہو رہے تھے۔

نوے کی دہائی کے ان آخری برسوں سے لے کر 2020ء تک میں نے آئی اے رحمان کو جب بھی دیکھا، انہیں پہلے سے زیادہ شفیق اور مہربان پایا، شروع شروع میں تو ورکشاپ کے شرکاء کو بیوقوفانہ سوالات پر ڈانٹ بھی پلا دیتے تھے مگر پھر ان کی قوت برداشت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس کی ایک وجہ ہیومن رائٹس کمیشن کا کام بھی تھا۔ انسانی حقوق کی جدوجہد نے ان کی شخصیت کو عظیم سے عظیم تر بنا دیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمان نے پاکستانی عوام کے انسانی حقوق اور پاک انڈیا دوستی کے فروغ کے لئے دیگر ساتھیوں کے ساتھ جو جدوجہد کی وہ ناقابل فراموش ہے۔

کہنے کو یہ روایتی سی بات ہے مگر آئی اے رحمان صحیح معنوں میں ہمارے رول ماڈل تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ہر ناانصافی کے خلاف اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھانے میں وہ سب سے آگے ہوتے تھے۔ ہیومن رائٹس کمیشن سے ریٹائر ہونے کے بعد تو ان کے قلم میں اور بھی تیزی آ گئی تھی، ادھر سول سوسائٹی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ادھر اگلے روز اسی مسئلے کے بارے میں ان کا مضمون اخبار میں پڑھنے کو ملتا۔ میں اکثر سوچتی اللہ نوجوانوں کو بھی اتنی تیزی سے کام کرنے کی توفیق دے۔

جب میں CWS میں کام کر رہی تھی تو ہمارا ٹریننگ سنٹر مری میں تھا۔ ایک مرتبہ آئی اے رحمان وہاں ٹریننگ کرانے تشریف لائے۔ ہماری انتظامی ٹیم ان کے مقام و مرتبے اور عمر کو دیکھتے ہوئے ان کا بہت خیال رکھ رہی تھی لیکن انہیں یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ آخر انہوں نے کہہ ہی دیا ”ارے بھئی تم لوگ تو ٹرینر کو وڈیرہ بنا دیتے ہو“ ۔ اسی ورکشاپ میں انہوں نے کسی بات پر شرکاء کو بتایا ”ان کے شوہر ہمارے دوست ہیں“

اس کے بعد جب بھی کبھی ملے، ان کا پہلا سوال ہوتا تھا ”بھئی ہمارے دوست کیسے ہیں؟“ اور میں انہیں احفاظ کی صحت کے بارے میں آگاہ کرتی رہتی تھی۔ اس وقت کسے پتا تھا کہ احفاظ کے رخصت ہونے کے ٹھیک ایک سال بعد آئی اے رحمان صاحب بھی رخصت ہو جائیں گے۔

1930 میں ہریانہ میں پیدا ہونے والے رحمان صاحب 12 اپریل 2021 پیر کو لاہور میں نوے سال کی عمر میں ہم سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے ابتدا میں صحافت کی اور 1989 میں پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے، انہوں نے فلموں کے فروغ کے سرکاری ادارے این ڈی ایف سی میں بھی کام کیا۔ وہ زندگی بھر انسانی حقوق کا دفاع کرتے رہے۔ انہیں 2004 میں ریمن میگسے ایوارڈ اور 2003 میں نیورمبرگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ ملا۔

الوداع آئی اے رحمان صاحب، آسمانوں پر فیض احمد فیض، عاصمہ جہانگیر، منہاج برنا، احفاظ اور بہت سے دوست آپ کے استقبال کے لئے موجود ہیں۔ الوداع۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *