رمضان:احساس انسانیت سے تقویم عبدیت تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سحر خیزی بھی اپنے اندر عجب سحر کی حامل ہوتی ہے۔ وقت سحر خدا اور بندے کے درمیان حائل ہر بیرونی سایہ و صوت کو موت دیتے ہوئے ریا کے تمام امکانات کو اپنی مشک رنگ آغوش میں لپیٹ لیتا ہے اور فجر سے ملحق شفق آراستہ ستارہ زویہ سے گویا ہونے کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کے لئے رازداری کے ساتھ اپنی ذات کی معرفت کا ذریعہ بھی ہے۔ اور بقول صاحب نہج البلاغہ امام علی علیہ السلام جس نے اپنی ذات کو پہچانا گویا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔

یہ وہ کیفیت ہے جس کو شعرا نے غالباً وصل سے تعبیر کیا ہوا ہے اور اس وصل کا کمال بھی اپنے اندر عجب کمالات کا حامل ہے کہ اگر اس میں زلیخا کو اپنا محرم حقیقی مل جائے تو اس کے سامنے اس کا اپنا یوسف تک اس کو حقیر دکھائی دیتا ہے۔ یہ منزل عشق کی طرف پیش قدمی ہے جہاں سے بشریت، عبدیت کی طرف گامزن ہوتی ہے اور تقویم عبدیت کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔

مقام عبدیت اپنے اندر سمائے اسرار کے ساتھ بندے کو خدا تک رسائی دیتا ہے اور اسی کے ثمرات و اثرات اس کو واپس بندگان خدا تک رسائی کے لئے وہ راستہ فراہم کرتے ہیں جہاں بندے کے اخلاص میں کوئی کجی باقی نہیں رہ جاتی۔ اب کینہ خلوص میں، عداوت اعانت میں جبکہ نفرت محبت میں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اللہ جانے کیا کمال ہے اس مقام عبدیت میں کہ جب خدا اپنی محبوب ترین ہستی کے مقام و مرتبے کی گواہی دلواتا ہے تو ان کے نام نامی کے بعد اپنے محبوب کی عبدیت کو مقام رسالت پہ مقدم رکھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

یہی عبدیت جب عالم آشکار ہوئے چاہتی ہے تو احساس انسانیت اس کے اسرار و عجائبات کا مظہر بن کے جلوہ گر ہوتا ہے اور وہ بھی اس ادا سے کہ یہاں بھی ریا کا ہر امکان بہ وقت سخاوت بند مٹھی اور بند آنکھوں کے پیچھے دفن ہو جاتا ہے ۔ مطلب ہر ایک صورت میں بندے کی ان خطوط پر تربیت ہو رہی ہوتی ہے اور اسے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تقویم عبدیت اپنی اصل میں احساس انسانیت؛ بندگان خدا کی عزت نفس کا احترام اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا ہی دوسرا نام ہے۔

اس لئے بجز پشیمانی اور پہلے تکلیف میں مبتلا کیے ہوئے بندے سے معافی مانگنے کے، ایسا کوئی امر عالم امکان میں موجود نہیں کہ جس کے ذریعے آپ بندگان خدا کو تکلیف میں مبتلا کرنے کے بعد حصول رضائے الٰہی کے لئے اپنا حق جتا سکیں۔ اگر کوئی بشر، بندگان خدا کو تکلیف دینے کے باوجود ذرہ برابر بھی پشیمان نہیں تو پھر خدا ہی جانے کہ وہ اس رویے کے بدلے مالک کائنات سے کس جزا کا سزاوار قرار پائے گا۔

ویسے تو بندگان خدا کی ان خطوط پر تربیت کے لئے پورا سال ہی پروردگار کی طرف سے مختص کیا گیا ہے لیکن رمضان میں ذات احدیت کی خاص عنایات اور لطف و کرم مسلسل اپنے بندوں کے شامل حال رہتے ہیں تاکہ انسان ملک الٰہی کے رموز کا بہم مشاہدہ کرے اور بندگان خدا کا احساس کرتے ہوئے اپنی عبدیت کو مقام تقویم تک پہنچا سکے۔ اسی لئے بندے کو سحر خیزی کی نعمت اور فجر سے ملحق ستارۂ زویہ کی تابناکی دیکھنے کے ساتھ نعم خداوندی میں فراوانی اور تربیت اخلاص کا بھرپور موقعہ فراہم کیا جاتا ہے۔

رمضان میں میسر تمام تر نعمتوں کی فراوانی کی وجہ روزہ ہے۔ روزہ انسان کی جس تربیت کے لئے فرض کیا گیا، اس کو اللہ نے ”تتقون“ کہا ہے۔ یہ پرہیزگاری کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان کو محتاط رہنے کی تنبیہہ کی گئی ہے۔ یہاں متقی کے معنی محتاط، رک جانے والا نیز اقتدار الٰہی کی حدود سے ڈرنے والا کے ہیں۔ اور جب بات اقتدار الٰہی کی آئے تو وہاں حکم بھی اسی کا چلے گا۔ اللہ نے اپنی حدود کی تشریح کا استحقاق بجز انبیا کے فقط اپنے پاس رکھا ہے۔ اور باقیوں کو فقط ان حدود کی پیروی کا حکم دیا ہے۔

یہاں مسائل تب رونما ہوتے ہیں جب لوگ حدود الٰہی میں اپنی مرضی، پسند اور ناپسند کو ٹھونسنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے خالص اوامر الٰہی جو اللہ کے لطف و کرم کا پرتو ہوتے ہیں اور بندگان خدا کی تربیت کے لئے عالم آشکار کیے جاتے ہیں۔ ان پر بھی سوال اٹھنے لگتے ہیں۔

یہ بات باعث ننگ و عار ہے کہ آج کل رمضان میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر دیا جاتا ہے ، ان کا حدود الٰہی سے دور کا واسطہ نہیں۔ اللہ نے ہم کو یہ مہینہ دیا تاکہ ہم اپنی تربیت اس طرح کریں کہ اپنی عادات و اعمال کو مقام عبدیت میں جذب کرتے ہوئے ان کو عبادت کے درجہ پر فائز ہونے کے قابل بنائیں نہ کہ علامتی اعمال کو عبادت جان کے ان کو ایسی عادت بنا لیں جس کا اصل عبدیت سے دور کا واسطہ نہ ہو۔

اب احترام رمضان کو ہی لے لیجیے۔ ہمارے ہاں احترام رمضان کا جو تصور رائج العمل ہے اس میں کتنے عوامل ہیں جو حدود الٰہی کے مطابق ہیں اور کتنے ہیں جو ہماری ذاتی خواہشات پہ مبنی ہیں۔ میری دانست میں تو رمضان کا سب سے بڑا احترام یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں بتائے گئے احکام کو بجا لایا جائے اور اپنے آپ کو اس جہاد نفس کے لئے آمادہ کرنا چاہیے۔ عجب بات ہے کہ ہمارے ہاں روزے کو جہاد نفس سے تعبیر تو کیا جاتا ہے، پر اس کو ایسا جہاد بنا دیا گیا ہے جہاں ہم کو مخالف فوج کے بجائے میدان خالی چاہیے ہوتا ہے۔

رمضان کے آتے ہی یہ روش عام دکھائی دیتی ہے کہ ہم روزے سے ہیں، اس لئے سب کو ہمارا خیال رکھنا چاہیے اور ہمارے احترام میں سب کچھ بند کروا دیا جائے۔ بس اگر بند نہ ہوں تو رمضان میں دین کے نام پہ مختلف ٹی وی چینلز پر تفریح کے پروگرام بند نہ ہوں۔ ویسے میں تفریح کا مخالف نہیں لیکن رمضان میں اس کو عقیدت کا جبہ پہنا کر پیش کرنا قابل کراہت ہے۔

یہ بھی عجب روش ہے کہ ہر قبیح معاملے میں ہمارا سماج اور ٹی وی پہ بیٹھے عالم اتحاد امت کا نمونہ بنتے ہوئے ایک پیج پہ نظر آتے ہیں جو خاصا جاذب نظر اور دیدنی بھی ہوتا ہے۔ البتہ جب بات آئے ارد گرد رہنے والے غیر مسلم، غریب اور ایسے نادار جن پہ روزہ واجب نہیں، کے احساس کی یا پھر کسی اور فرقے یا اور مذہب کے حقوق کی تو پھر یہ منظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کوئی چنے بیچنے والا دہاڑی دار پولیس کی لاٹھیوں سے لہولہان پایا جاتا ہے، جس میں ہمارے سماج کے خود ساختہ مجاہدین ملت بھی اپنا حصہ ڈالتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور کچھ لمحہ پہلے ٹی وی پر بیٹھے اتحاد امت کے داعی، عالم ایسے آپے سے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ ٹی وی پروڈیوسرز کو پروگرام بیچ میں بند کرنے پڑتے ہیں یا کم از کم ایک اچانک بریک پہ جانا ہی بہتر سمجھا جاتا ہے۔

یہ بات سوچتے ہوئے میرا وجود لرزتا ہے کہ اگر میرے روزے کی وجہ سے کسی دہاڑی دار یا چھابڑی والے کی روزی بند ہوتی ہے یا پھر بندگان خدا کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچتی ہے تو کیا میں اس روزے کے ذریعے احساس انسانیت اور تقویم عبدیت کی منزل کو پا سکتا ہوں؟ کیا میں رضائے الٰہی کا سزاوار ہو پاؤں گا؟ اگر نہیں تو مجھ سمیت سب کو بطور سماج اور بطور ایک امت کے رمضان سے متعلق اپنے رویوں پہ ایک بار نظرثانی کرنا پڑے گا تاکہ ہم اپنے روزوں کو محض بھوک اور پیاس کی کیفیت سے آگے بڑھتے ہوئے درجہ عبادت تک پہنچنے کے قابل بنا سکیں۔

آئیے اس رمضان ہم سب اپنی ذات کی تربیت احساس انسانیت اور تقویم عبدیت کی سطور پہ کریں، یقین جانیں پورے سماج کی تربیت خود بہ خود ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *