کشمیر کی سیاست میں تنویر الیاس کی آمد اور جادو کی چھڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزاد کشمیر کی سیاست کی راہداریوں میں ایک موڑ ایسا بھی آیا جب اچانک ہر طرف ایک نام گونجنے لگا، بیشتر لوگوں کے لئے یہ نام بالکل اجنبی تھا اور یہ نام تھا سردار تنویر الیاس۔ سردار تنویر الیاس کی سیاست میں آمد بالکل ایسے ہی ہے جیسے بالی وڈ کے فلموں اور ڈراموں میں اچانک سے کوئی پراسرار کردار وارد ہو کر کہانی کا رخ یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے، کہانی یا تو بہت دلچسپ ہو جاتی ہے یا پھر اتنی فضول کے ناظرین کو ناگواریت اور اکتاہٹ کا احساس ہونے لگتا ہے۔

یہ آج سے چند ماہ پہلے ہی کی بات ہے جب اخبارات کے صفحات سے لے کر بازاروں، چوراہوں، سڑکوں کے کناروں پر نصب کھمبوں پر تنویر الیاس نامی آدمی کے اشتہارات اور پوسٹرز نظر آنے لگے، بیشتر ریاستی اخبارات میں پورے کے پورے صفحات اشتہارات، خبروں اور تبصروں کی صورت میں تنویر الیاس کے لئے مختص کیے جانے لگے۔ صحافت سے جڑے کچھ نام سوشل میڈیا پر تنویر الیاس کی ترجمانی کرتے نظر آنے لگے۔ وہ تنویر الیاس کے ساتھ فوٹو کھچوانے کو اپنے لئے بہت بڑا اعزاز سمجھنے لگے، تقریبات میں تنویر الیاس کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جانے لگا۔

ابتداء میں عوامی رجحان اور اپنی سیاسی طاقت کا اندازہ لگانے کے لئے تنویر الیاس نے منقسم ریاست کے مختلف شہروں میں سیاسی جلسے بھی کیے جو کہ بالکل بھی متاثر کن نہیں تھے۔ ابتدائی ”وارم اپ میچز“ کے بعد تنویر الیاس کے ترجمان یہاں تک دعوے کرنے لگے کے آزاد کشمیر کے اگلے وزیراعظم تنویر الیاس ہوں گے۔ اس پر بہت ساروں کا ماتھا ٹھنکا کہ یہ تو جان نہ پہچان میں تیرا مہمان والی بات ہو گئی؟ تنویر الیاس کو مقامی سطح پر زیادہ لوگ نہیں جانتے، نہ وہ یہاں رہتے ہیں، نہ وہ یہاں کسی سیاسی جماعت کے سرگرم کارکن رہے، نہ وہ یہاں کوئی فلاحی ادارا چلا رہے ہیں، نہ کبھی عالمی منظرنامے میں کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور حالات کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر سامنے آیا، وہ تو کشمیر کے اندر کبھی کسی حوالے سے بھی متحرک نظر نہیں آئے، پھر ایک ایسا شخص وزیراعظم کی دوڑ میں کیسے شامل ہو سکتا ہے؟

لوگوں کے ذہنوں میں کئی طرح کے سوالات کلبلا رہے ہیں لیکن میرے لیے اس میں اچنبھے کی ہرگز کوئی بات نہیں کہ تنویر الیاس صاحب وزیراعظم کی دوڑ میں شامل ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تنویر الیاس کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ جسے گھما کر وہ وزیراعظم بن جائیں گے یا کم از کم وزارت کے منصب پر فائز ہو جائیں گے تو سادہ لوح لوگوں کو میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ جی ہاں۔ تنویر الیاس کے پاس جادو کی چھڑی ہے اور وہ چھڑی ”سرمایہ“ ہے۔ اور صرف کشمیر یا برصغیر میں کیوں اب ساری دنیا میں یہی تو ہو رہا ہے کہ سیاست سرمایہ داروں کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔ ایک ایسا خطرناک کھیل جس میں عوام گھن کی طرح پس رہی ہے۔

تنویر الیاس کا مختصر تعارف یہ ہے کہ پاکستان کے بڑے سرمایہ داروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کا تعلق آزاد کشمیر کے راولاکوٹ شہر سے ہے لیکن ان کا تمام تر کاروبار ریاست سے باہر ہے، یہ سردار گروپ آف کمپنیز کے صدر ہیں، یہ اسلام آباد میں میگا کاروباری مرکز دی سینٹورس اور ایک رہائشی سوسائٹی کے مالک بھی ہیں، پاکستان کے گزشتہ عام انتخابات میں انہیں پنجاب کی عبوری کابینہ میں اہم عہدے تفویض کیے گئے، عام انتخابات کے بعد بھی یہ پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں، یہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے معاون خصوصی برائے تجارت اور سرمایہ کاری ہیں اور پنجاب میں سرمایہ کاری بورڈ کی چیئرمین شپ بھی ان کے پاس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار میں ان کی کامیابیوں اور وسیع تجربے کے پیش نظر عمران خان نے انہیں نہ صرف پنجاب کے اندر اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں بلکہ اب کشمیر کی سیاست میں بھی ان کو سرگرم دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کے حامی اور ترجمان جو ان کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں ان کا دعوی ہے کہ وہ خدمت کا جذبہ لے کر سیاست کے میدان میں اترے ہیں اور آزاد کشمیر کے آمدہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے زور آزمائی کریں گے۔ ان کے لئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر ہی سیاست کے میدان میں اترے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کا میکانزم کچھ ایسا ہے کہ اس میں سرمایہ دار اپنے دعوؤں کے برعکس عوام کا خون پسینہ ہی نچوڑ سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ذرائع پیداوار، کاروبار اور آمدن کی پبلک اونرشپ کی بجائے دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہوتا رہتا ہے، سرمایہ دار اور سرمایہ دارانہ کمپنیوں کی مقابلے کی دوڑ ہر وقت جاری رہتی ہے، ایسے میں کامیاب سرمایہ دار اس کو سمجھا جاتا ہے جو مقابلے اور منافعے کی دوڑ میں سب سے آگے ہو اور اس سفاکانہ نظام کی انتہا دیکھیں کہ کاروبار میں ہر طرح کے نقصانات کے ازالے کے لئے سرمایہ دار اور کمپنیاں ہمیشہ محنت کشوں کی اجرتوں پر چھری چلاتی ہیں۔ سرمایہ دار جب سیاست میں آتے ہیں تو ان کی اولین ترجیح بھی اپنے سرمائے اور کاروبار کا تحفظ ہوتا ہے۔

تنویر الیاس کے سیاسی مخالفین شد و مد سے اس بات کا پرچار کر رہے ہیں کہ یہ شخص محض اپنے سرمائے کے بل بوتے پر اپنی سیاسی اننگز شروع کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات تو درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں سیلف میڈ سیاستدان یا لیڈر کتنے ہوں گے؟ بیشر تو سرمائے اور موروثیت کے بل بوتے پر ہی آتے ہیں اور اگر وہ بطور سرمایہ دار نہ بھی آئیں تو سیاست میں آنے کے بعد اچھے خاصے سرمایہ دار بن جاتے ہیں اور باقی کی زندگی عیش و عشرت میں گزارتے ہیں، یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے۔

آپ سرمایہ داروں کی سیاست کا ایک دلچسپ پہلو ملاحظہ فرمائیں کے یہ رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لئے میڈیا میں دل کھول کر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ یا تو اپنے ذاتی ٹیلی ویژن چینل اور اخبارات کھول لیتے ہیں یا پھر میڈیا مالکان سے گٹھ جوڑ کر لیتے ہیں۔ یہ صحافیوں کے روپ میں کالی بھیڑوں کو بھی خرید لیتے ہیں اور جو بکنے کو تیار نہیں ہوتے ان کی کردار کشی اور دیگر حربوں سے ان کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ابھی تنویر الیاس نے خود کو کشمیر میں لانچ ہی کیا تھا کہ کئی نام نہاد صحافی اور دوسرے شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے موقع پرست ان کے دسترخوان خوان کی طرف دوڑ پڑے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ تنویر الیاس کی لانچنگ کے بعد پی ٹی آئی کشمیر میں دو بڑے دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک طرف تنویر الیاس گروپ ہے تو دوسری طرف بیرسٹر گروپ اور ستم یہ ہے کہ تنویر الیاس کے ارد گرد منڈلانے والے صحافی وغیرہ کھلم کھلا تنویر الیاس کی ترجمانی اور بیرسٹر سلطان محمود کی مخالفت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مقصد لوگوں کی رائے کو تبدیل کرنا ہے۔

آپ ایک اور دلچسپ پہلو ملاحظہ فرمائیں کہ کشمیر کے اس پسماندہ خطے میں سرمایہ داروں کے لئے زمین بڑی زرخیز ہے۔ یہاں لوگوں کی ذہنی کیفیت ایسی ہو گئی ہے کہ مجھے یقین ہے کے وہ آج سے کئی سال بعد بھی شاہانہ طرز سیاست پر سوال نہیں اٹھائیں گے۔ نام نہاد منتخب عوامی نمائندے تو پانچ سال تک اپنے حلقوں کا چکر نہیں لگاتے، لیکن پانچ سال لوگوں سے لا تعلق رہنے کے بعد جب وہ انتخابی اکھاڑے میں اترتے ہیں تو یہی لوگ ان پر پھر سے اعتماد کرتے ہیں۔

معاملہ یہ ہے کہ سیاستدانوں نے عوام کو سکیم خور بنا رکھا ہے۔ دنیا بہت آگے کی سوچتی ہے لیکن ہمارے لوگوں کی سوچ آج بھی ٹوٹی، کھمبا، سڑک، پانی کے پائپ ایسی بنیادی ضروریات کے گرد گھوم رہی ہے۔ آج بھی کسی کی گلی یا محلے میں چند انچ یا میٹر کی کچی سڑک نکل جائے تو لوگ اس کو بھی بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ کوئی امیدوار اگر کچی سڑک کا معرکہ مار کر ایک الیکشن جیت جائے گا تو اگلا الیکشن وہ اسی سڑک کی پختگی کے وعدے پر جیت سکتا ہے، تو ایسی کریز پر بیٹنگ جرنا تنویر الیاس جیسے لوگوں کے لئے کیا مشکل ہے؟ ایک یا دو حلقوں میں انتخابی نشست جیتنے کے لئے وہ ایسی کئی سکیمیں بانٹ سکتے ہیں۔

پوچھنے والے پوچھتے ہیں کہ تنویر الیاس کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے جسے گھما کر وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔ تو میں کہتی ہوں کہ جی ہاں تنویر الیاس کے پاس ایسی جادو کی چھڑی ہے اور وہ جادو کی چھڑی سرمایہ ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *