اسمبلیوں کی تحلیل پر وجاہت مسعود کے سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالقیوم صدیقی، شمع جونیجو، حماد غزنوی اور وجاہت مسعود سوشل میڈیا پر پاکستان میں اسمبلیوں کی تحلیل پر لندن میں سٹے بازی کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ گفتگو کا آغاز محترمہ شمع جونیجو سے ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ لندن میں بکی عمران خان کی حکومت پر سٹہ لگا رہے تھے کہ کپتان اسمبلیوں کو تحلیل کرنے جا رہے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ یہ بکی انڈین تھے۔ گفتگو کے شرکا کا ماننا تھا کہ سٹہ خوامخواہ شروع نہیں ہوتا ضرور کوئی بات ہوتی ہے تو پھر سٹہ لگانے کی نوبت آتی ہے۔

دوران گفتگو وجاہت مسعود نے عمران خان سے متعلق جو تبصرہ کیا وہ بلاشبہ حقائق پر مبنی تھا کہ عمران خان بنیادی طور پر کسی جمہوری سیاسی تسلسل کے نتیجے میں سامنے نہیں آئے بلکہ کپتان کی آمد ایک حادثاتی یا میرے مطابق نظریہ ضرورت کے تحت آمد ہے۔ لہذا ان کے مطابق کپتان کا وہ مزاج نہیں ہے جو عمومی طور پر مروجہ سیاست میں کسی سیاست دان کا ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل کپتان کا موجودہ طرز حکمرانی ہے ایک ایسا طرز حکمرانی جس کی کسی بھی سطح پر پذیرائی ممکن نہیں ہے

ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کو دلیل کے طور پر بیان کرتے ہوئے وجاہت مسعود کا کہنا تھا کہ پنجاب اور ملک بھر میں عوام کا موڈ کچھ اوربن چکا ہے اور یہ سب کچھ حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے ہوا ہے تو ان کا سوال تھا کہ کیا کپتان یہ رسک لیں گے کہ وہ اپنی مقبولیت کا اندازہ بیلٹ پیپر سے کریں۔ یعنی کیا عمران خان یہ رسک لیں گے کہ وہ اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات میں جائیں اور عوام سے دوبارہ ووٹ لے سکیں

اگر حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اس کا جواب بہت سادہ سا ہے کہ ممکن ہی نہیں ہے کہ عوام اس حکومت کے دوران اپنی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد مزید کسی تبدیلی کے متحمل ہو سکیں۔ عوام کو چھوڑیں سینئر جرنلسٹ حسن نثار جو تبدیلی کی خاطر کنٹینر پر چڑھ گئے تھے چیخ اٹھے ان کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ حکومت نے اپنی کارکردگی سے سابق حکمرانوں کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ مطلب جن کو بھولنا چاہیے تھا عوام ان کو یاد کرنے لگے ہیں

بات پھر وہی کہ کیا عمران خان اپنی مقبولیت نئے انتخابات کے ذریعے آزمانا چاہیں گے تو اس کا ایک جواب تو محترمہ شمع جونیجو نے دے دیا کہ افغانستان کے حالات اور ڈو مور کے ممکنہ مطالبہ کی وجہ سے کسی نئے سیاسی تجربے اور نئی حکومت کا جواز نہیں بنتا۔ شاید یہی وجہ ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اسمبلیوں کی تحلیل کا اختیار بھی اب کپتان کے پاس نہیں رہا۔ میرظفراللہ جمالی کا بیان یاد رکھیں کہ جو لاتے ہیں وہ ہی گھر بھیجتے ہیں مطلب نہ آنا اپنے اختیار میں نا گھر جانا اپنے بس میں۔ اب کپتان کوئی انشا جی تھوڑی ہیں کہ جب من میں سودا سمایا تو کہہ دیا کہ انشا جی اٹھو اب کوچ کرو

وجاہت مسعود کے مطابق ہمارا ووٹر اس سیاسی نظام کی متحرک سیاسی اشرافیہ سے زیادہ سیاسی شعور رکھتا ہے اور یہ بات بالکل درست ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ منتخب اراکین اسمبلی جن کا تعلق حکومتی جماعت سے ہے کی فرسٹریشن دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اپنے حلقوں میں جب وہ اپنے ووٹرز کا ردعمل دیکھتے ہیں تو ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ حکومتی جماعت کو خدا حافظ کہہ کراپنے حلقے کی عوام کے سامنے سرخرو ہوجائیں۔

حلقہ جاتی سیاست میں عوامی ردعمل پر تبدیلی کا ساتھ دے کر منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی اس وقت سرپکڑے بیٹھے ہیں اور اپنی نجی محفلوں میں حکومت سے متعلق جو لب ولہجہ اختیار کر رہے ہیں وہ ناشائستہ ہی نہیں قابل گرفت بھی ہے تاہم ان کا اور ان کے سپورٹرز اور ووٹرز کا کتھارسس ہو رہا ہے اور یہ سلسلہ اب نجی محفلوں سے عوامی محفلوں کی طرف رواں دواں ہے یعنی وہ بات جو پردے کے پیچھے تھی اب سربزم ہونے لگی ہے

دوسری اہم بات یہ کہ اس وقت حکومتی سورج اپنے نصف النہار پر ہے اورہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ اس کے بعد زوال کا وقت شروع ہوتا ہے تو ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی اپنے اعمال کی پوٹلی سنبھال شروع کرے گی کہ سیاسی یوم احتساب میں عوام کے سامنے اپنے اعمال پیش کرنے ہیں تو ایسے میں نامہ اعمال کے نام پر حکومت کے پاس شاید کچھ اور تو ہوگا نہیں سوائے فیض کے۔ اور لگتا یہی ہے کہ فیض احمد فیض ہی اس موقع پر حکومت کے کام آئیں گے کہ ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو، عمر سے جو ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں، دامن میں ہے مشت خاک جگر ساغر میں ہے خون حسرت مے، لوہم نے دامن جھاڑ دیا لو جام الٹاے دیتے ہیں

بس ایک سوال ہے جو مجھے بھی پریشان کر رہا ہے اور اس کا جواب نہیں مل رہا کہ کیا موجودہ تبدیلی کے ماخذ اور ناخدا اس تبدیلی کی ناکامی کو قبول کر لیں گے۔ کہیں یہ ناکامی کسی شدید ردعمل کا باعث نا بن جائے۔ کہیں جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے۔ وسیع تر قومی مفاد میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کسی بھی طریقے سے ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے نعرے سے لے کر نئے پاکستان کے نعرے کے خالق کچھ اور تو نہیں سوچ رہے۔

وجاہت مسعود صاحب کو لگتا ہے کہ خان صاحب کی گورننس کی صلاحیت استعمال ہو چکی ہے۔ تو کیا یہ آخری تجربہ تھا اور کیا اس تجربے کی ناکامی کے بعد طاقتور حلقے سرنڈر کردیں گے؟ تو مجھے لگتا ہے کہ یہ کشمکش مزید چلے گی اور بلڈی سویلینز کے سامنے سرنڈر کرنے سے بہتر ہے ایک فیصلہ کن جنگ لڑی جائے اور ہو سکتا ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں موجودہ نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے اور کسی اور نئے نظام کی داغ بیل ڈالی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *