مشال کے قتل کے چار سال بعد عبدالولی خان یونیورسٹی میں کون سی بات نہیں کرنی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مختار عالم کو پتہ نہیں تھا کہ آج ان کی زندگی میں ایک ایسا حادثہ ہونے والا ہے جس کی یاد عمر بھر اس کا پیچھا کرتی رہے گی۔ ان کی رات محفل موسیقی میں گزری، رات کے ایک بجے سوئے، صبح جاگے، کپڑے بدلے، پرفیوم لگایا اور کتابیں اٹھا کر کلاس لینے عبدالولی خان یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے لیکن پہنچتے ہی وہاں پر درس و تدریس کی بجائے کشیدگی کا سماں تھا۔

کچھ مشتعل طلبا نے اپنے ہم جماعت عبداللہ نامی لڑکے کو اپنی حصار میں لیا تھا اور ان پر یہ کہہ کر توہین مذہب کا الزام لگاتے رہے کہ چونکہ تم مشال خان کے قریبی دوست ہو لہذا تم بھی ”مرتد“ ہو۔

عبداللہ نے خوف کے عالم میں کرسی پر چڑھ کر باآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھا، پھر گویا ہوئے کہ ”میں الحمدللہ مسلمان ہوں، میرے والدین حال ہی میں عمرے کر کے لوٹے ہیں اور وہ باقاعدگی کے ساتھ تبلیغ پہ بھی آتے جاتے ہیں۔“ لیکن کچھ دیر ایک ایمبولینس آئی اور عبداللہ کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا۔

مختار عالم ناشتہ کرنے کینٹین کی طرف گئے کہ انہوں مشتعل طلبا کو ”غلام ہیں غلام ہیں، رسول کے غلام ہیں، گستاخ رسول کی سزا، سر تن سے جدا“ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا۔ ان کے بقول مشتعل طلبا میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن، اسلامی جمیعت طلبہ، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں کے علاوہ دیگر طالب علم بھی شامل تھے۔ مختار نے ایک مشتعل طالبعلم کو جذبات سے بپھرے حالت میں دیکھا جو پوچھ رہا تھا کہ کہاں ہے وہ مشال؟ کہاں ہے وہ گستاخ؟ مختار نے اس سے روک کر پوچھا کہ تم نے کبھی مشال کو دیکھا بھی ہے؟ اس نے کہا دیکھا تو نہیں ہے لیکن لوگ کہہ رہے کہ اس نے مذہب کی توہین کی ہے اس لئے میں اس کی تلاش میں ہوں۔

یونیورسٹی میں دھیرے دھیرے کشیدگی بڑھتی گئی۔ دسیوں طالب علموں پر مشتمل ایک اور جتھے نے یونیورسٹی ہاسٹل کا رخ کیا۔
مشال کے دوست فہیم عالم خان کو فون پر ایک میسج آتا ہے، جس سے پڑھتے ہی وہ حواس باختہ حالت میں ہاسٹل کا رخ کرتے ہیں۔

وہاں پہنچ کر دیکھتا ہے کہ مشتعل ہجوم مشال خان کی لاش کو مار مار کر سیڑھیوں سے لڑھکاتے ہیں۔ کوئی اس کے سر، کوئی کمر تو کوئی بدن کے کسی اور حصے پر گملا، پتھر اور لاٹھی مارتا ہے۔ مشال مکمل برہنہ ہو چکا ہے اور اس کا بدن لہولہان ہے۔ فہیم پر سکتہ طاری ہوتا ہے اور ذہن ماؤف ہوجاتا ہے۔

لیکن اس وقت تک باہر کی دنیا کو کوئی خبر نہیں کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں کیا المیہ جنم لے رہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں مشتعل ہجوم ایک شخص کو مار مار کر قتل کر رہا ہے۔

بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ مقتول جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے 23 سالہ نوجوان مشال خان ہیں جنہیں اس الزام کے تحت قتل کیا گیا ہے کہ بقول قاتلوں کے انہوں نے مذہب کی توہین کی ہے۔

لیکن انہیں جس پرتشدد اور ہیبت ناک انداز سے قتل کیا گیا اس نے پاکستان اور باہر کی دنیا میں سب کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ ان کے قتل کے خلاف مظاہرے ہوئے، کسی نے اس کی یاد میں شمع جلائیں تو کسی نے یادگار بنائی۔

لیکن پاکستان میں مذہبی جماعتوں اور انتہا پسند مذہبی سوچ رکھنے والوں نے برعکس ان کے قاتلوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا مشال خان کی شخصیت، افکار اور قتل کی وجوہات کے بارے میں مصدقہ معلومات دستیاب ہوتی گئیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی بنائی جس کی رپورٹ جون دو ہزار سترہ میں منظر عام پر آئی جس میں کہا گیا تھا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنیاد پر یہ ثابت کیا جاسکتا ہو کہ مشال خان نے مذہب کی توہین کی ہے۔ دوسرے معنوں میں تحقیقات میں مشال خان کو بے گناہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں یونیورسٹی انتظامیہ کے چند اہلکاروں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اس لئے مشال خان کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی کہ وہ یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کرپشن کے متعلق آواز اٹھاتا تھا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر مشال کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث 61 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جنہیں بعد میں گرفتار کیا گیا۔

ایک سال تک جاری رہنے والی سماعتوں کے بعد انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تینتیس ملزمان کو سزا سنا دی۔ قتل کے اہم ملزم عمران علی کو سزائے موت سنائی گئی مگر اپیل کے بعد نومبر دو ہزار بیس میں پشاور ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔

مشال خان کے قتل کے چار سال پورے ہوچکے ہیں، تحقیقات نے انہیں بے گناہ ثابت کیا ہے، عدالتوں نے مجرموں کو سزا تک سنائی ہوئی ہے لیکن آج بھی ان کی چوتھی برسی کے موقع پر عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم، اساتذہ اور انتظامی اہلکار ان کے قتل کے واقعے پر خوف کے مارے بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔

ان کی چوتھی برسی کی مناسبت سے جب میں مشال ریڈیو کے کیے ان کے قتل کا یونیورسٹی پر ہوئے اثرات کے بارے میں یہ خصوصی رپورٹ مرتب کر رہا تھا تو کئی طالب علموں اور اہلکاروں نے اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

لگ بھگ دس دن کی کوششوں کے بعد میں محض دو طالب علموں سے بات کرنے میں کامیاب ہوا جن میں ایک اب بھی زیر تعلیم اور ایک حال ہی میں فارغ ہوچکے ہیں۔

جن طالب علموں نے بات کرنے سے انکار کیا، ان کا کہنا تھا کہ مشال خان کی ہلاکت کے بعد یونیورسٹی بقول ان کے ”چھاؤنی“ میں بدل ہو چکی ہے، جہاں پر مکالمے، بحث اور اظہار و بیان کی آزادی تقریباً ناپید ہے اور تنقیدی شعور معدوم ہوتا جا رہا ہے۔

مشال خان کی ہلاکت کے بعد ان کے خلاف مذہبی حلقوں کی طرف سے جو بیانیہ مرتب ہوا وہ اتنا زوردار تھا کہ بقول طالب علموں کے یونیورسٹی میں مذہب پر فلسفیانہ انداز میں بات کی ہی نہیں جا سکتی۔

حال ہی میں عبدالولی خان یونیورسٹی سے پشتو میں ایم اے کرنے والے شاعر احسان اللہ زریان کو ایسے ہی صورت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب انہوں نے اپنی ایک غزل میں مذہب کے حوالے سے ایک شعر لکھا۔

شعر میں ان لوگوں پر تنقید کی گئی تھی جو مذہب کو بطور کاروبار استعمال کرتے ہیں۔
اس پر انہیں دھمکیاں دی گئیں اور مجبور ہو کر انہوں نے اس شعر کو غزل سے حذف کر دیا۔

انہوں نے بتایا ”مشال خان کی موت کے بعد ایسی باتیں ایک باہمت شخص ہی کر سکتا ہے۔ لڑکے جب دیکھتے ہیں کہ ان کا نقطہ نظر دوسرے سے مختلف ہے تو وہ شعوری طور پر کوشش کرتے ہیں کہ اپنی سوچ کا اظہار نہ کریں۔“

مشال کے قتل نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر عبدالولی خان یونیورسٹی کو کافی بدنام کر دیا تھا۔ بدنامی اور دباؤ کی وجہ سے یونیورسٹی نے آئندہ اس قسم کے واقعے کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کیے۔

میں نے اس سلسلے میں یونیورسٹی کے کئی اہلکاروں کو بارہا فون کیا اور وٹس ایپ پر پیغامات بھیجے لیکن کوئی بھی بات کرنے پر تیار نہیں ہوا۔

البتہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی میں سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے اور تقریباً 20 کے قریب سٹوڈنٹس سوسائٹیز بنائی گئی ہیں جن کے ذریعے ذہین اور قابل طلباء کو مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھا جاتا ہے تاکہ انہیں سیاسی تنظیموں اور سرگرمیوں سے دور رکھا جا سکے۔

اہلکار کے بقول، یونیورسٹی کی سطح پر 120 کے قریب پراکٹرز یا نگران کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کا کام دن بھر کے واقعات کا احوال یونیورسٹی کے چیف پراکٹر کو دینا ہوتا ہے، ہر کلاس میں ایک ”بس اعتبار“ طالب علم کو نگران طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

”یہ نگران دن بھر کی سرگرمیوں کو رپورٹ کرتے ہیں، کون بغیر کارڈ کے یونیورسٹی آیا ہے، کون سا لڑکا کس لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا، کس نے استاد یا لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کی اور یہاں تک کہ ان پراکٹرز کو یہ کام بھی سونپا گیا ہے کہ کوئی یونیورسٹی کی عمارت کو نقصان نہ پہنچائے۔ غرض پراکٹرز یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔“

پراکٹرز کی رپورٹوں کی بنیاد پر طالب علموں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور ان سے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔ اگر الزام سنگین ہو تو اس کیس کو یونیورسٹی کی انضباطی کمیٹی کے سامنے رکھا جاتا ہے۔

میری جن طالب علموں سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ مشال خان کی قتل کے بعد یونیورسٹی میں بیوروکریسی کے ہاتھ کافی مضبوط ہوچکے ہیں اور بقول ان کے جامعہ ”جیل خانے“ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

وہ پراکٹرز یا نگران کمیٹیوں کو ”جاسوسی نیٹ ورک“ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی پرائیویسی اور شخصی آزادی سلب ہو چکی ہے۔

یونیورسٹی کی ایک طالبہ نمرا کہتی ہیں کہ اگر کوئی استاد اچھے طریقے سے نہیں پڑھاتے تو وہ ان کے خلاف شکایت کرنے سے ڈرتے ہیں۔ نمرا کے لئے مشال کی موت یونیورسٹی میں کھلے عام بحث اور اظہار نہ کرنے کی ایک مثال ہے۔

مشال خان کی ہلاکت کے بعد یونیورسٹی ایک ماہ تک بند رہنے کے بعد دوبارہ کھل گئی تھی۔
مشال کے قریبی دوستوں نے خوف کے مارے کسی دوسرے یونیورسٹی میں مائگریشن کا ارادہ کیا تھا۔

مشال خان کے قریبی دوست فہیم عالم خان نے مشال کی موت کے بعد دو مہینے تک خوف کے مارے خود کو گھر میں بند کر دیا تھا۔

”میں جب تھوڑی دیر کے لئے اگر گھر سے نکلتا بھی تو ہر گزرنے والے شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھتا“

یونیورسٹی کھلنے کے بعد جب فہیم کلاس لینے گئے تو ان کے پہلو میں وہ طالب علم بھی بیٹھے تھے جن پر مشال کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام تھا لیکن عدم ثبوت کی بنا پر وہ گرفتاری سے بچ چکے تھے۔

” یہ لڑکے میرے ساتھ قریبی کرسی پر بیٹھتے جس سے مجھے بہت کوفت ہوتی تھی“

آمنہ خان شاید وہ پہلی طالبہ تھیں جنہوں نے مشال کی ہلاکت کے کچھ دیر بعد اپنی فیس بک پیج پر مشال کی تصویر لگا لی لیکن اس وقت تک مشال کے توہین مذہب کا اتنا پروپیگنڈا ہو چکا تھا کہ تصویر پر دھمکی آمیز اور الزامات سے بھرپور تبصروں کی بھرمار شروع ہوئی۔

بعد میں آمنہ جب بھی گھر سے یونیورسٹی جانے کے لئے نکلتی تو والدین انہیں کسی سے بات نہ کرنے کی تلقین کرتے۔

وہ بتاتی ہیں ”میں نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ ختم کر دیا، جب بھی کوئی کسی چیز کے بارے میں پوچھتا تو میں جواب میں کہتی کہ مجھے نہیں معلوم۔ دوست کو دوست سے ڈر تھا کیونکہ مشال کا قتل بھی دوستوں کی آپس کی گفتگو کی وجہ سے ہوئی تھی۔ کوئی کہتا کہ میں جب ان کے ساتھ تھا تو انہوں نے یہ کہا، دوسرا کہتا کہ میرے سامنے انہوں نے یہ بات کہی۔ اس لئے ایک دوست دوسرے دوست سے خوفزدہ رہتا۔“

مشال خان کے خلاف مردان کی مذہبی جماعتوں نے جو تحریک چلائی تھی اور اس کے خلاف توہین مذہب کا جو بیانیہ کھڑا کیا گیا تھا اس نے یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی شدید انداز میں متاثر کیا۔

لیکن ضیا اللہ ہمدرد وہ واحد استاد تھے جنہوں نے ببانگ دہل مشال خان پر توہین مذہب کے الزام کی تردید کی اور جیو ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کے بارے میں تمام حقائق منظر عام پر لائے۔ بعد میں وہ گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے اور زندگی کو درپیش خطرے کی وجہ سے پولیس نے انہیں ایک خفیہ مقام پر رکھا۔ وہ آج کل لندن میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

انہوں نے مجھے بتایا کہ مشال کے قتل کے بعد خوف کے مارے ہر طرف خاموشی پھیل گئی اور انہوں نے بحیثیت استاد اور ایک ذمہ دار شخص کے اس خاموشی کو توڑنے اور مشال کی بے گناہی کے لئے بات کرنے کا کٹھن فیصلہ کیا۔

ان کا دعوی ہے کہ یونیورسٹی کے ننانوے فیصد اساتذہ نے خاموشی اختیار کرلی تھی لیکن ان سے اتنی امید تو کی جا سکتی تھی کہ کم از کم مشال کے قتل کی مذمت کریں اور ان کے گھر جاکر والدین کے ساتھ تعزیت کریں لیکن وہ یہ بھی نہ کرپائے۔

مختار عالم بھی یونیورسٹی واپس آئے لیکن اب وہ خوف اور گھٹن محسوس کر رہا تھا۔ انہوں نے یونیورسٹی سے مائیگریشن کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بقول ان کے خدا بھلا کرے کہ دو اساتذہ کا جن کی وجہ سے انہوں نے یونیورسٹی بدلنے کا ارادہ بدل دیا۔

ان اساتذہ میں صحافی عبدالروف یوسفزئی بھی تھے جو آج کل امریکہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب 2018 میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں بطور استاد تعینات ہوئے تو ان کا خیال تھا کہ شاید لوگ مشال خان کے واقعے کو بھول چکے ہوں گے لیکن انہوں نے معاملہ اس کے برعکس دیکھا۔

ان کے بقول، ڈیپارٹمنٹ میں خوف اور گھٹن کا ماحول تھا۔ عبدالروف یوسفزئی نے خوف کی فضا کو ختم کرنے اور طلبا کے درمیان بحث و مباحثے کا کلچر بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے سوچا کہ اس کا آغاز ایسی کتابوں پر تبصرہ سے کیا جانا چاہیے جن کے موضوعات حساس نوعیت کے نہ ہو۔

”ان مباحثوں میں وہ لڑکے بھی حصہ لیا کرتے تھے جن پر مشال خان کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام تھا۔ میں ان سے کہتا کہ تم لوگوں نے کیوں انہیں مار مار کر قتل کیا؟ یہ کام تو تم لوگ قانونی طریقے سے بھی کر سکتے تھے، کسی وکیل کو پیسے دیتے اور عدالت کے ذریعے انہیں سزا دلواتے۔“

لیکن جب رؤف یوسفزئی نے ایسے بحث کا آغاز کیا تو کچھ طلبا ان کے پاس گئے۔ وہ کہتے کہ آپ کی باتوں میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ کبھی کبھار ہم آپ کے بارے میں فکر مند ہو جاتے ہیں۔

”میں ان سے کہا کرتا تھا کہ ہم نے خوف کے اس فضا کو توڑنا ہے اور ہمیں تواتر کے ساتھ ان موضوعات پر بات کرنی چاہیے۔ اس طرح ہم نے دھیرے دھیرے ایک حد تک اس جمود کو توڑ دیا“

لیکن یونیورسٹی انتظامی اہلکار کا دعوی ہے کہ انہوں نے اس قسم کے ماحول کو پروان نہیں چڑھایا ہے۔

ان کے کے بقول مذہبی جنونیت نے تو صرف یونیورسٹی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مشال کی موت کے بعد لوگ اپنے طور پر محتاط ہوچکے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ کون سی بات کرنی ہے اور کون سی نہیں۔

یونیورسٹی اہلکار ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ سخت اقدامات کی وجہ سے یونیورسٹی کا تعلیمی معیار بہتر ہوا ہے۔ اس کے لئے وہ عالمی سطح پر یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرنے والے ہائر ایجوکیشن کا حوالہ دیتے ہیں جس نے 2020 میں تحقیق اور حوالہ جات کے حوالے سے پاکستان کی سطح پر عبدالولی خان یونیورسٹی کو بہترین قرار دیا تھا۔

( یہ رپورٹ پہلے پشتو زبان میں مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر شائع ہو چکی ہے لیکن ہم سب کے قارئین کی دلچسپی کے لئے اس کو اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالحئی کاکڑ

عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ ہیں

abdul-hai-kakar has 40 posts and counting.See all posts by abdul-hai-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *